صحيح البخاري
كتاب الذبائح والصيد— کتاب: ذبیح اور شکار کے بیان میں
بَابُ التَّصَيُّدِ عَلَى الْجِبَالِ: باب: اس بیان میں کہ پہاڑوں پر شکار کرنا جائز ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، وَأَبِي صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَيْنَ مَكَّةَ والْمَدِينَةِ وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَأَنَا رَجُلٌ حِلٌّ عَلَى فَرَسٍ وَكُنْتُ رَقَّاءً عَلَى الْجِبَالِ ، فَبَيْنَا أَنَا عَلَى ذَلِكَ إِذْ رَأَيْتُ النَّاسَ مُتَشَوِّفِينَ لِشَيْءٍ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ ، فَإِذَا هُوَ حِمَارُ وَحْشٍ ، فَقُلْتُ لَهُمْ : مَا هَذَا ؟ قَالُوا : لَا نَدْرِي ، قُلْتُ : هُوَ حِمَارٌ وَحْشِيٌّ ، فَقَالُوا : هُوَ مَا رَأَيْتَ ، وَكُنْتُ نَسِيتُ سَوْطِي ، فَقُلْتُ لَهُمْ : نَاوِلُونِي سَوْطِي ، فَقَالُوا : لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ ، فَنَزَلْتُ فَأَخَذْتُهُ ثُمَّ ضَرَبْتُ فِي أَثَرِهِ ، فَلَمْ يَكُنْ إِلَّا ذَاكَ حَتَّى عَقَرْتُهُ فَأَتَيْتُ إِلَيْهِمْ ، فَقُلْتُ لَهُمْ : قُومُوا فَاحْتَمِلُوا ، قَالُوا : لَا نَمَسُّهُ ، فَحَمَلْتُهُ حَتَّى جِئْتُهُمْ بِهِ ، فَأَبَى بَعْضُهُمْ وَأَكَلَ بَعْضُهُمْ ، فَقُلْتُ لَهُمْ أَنَا أَسْتَوْقِفُ لَكُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدْرَكْتُهُ فَحَدَّثْتُهُ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ لِي : " أَبَقِيَ مَعَكُمْ شَيْءٌ مِنْهُ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : " كُلُوا فَهُوَ طُعْمٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ " .´ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا ، انہیں عمرو نے خبر دی ، ان سے ابوالنضر نے بیان کیا ، ان سے ابوقتادہ کے غلام نافع اور توامہ کے غلام ابوصالح نے کہ انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` میں مکہ اور مدینہ کے درمیان راستے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ۔ دوسرے لوگ تو احرام باندھے ہوئے تھے لیکن میں احرام میں نہیں تھا اور ایک گھوڑے پر سوار تھا ۔ میں پہاڑوں پر چڑھنے کا بڑا عادی تھا پھر اچانک میں نے دیکھا کہ لوگ للچائی ہوئی نظروں سے کوئی چیز دیکھ رہے ہیں ۔ میں نے جو دیکھا تو ایک گورخر تھا ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا ہمیں معلوم نہیں ! میں نے کہا کہ یہ تو گورخر ہے ۔ لوگوں نے کہا کہ جو تم نے دیکھا ہے وہی ہے ۔ میں اپنا کوڑا بھول گیا تھا اس لیے ان سے کہا کہ مجھے میرا کوڑا دے دو لیکن انہوں نے کہا کہ ہم اس میں تمہاری کوئی مدد نہیں کریں گے ( کیونکہ ہم محرم ہیں ) میں نے اتر کر خود کوڑا اٹھایا اور اس کے پیچھے سے اسے مارا ، وہ وہیں گر گیا پھر میں نے اسے ذبح کیا اور اپنے ساتھیوں کے پاس اسے لے کر آیا ۔ میں نے کہا کہ اب اٹھو اور اسے اٹھاؤ ، انہوں نے کہا کہ ہم اسے نہیں چھوئیں گے ۔ چنانچہ میں ہی اسے اٹھا کر ان کے پاس لایا ۔ بعض نے تو اس کا گوشت کھایا لیکن بعض نے انکار کر دیا پھر میں نے ان سے کہا کہ اچھا میں اب تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رکنے کی درخواست کروں گا ۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ سے واقعہ بیان کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس اس میں سے کچھ باقی بچا ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ۔ فرمایا کھاؤ کیونکہ یہ ایک کھانا ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم کو کھلایا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
یہی باب سے مطابقت ہے۔
توامہ وہ لڑکی جو جڑواں پیدا ہو۔
یہ امیہ بن خلف کی بیٹی تھی جو اپنے بھائی کے ساتھ جڑواں پیدا ہوئی تھی۔
اس لیے اس کا یہی نام پڑ گیا۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شکار کے لیے پہاڑوں پر چڑھنا، وہاں اپنا گھوڑا دوڑانا اور مشقت اٹھانا جائز ہے۔
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ پہاڑوں پر چڑھنے کے بہت ماہر تھے۔
یہ شکار بھی انہوں نے پہاڑ پر کیا۔
(2)
پہاڑوں پر چڑھ کر اگرچہ شکار کا جواز اس حدیث سے ملتا ہے لیکن بہرحال پہاڑ پر چڑھنا اور وہاں شکار کے پیچھے بھاگ دوڑ کرنا خطرات سے خالی نہیں ہے، لہذا جواز کی حد تک درست ہے، مگر یہ مشغلہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ فرائض و واجبات کی ادائیگی میں سستی کا سبب بن جائے، اگر ایسا ہو تو شکار کے لیے پہاڑوں پر چڑھنے کا تکلف نہیں کرنا چاہیے۔
واللہ أعلم
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ آپ جب مکے کا کچھ راستہ طے کر چکے تو وہ اپنے بعض محرم ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے جب کہ ابوقتادہ خود غیر محرم تھے، اسی دوران انہوں نے ایک نیل گائے دیکھا، تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے درخواست کی کہ وہ انہیں ان کا کوڑا اٹھا کر دے دیں تو ان لوگوں نے اسے انہیں دینے سے انکار کیا۔ پھر انہوں نے ان سے اپنا نیزہ مانگا۔ تو ان لوگوں نے اسے بھی اٹھا کر دینے سے انکار کیا تو انہوں نے اسے خود ہی (اتر کر) اٹھا لیا اور شکار کا پیچھا کیا اور اسے مار ڈالا،۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 847]
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خشکی کا شکار اگر کسی غیر احرام والے نے اپنے لیے کیا ہو اور محرم نے کسی طرح کا تعاون اس میں نہ کیا ہو تو اس میں اسے محرم کے لیے کھانا جائز ہے، اور اگر کسی غیر محرم نے خشکی کا شکار محرم کے لیے کیا ہو یا محرم نے اس میں کسی طرح کا تعاون کیا ہو تو محرم کے لیے اس کا کھانا جائز نہیں۔
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، مکہ کا راستہ طے کرنے کے بعد اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ جو احرام باندھے ہوئے تھے وہ پیچھے رہ گئے، انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا، پھر اچانک انہوں نے ایک نیل گائے دیکھا تو اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور ساتھیوں سے کوڑا مانگا، انہوں نے انکار کیا، پھر ان سے برچھا مانگا تو انہوں نے پھر انکار کیا، پھر انہوں نے نیزہ خود لیا اور نیل گائے پر حملہ کر کے اسے مار ڈالا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ساتھیوں نے اس میں سے کھایا اور بعض نے انکار کیا، جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر ملے تو آپ سے اس بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ ایک کھانا تھا جو اللہ نے تمہیں کھلایا۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1852]
➋ جب کوئی شکاری صرف اپنے لئے شکار کرے تو محرمین کو اس سے کھا لینا جائز ہے۔
➌ صحیح احادیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی اس کا بقیہ گوشت تناول فرمایا تھا۔(صحیح المسلم الحج۔حدیث 119
➐ 1196]
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ (حج کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے یہاں تک کہ وہ مکہ کے راستہ میں احرام باندھے ہوئے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے، اور وہ خود محرم نہیں تھے (وہاں) انہوں نے ایک نیل گائے دیکھی، تو وہ اپنے گھوڑے پر جم کر بیٹھ گئے، پھر انہوں نے اپنے ساتھیوں سے درخواست کی وہ انہیں ان کا کوڑا دے دیں، تو ان لوگوں نے انکار کیا تو انہوں نے خود ہی لے لیا، پھر تیزی سے اس پر جھپٹے، اور اسے مار گرایا، تو اس م۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2818]
(2) ”وہ محرم نہیں تھے“ دراصل آپ نے انھیں کسی اور کام پر بھیجا تھا۔
(3) ”انھوں نے انکار کیا“ کیونکہ محرم کے لیے شکار کرنا بھی منع ہے اور کسی شکار میں تعاون کرنا بھی حرام ہے۔
(4) اگر محرم نے خود شکار نہ کیا ہو اور نہ شکار ہی میں کچھ تعاون کیا ہو تو وہ محرم اس شکار کا گوشت کھا سکتا ہے بشرطیکہ شکار کرنے والا اور ذبح کرنے والا حلال ہو، محرم نہ ہو۔ بعض دوسری احادیث میں یہ شرط بھی ہے کہ شکار کرنے والے شخص نے وہ شکار محرم کے لیے نہ کیا ہو بلکہ اپنے لیے کیا ہو، بعد میں وہ بطور تحفہ محرم کو دے تو وہ کھا سکتا ہے۔ دیکھیے: (مسند احمد: 5/ 302، وجامع الترمذي، الحج، حدیث: 849) یہ احادیث صحیح ہیں، لہٰذا یہ شرط بھی ضروری ہے۔ احناف بلا وجہ اس شرط کو ضروری نہیں سمجھتے مگر اس طرز عمل سے بہت سی احادیث عمل سے رہ جائیں گی جو یقینا غیر مناسب بات ہے۔ ہر صحیح حدیث واجب العمل ہے۔
(5) اجتہاد کا دروازہ قیامت تک کھلا ہے۔
(6) مجتہد اپنے اجتہاد کے مطابق عمل کرے گا اگرچہ اس کی رائے کی مخالفت کی گئی ہو۔
(7) جب کسی مسئلے میں اختلاف واقع ہو جائے تو نص کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
اس صورت میں یہ مشغلہ بہتر نہ ہوگا۔
شکار کھیلنے والا انسان آزاد ہوتا ہے۔
نماز باجماعت سے محرومی کے علاوہ علماء اور نیک لوگوں کی صحبت سے بھی محروم رہتا ہے۔
اس کا نتیجہ غفلت، بے رحمی اور قساوت قلب کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جو خسارے اور گھاٹے کا سودا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں شکار کے احکام بیان کیے ہیں وہاں آخر میں فرمایا ہے: ’’اللہ سے ڈرتے رہو۔
بےشک اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔
‘‘ اس لیے حسب طلب و ضرورت شکار کرنا اور اس کی تلاش میں نکلنا معیوب نہیں، البتہ معیوب یہ امر ہے کہ انسان دینی اور دنیوی فرائض سے غافل ہو جائے۔
واللہ أعلم
«. . . عن عطاء بن يسار حدثه عن ابى قتادة فى الحمار الوحشي مثل حديث ابى النضر، إلا ان حديث زيد بن اسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”هل معكم من لحمه شيء؟ . . .»
”. . . عطاء بن یسار سے روایت ہے، انہوں نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے وحشی گدھے (گورخر) کے بارے میں ابوالنضر جیسی حدیث بیان کی سوائے اس کے کہ زید بن اسلم کی (روایت کردہ) حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اس کے گوشت میں سے کوئی چیز ہے؟ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 406]
تفقہ:
① زید بن اسلم تابعی والی یہی روایت ہے جسے انہوں نے عطاء بن یسار سے اور عطاء بن یسار نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے۔ ابوالنضر والی روایت آگے آ رہی ہے۔ [ح 426] ان شاء اللہ
② گورخر ایک چرنے والا جانور ہے جو حلال ہے، اسے نیل گائے بھی کہتے ہیں۔
③ ایک روایت کی سند ضعیف ہو اور اس کے متن کی بعینہ تائید دوسری صحیح روایت سے ہو تو یہ روایت بھی صحیح ہوجاتی ہے، اسے صحیح لغیرہ کہتے ہیں۔
(1)
اس حدیث کا آغاز بایں الفاظ ہے کہ رسول اللہ ﷺ حج کی نیت سے عازم سفر ہوئے، یہ کسی راوی کو وہم ہوا ہے کیونکہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ جم غفیر تھا اور ان میں سے کوئی ساحل سمندر کے راستے سے نہیں گیا بلکہ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ آنے کے لیے جو شاہراہ عام تھی اسی پر چلتے رہے۔
یہ عمرۂ حدیبیہ کا واقعہ ہے جیسا کہ خود حضرت ابو قتادہ ؓ سے اس کی وضاحت مروی ہے۔
اگر حج کو لغوی معنی میں لیا جائے تو صحیح ہے کیونکہ اس کے معنی قصد کرنے کے ہیں، عمرے میں بھی بیت اللہ کا قصد ہوتا ہے۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ محرم کے لیے جائز نہیں کہ وہ غیر محرم کو شکار کی نشاندہی کرے یا اس کی طرف اشارہ کرے۔
اگر کسی نے شکار کی طرف اشارہ کر دیا اور غیر محرم نے اسے شکار کر لیا تو محرم کے لیے اس کا کھانا جائز نہیں لیکن محرم پر اس سلسلے میں کوئی تاوان نہیں ہو گا جیسا کہ امام مالک اور امام شافعی ؒ کا موقف ہے۔
(فتح الباري: 39/4)
واللہ أعلم (3)
محرم کے لیے شکار کرنا جائز نہیں۔
ہاں، اگر شکاری جانور محرم پر حملہ کر دے اور وہ اپنا دفاع کرتے ہوئے اسے مار دے تو اس صورت میں بھی اس پر کوئی تاوان نہیں ہو گا۔
(فتح الباري: 41/4)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حالت احرام میں تمام ممنوع کام سے کلی اجتناب کرنا چاہیے تا کہ حج وعمرے کا ثواب حاصل ہو، اگر ان شرائط کی پابندی نہ کی تو حج و عمرہ بے فائدہ رہے گا۔ نیز اس حدیث میں اتباع قرآن و حدیث کو لازم پکڑنے پر زبردست دلیل ہے۔ مومن کو نہ صرف سفر حج یا سفر عمرہ میں اتباع قرآن و حدیث کرنی چاہیے، بلکہ زندگی کے تمام شعبوں میں قرآن و حدیث کوملحوظ رکھنا چاہیے۔