صحيح البخاري
كتاب العقيقة— کتاب: عقیقہ کے مسائل کا بیان
بَابُ تَسْمِيَةِ الْمَوْلُودِ غَدَاةَ يُولَدُ، لِمَنْ لَمْ يَعُقَّ عَنْهُ، وَتَحْنِيكِهِ: باب: اگر بچے کے عقیقہ کا ارادہ نہ ہو تو پیدائش کے دن ہی اس کا نام رکھنا اور اس کی تحنیک کرنا جائز ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ ، قَالَتْ : فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ قُبَاءً فَوَلَدْتُ بِقُبَاءٍ ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهُ فِي حَجْرِهِ ، ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا ، ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ دَخَلَ جَوْفَهُ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ حَنَّكَهُ بِالتَّمْرَةِ ثُمَّ دَعَا لَهُ فَبَرَّكَ عَلَيْهِ وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ ، فَفَرِحُوا بِهِ فَرَحًا شَدِيدًا لِأَنَّهُمْ قِيلَ لَهُمْ : إِنَّ الْيَهُودَ قَدْ سَحَرَتْكُمْ فَلَا يُولَدُ لَكُمْ " .´ہم سے اسحاق بن نضر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما مکہ میں ان کے پیٹ میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ پھر میں (جب ہجرت کے لیے) نکلی تو وقت ولادت قریب تھا۔ مدینہ منورہ پہنچ کر میں نے پہلی منزل قباء میں کی اور یہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پیدا ہو گئے، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بچہ کو لے کر حاضر ہوئی اور اسے آپ کی گود میں رکھ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور طلب فرمائی اور اسے چبایا اور بچہ کے منہ میں اپنا تھوک ڈال دیا۔ چنانچہ پہلی چیز جو اس بچہ کے پیٹ میں گئی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تھوک مبارک تھا پھر آپ نے کھجور سے تحنیک کی اور اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ یہ سب سے پہلا بچہ اسلام میں (ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں) پیدا ہوا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس سے بہت خوش ہوئے کیونکہ یہ افواہ پھیلائی جا رہی تھی کہ یہودیوں نے تم (مسلمانوں) پر جادو کر دیا ہے۔ اس لیے تمہارے یہاں اب کوئی بچہ پیدا نہیں ہو گا۔
تشریح، فوائد و مسائل
یہودیوں کی اس بکواس سے کچھ مسلمانوں کو رنج بھی تھا جب یہ بچہ پیدا ہوا تو مسلمانوں نے خوشی میں اس روز سے نعرہ تکبیر بلند کیا کہ سارا مدینہ گونج اٹھا۔
(دیکھو شرح وحیدی)
(1)
ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں مہاجرین کی اولاد میں سب سے پہلے جنم لینے والے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ تھے، ورنہ ہجرت کے بعد ان سے پہلے انصار میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ پیدا ہو چکے تھے۔
(2)
جب مہاجرین مدینہ طیبہ آئے تو ان کے ہاں کوئی نرینہ اولاد پیدا نہ ہوئی۔
یہ افواہ بڑی تیزی سے پھیلی کہ یہودیوں نے مسلمانوں کی نسل بندی کے لیے جادو کرایا ہے۔
یہودیوں کی اس بکواس سے مسلمانوں کو رنج بھی تھا۔
جب یہ بچہ پیدا ہوا تو مسلمانوں نے خوشی میں اتنے زور سے نعرۂ تکبیر بلند کیا کہ سارا مدینہ گونج اٹھا۔
(فتح الباري: 729/8) (3)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا نام ولادت کے بعد ہی رکھا گیا تھا۔
ان کا عقیقہ نہیں ہوا بصورت دیگر اس کا ضرور ذکر ہوتا۔
اگر عقیقہ نہ کرنا ہو تو نام رکھنے کے متعلق ساتویں دن کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
واللہ أعلم
رسول اللہ ﷺ جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ نے حضرت زید بن حارثہ ؓ کو مکے بھیجاتاکہ وہ آپ کی رفیقہ حیات حضرت سودہ بنت زمعہ ؓ دونوں صاحبزادیوں حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت ام کلثوم ؓ، ام ایمن ؓ اور ان کے بیتے حضرت اسامہ ؓ کو مکے سے مدینے لے آئیں۔
ان کے ساتھ حضرت عبداللہ بن ابی بکر ؓ، ان کی والدہ ماجدہ حضرت ام رومان ؓ اور دونوں بہنیں حضرت عائشہ ؓ اور حضرت اسماء ؓ بھی تشریف لائیں۔
اس وقت رسول اللہ ﷺ مسجد نبوی کی تعمیر میں مصروف تھے۔
یہ حالات اور حضرت اسماء ؓ کا کہنا کہ میں نے مقام قباء میں حضرت عبدللہ بن زبیر ؓ کو جنم دیا، اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ ہجرت کے پہلے سال پیداہوئے۔
(فتح الباري: 311/7)
مدینہ طیبہ میں مہاجرین کے ہاں یہ پہلے مولود تھے۔
انصار میں ہجرت کے بعد پہلا بچہ مسلمہ بن مخلد اور حبشہ میں ہجرت کے بعد پہلا بچہ عبداللہ بن جعفر ؓ پیدا ہوا۔
جب عبداللہ بن زبیر ؓ پیدا ہوئے توانھیں دودھ پلانے سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا۔
آپ نے اس کا نام عبداللہ رکھا پھر جب وہ سات یاآٹھ برس کے ہوئے تو ان کے والد گرامی زبیر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا تا کہ آپ سے بیعت کریں رسول اللہ ﷺ نے تبسم فرماتے ہوئے انھیں بیعت کرلیا۔
(صحیح مسلم، الآداب، حدیث 5616(2146)
انا متم: میں ولادت کے دن پورے کرچکی تھی، یعنی حمل ٹھہرے نوماہ کا عرصہ گزرچکا تھا۔
فوائد ومسائل: مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد یہ بات پھیل گئی کہ یہودیوں نے مسلمانوں پر جادو کر دیا ہے، اس لیے ان کے ہاں بچہ پیدا نہیں ہو گا، اس لیے جب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو مسلمانوں کے ہاں انتہائی خوشی کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے یک زبان ہو کر زور سے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا، جس سے مدینہ گونج اٹھا۔