صحيح البخاري
كتاب الأطعمة— کتاب: کھانوں کے بیان میں
بَابُ الْكَبَاثِ، وَهْوَ ثَمَرُ الأَرَاكِ: باب: کباث کا بیان اور وہ پیلو کے درخت کا پھل ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ نَجْنِي الْكَبَاثَ ، فَقَالَ : عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْهُ فَإِنَّهُ أَيْطَبُ ، فَقَالَ : أَكُنْتَ تَرْعَى الْغَنَمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا رَعَاهَا " .´ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا ، ان سے یونس نے ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا انہیں ابوسلمہ نے خبر دی ، کہا کہ مجھے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی ، انہوں نے بیان کیا کہ` ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام مرالظہران پر تھے ، ہم پیلو توڑ رہے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو خوب کالا ہو وہ توڑو کیونکہ وہ زیادہ لذیذ ہوتا ہے ۔ جابر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا آپ نے بکریاں چرائی ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
در حقیقت ہر نبی و رسول اپنی امت کا راعی ہوتا ہے اور امت بمنزلہ بکریوں کے ان کی رعیت ہوتی ہے۔
اس لیے یہ تمثیل بیان کی گئی۔
(1)
بکریاں چرانے میں بڑی بڑی حکمتیں پنہاں ہیں: ایک یہ کہ دل میں غرور پیدا نہیں ہوتا، دوسرا دل میں شفقت اور ہمدردی کے جذبات امڈ آتے ہیں، تیسرے یہ کہ لوگوں کی قیادت کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، چوتھے سیاسی امور میں ترقی حاصل ہوتی ہے۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو پھل جنگلات میں ہوتے ہیں، اور ان کا کوئی مالک نہیں ہوتا، انہیں استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ اہل ورع، یعنی متقی اور پرہیزگار لوگ ایسے پھلوں کو بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔
واللہ أعلم۔
(3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بیہقی کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ واقعہ غزوۂ بدر کے موقع پر جمعہ کے دن پیش آیا جبکہ رمضان المبارک کے تیرہ دن باقی تھے۔
(دلائل النبوة للبیھقي، رقم: 1776، و فتح الباري: 713/9)
بکریاں ہرپیغمبر نےاس لیے چرائی ہیں کہ ان کے چرانے کےبعد پھر آدمیوں کے چرانے کاکام ان کو سونپا جاتاہے۔
بعض نےکہا اس لیے کہ لوگ یہ سمجھ لیں کہ نبوت اور پیغمبر اللہ کی دین ہےجسے وہ اپنے ناتواں بندوں کودیتا ہے یعنی چرواہوں کو، دنیا کرے مغرور لوگ اس سے محروم رہتے ہیں۔
قال في الفتح و المناسب بقصص موسیٰ من جھة عموم قوله وھل من نبي إلا وقد رعا ھا فدخل فیه موسی ٰ
1۔
اس حدیث کی باب سے مناسبت اس طرح ہے کہ موسیٰ ؑ ان لوگوں میں داخل ہیں جنھوں نے بکریاں چرائی ہیں بلکہ نسائی کی روایت میں صراحت ہے کہ موسیٰ ؑ کو بکریاں چرانے کے دوران میں ہی نبوت عطا کی گئی۔
(السنن الکبری للنسائي: 396/6۔
طبع دارالکتب العلمیة، بیروت)
اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ دنیا داروں اور متکبرین کو نبوت نہیں دیتا بلکہ تواضع وانکسار اختیار کرنے والوں اور بکریاں چرانے والوں کو نبوت سے نوازتا ہے۔
2۔
اس میں حکمت یہ ہے کہ منتشربکریوں کو جمع کر کے ایک نظم میں رکھنے سے امت کے مختلف افراد کو یکجا کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔
بہرحال تمام پیغمبروں کو بکریاں چرانے کا موقع فراہم کیا گیا تاکہ انھیں لوگوں کی نگہبانی کرنے کا طریقہ آجائے۔
(فتح الباري: 534/6)