مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 5453
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ نَجْنِي الْكَبَاثَ ، فَقَالَ : عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْهُ فَإِنَّهُ أَيْطَبُ ، فَقَالَ : أَكُنْتَ تَرْعَى الْغَنَمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا رَعَاهَا " .
مولانا داود راز

´ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا ، ان سے یونس نے ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا انہیں ابوسلمہ نے خبر دی ، کہا کہ مجھے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی ، انہوں نے بیان کیا کہ` ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام مرالظہران پر تھے ، ہم پیلو توڑ رہے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو خوب کالا ہو وہ توڑو کیونکہ وہ زیادہ لذیذ ہوتا ہے ۔ جابر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا آپ نے بکریاں چرائی ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأطعمة / حدیث: 5453
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3406 | صحيح مسلم: 2050

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
5453. سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم مرظہران میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ پیلو کا پھل چن رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو خوب سیاہ ہو اسے توڑو کیونکہ وہ لذیذ ہوتا ہے۔ آپ سے پوچھا گیا: کیا آپ نے بکریاں چرائی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5453]
حدیث حاشیہ: اس میں بڑی بڑی حکمتیں تھیں، جیسے پیغمبری کی وجہ سے غرور نہ آنا، دل میں شفقت پیدا ہونا، بکریاں چرا کر آدمیوں کی قیادت کرنے کی لیاقت پیدا کرنا۔
در حقیقت ہر نبی و رسول اپنی امت کا راعی ہوتا ہے اور امت بمنزلہ بکریوں کے ان کی رعیت ہوتی ہے۔
اس لیے یہ تمثیل بیان کی گئی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5453 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5453. سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم مرظہران میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ پیلو کا پھل چن رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو خوب سیاہ ہو اسے توڑو کیونکہ وہ لذیذ ہوتا ہے۔ آپ سے پوچھا گیا: کیا آپ نے بکریاں چرائی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5453]
حدیث حاشیہ:
(1)
بکریاں چرانے میں بڑی بڑی حکمتیں پنہاں ہیں: ایک یہ کہ دل میں غرور پیدا نہیں ہوتا، دوسرا دل میں شفقت اور ہمدردی کے جذبات امڈ آتے ہیں، تیسرے یہ کہ لوگوں کی قیادت کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، چوتھے سیاسی امور میں ترقی حاصل ہوتی ہے۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو پھل جنگلات میں ہوتے ہیں، اور ان کا کوئی مالک نہیں ہوتا، انہیں استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ اہل ورع، یعنی متقی اور پرہیزگار لوگ ایسے پھلوں کو بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔
واللہ أعلم۔
(3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بیہقی کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ واقعہ غزوۂ بدر کے موقع پر جمعہ کے دن پیش آیا جبکہ رمضان المبارک کے تیرہ دن باقی تھے۔
(دلائل النبوة للبیھقي، رقم: 1776، و فتح الباري: 713/9)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5453 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3406 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3406. حضرت جابر بن عبداللہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: ہم (ایک مرتبہ) رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ پیلو کا پھل چن رہے تھے تو آپ نے فرمایا: ’’سیاہ سیاہ دانے تلاش کرو کیونکہ وہ اچھے اور عمدہ ہوتے ہیں۔‘‘ لوگوں نے عرض کیا: آیا آپ نے بکریاں چرائی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ’’کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3406]
حدیث حاشیہ: اس حدیث میں چونکہ سب پیغبروں کاذکر ہے تو ان میں حضرت موسیٰ بھی آگئے بلکہ نسائی کی روایت میں حضرت موسیٰ کا ذکر صراحت کےساتھ موجود ہے۔
بکریاں ہرپیغمبر نےاس لیے چرائی ہیں کہ ان کے چرانے کےبعد پھر آدمیوں کے چرانے کاکام ان کو سونپا جاتاہے۔
بعض نےکہا اس لیے کہ لوگ یہ سمجھ لیں کہ نبوت اور پیغمبر اللہ کی دین ہےجسے وہ اپنے ناتواں بندوں کودیتا ہے یعنی چرواہوں کو، دنیا کرے مغرور لوگ اس سے محروم رہتے ہیں۔
قال في الفتح و المناسب بقصص موسیٰ من جھة عموم قوله وھل من نبي إلا وقد رعا ھا فدخل فیه موسی ٰ
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3406 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3406 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3406. حضرت جابر بن عبداللہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: ہم (ایک مرتبہ) رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ پیلو کا پھل چن رہے تھے تو آپ نے فرمایا: ’’سیاہ سیاہ دانے تلاش کرو کیونکہ وہ اچھے اور عمدہ ہوتے ہیں۔‘‘ لوگوں نے عرض کیا: آیا آپ نے بکریاں چرائی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ’’کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3406]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث کی باب سے مناسبت اس طرح ہے کہ موسیٰ ؑ ان لوگوں میں داخل ہیں جنھوں نے بکریاں چرائی ہیں بلکہ نسائی کی روایت میں صراحت ہے کہ موسیٰ ؑ کو بکریاں چرانے کے دوران میں ہی نبوت عطا کی گئی۔
(السنن الکبری للنسائي: 396/6۔
طبع دارالکتب العلمیة، بیروت)
اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ دنیا داروں اور متکبرین کو نبوت نہیں دیتا بلکہ تواضع وانکسار اختیار کرنے والوں اور بکریاں چرانے والوں کو نبوت سے نوازتا ہے۔

اس میں حکمت یہ ہے کہ منتشربکریوں کو جمع کر کے ایک نظم میں رکھنے سے امت کے مختلف افراد کو یکجا کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔
بہرحال تمام پیغمبروں کو بکریاں چرانے کا موقع فراہم کیا گیا تاکہ انھیں لوگوں کی نگہبانی کرنے کا طریقہ آجائے۔
(فتح الباري: 534/6)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3406 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2050 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم مقام مر الظهران میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہم پیلوں چن رہے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ان میں سے سیاہ کا انتخاب کرو‘‘ ہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! گویا آپ بکریاں چراتے رہے ہیں، آپﷺ نے فرمایا: ’’ہر ایک نبی نے ان کو چرایا ہے‘‘ یا اس قسم کی بات فرمائی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5349]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: جلیل القدر انبیاء علیہم السلام اپنی ابتدائی زندگی میں بکریاں چراتے رہے ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا انتظام اس لیے کیا گیا ہے کہ بکری ایک کمزور جانور ہے، جس کو چرانے کے لیے انسان کو صبر و تحمل اور پیار و شفقت کی ضرورت ہے، وہ اِدھر اُدھر بھاگتی ہے اور اس کو مختلف جگہوں میں لے جانا پڑتا ہے، اس لیے ریوڑ کو اکٹھا کرنے کے لیے چرواہے کو بھاگ دوڑ کرنا پڑتی ہے، لیکن وہ ان پر غصہ نہیں نکال سکتا، اس لیے ان کی چرانے کی صورت میں انسان کو تواضع و فروتنی اختیار کرنی پڑتی ہے اور ان کے مختلف طبائع کو سمجھنا اور اس کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے، اس طرح انبیاء ان کو اپنی امتوں کے ساتھ تواضع اور شفقت سے پیش آنے اور ان کو اکٹھا رکھنے کا تجربہ پہلے سے حاصل ہو جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2050 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔