صحيح البخاري
كتاب الأطعمة— کتاب: کھانوں کے بیان میں
بَابُ إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ فَلاَ يَعْجَلْ عَنْ عَشَائِهِ: باب: شام کا کھانا حاضر ہو تو نماز کے لیے جلدی نہ کرے۔
حدیث نمبر: 5464
وَعَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ تَعَشَّى مَرَّةً وَهُوَ يَسْمَعُ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ .مولانا داود راز
´اور ایوب سے روایت ہے، ان سے نافع نے کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رات کا کھانا کھایا اور اس وقت آپ امام کی قرآت سن رہے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
5464. سیدنا ابن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے ایک مرتبہ کا کھانا کھایا جبکہ آپ امام کی قراءت سن رہے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5464]
حدیث حاشیہ: معلوم ہوا کہ کھانا اور جماعت ہر دو حاضر ہوں تو کھانا کھا لینا مقدم ہے ورنہ دل اس کی طرف لٹکا رہے گا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5464 سے ماخوذ ہے۔