صحيح البخاري
كتاب مواقيت الصلاة— کتاب: اوقات نماز کے بیان میں
بَابُ وَقْتِ الْعَصْرِ: باب: نماز عصر کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 548
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ ، ثُمَّ يَخْرُجُ الْإِنْسَانُ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَنَجِدُهُمْ يُصَلُّونَ الْعَصْرَ " .مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا ، وہ امام مالک رحمہ اللہ علیہ سے ، انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے روایت کیا ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو روایت کیا ، انہوں نے فرمایا کہ` ہم عصر کی نماز پڑھ چکتے اور اس کے بعد کوئی بنی عمرو بن عوف ( قباء ) کی مسجد میں جاتا تو ان کو وہاں عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پاتا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
548. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم (رسول اللہ ﷺ کے ساتھ) نماز عصر پڑھ لیتے، فراغت کے بعد کوئی شخص قبیلہ عمرو بن عوف تک جاتا تو انہیں وہاں نماز عصر میں مصروف پاتا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:548]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام نووی ؒ قبیلۂ عمرو بن عوف کی مدینے سے دوری اور نماز عصر کو دیر سے ادا کرنے کے متعلق فرماتے ہیں کے قبیلۂ عمرو بن عوف مدینہ طیبہ سے تقریباً دومیل کے فاصلے پرتھا۔
چونکہ وہ اپنے کاموں اور کھیتی باڑی میں مشغول رہتے تھے، اس لیے نماز عصر کو اوسط وقت میں پڑھا کرتے تھے۔
(فتح الباري: 38/2) (2)
یہ حدیث بھی نماز عصر کے اول وقت، یعنی ایک مثل سائے میں پڑھ لینے پر دلالت کرتی ہے، جیسا کہ امام نووی ؒ اس حدیث کے تحت بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث احناف کے خلاف حجت ہے جن کا موقف ہے کہ جب تک کسی چیز کا سایہ دومثل نہ ہو جائے، نماز عصر کاوقت شروع نہیں ہوتا۔
علامہ عینی ؒ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ تمام احناف کا یہ موقف ہے۔
صرف اسد بن عمرو، امام ابو حنیفہ ؒ سے یہ موقف بیان کرنے میں منفرد ہے۔
اس کے علاوہ حضرت حسن ان سے روایت کرتے ہیں کہ عصر کا وقت ایک مثل سایہ ہونے پر شروع ہو جاتا ہے۔
یہی قول ابو یوسف، محمد اور زفر کا ہے۔
امام طحاوی ؒ نے بھی اسی کو پسند کیا ہے۔
(عمدة الأحکام: 44/4)
لیکن عصر حاضر میں احناف کا عمل دومثل والے موقف پر ہی ہے۔
(1)
امام نووی ؒ قبیلۂ عمرو بن عوف کی مدینے سے دوری اور نماز عصر کو دیر سے ادا کرنے کے متعلق فرماتے ہیں کے قبیلۂ عمرو بن عوف مدینہ طیبہ سے تقریباً دومیل کے فاصلے پرتھا۔
چونکہ وہ اپنے کاموں اور کھیتی باڑی میں مشغول رہتے تھے، اس لیے نماز عصر کو اوسط وقت میں پڑھا کرتے تھے۔
(فتح الباري: 38/2) (2)
یہ حدیث بھی نماز عصر کے اول وقت، یعنی ایک مثل سائے میں پڑھ لینے پر دلالت کرتی ہے، جیسا کہ امام نووی ؒ اس حدیث کے تحت بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث احناف کے خلاف حجت ہے جن کا موقف ہے کہ جب تک کسی چیز کا سایہ دومثل نہ ہو جائے، نماز عصر کاوقت شروع نہیں ہوتا۔
علامہ عینی ؒ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ تمام احناف کا یہ موقف ہے۔
صرف اسد بن عمرو، امام ابو حنیفہ ؒ سے یہ موقف بیان کرنے میں منفرد ہے۔
اس کے علاوہ حضرت حسن ان سے روایت کرتے ہیں کہ عصر کا وقت ایک مثل سایہ ہونے پر شروع ہو جاتا ہے۔
یہی قول ابو یوسف، محمد اور زفر کا ہے۔
امام طحاوی ؒ نے بھی اسی کو پسند کیا ہے۔
(عمدة الأحکام: 44/4)
لیکن عصر حاضر میں احناف کا عمل دومثل والے موقف پر ہی ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 548 سے ماخوذ ہے۔