حدیث نمبر: 537
وَاشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا ، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ ، فَهُوَ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ ، وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ " .
مولانا داود راز

‏‏‏‏ دوزخ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے میرے رب ! ( آگ کی شدت کی وجہ سے ) میرے بعض حصہ نے بعض حصہ کو کھا لیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ، ایک سانس جاڑے میں اور ایک سانس گرمی میں ۔ اب انتہائی سخت گرمی اور سخت سردی جو تم لوگ محسوس کرتے ہو وہ اسی سے پیدا ہوتی ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب مواقيت الصلاة / حدیث: 537
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
´سخت گرمی میں ظہر کو ذرا ٹھنڈے وقت پڑھنا`
«. . .وَاشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا، فَقَالَتْ: يَا رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ، فَهُوَ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ، وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ . . .»
". . . دوزخ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے میرے رب! (آگ کی شدت کی وجہ سے) میرے بعض حصہ نے بعض حصہ کو کھا لیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی، ایک سانس جاڑے میں اور ایک سانس گرمی میں۔ اب انتہائی سخت گرمی اور سخت سردی جو تم لوگ محسوس کرتے ہو وہ اسی سے پیدا ہوتی ہے . . ." [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/بَابُ الإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ:: 537]
تشریح:
دوزخ نے حقیقت میں شکوہ کیا، وہ بات کر سکتی ہے جب کہ آیت شریفہ «يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ» [50-ق:30] میں وارد ہے کہ ہم قیامت کے دن دوزخ سے پوچھیں گے کہ کیا تیرا پیٹ بھر گیا، وہ جواب دے گی کہ ابھی تک تو بہت گنجائش باقی ہے۔
«وقال عياض انه الاظهر والله قادر على خلق الحياة بجزءمنها حتي تكلم اويخلق لها كلا مايسمعه من شاءمن خلقه وقال القرطبي لا احالة فى حمل اللفظ على حقيقته واذا اخبر الصادق بامرجائز لم يحتج الي تاويله فحمله على حقيقته اوليٰ۔» [مرعاة المفاتيح، ج 1، ص: 392]
یعنی عیاض نے کہا کہ یہی امر ظاہر ہے اللہ پاک قادر ہے کہ دوزخ کو کلام کرنے کی طاقت بخشے اور اپنی مخلوق میں سے جسے چاہے اس کی بات سنا دے۔
قرطبی کہتے ہیں کہ اس امر کو حقیقت پر محمول کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ اور جب صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک امر جائز کی خبر دی ہے تو اس کی تاویل کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ اس کو حقیقت ہی پر محمول کیا جانا مناسب ہے۔
علامہ شوکانی فرماتے ہیں: «اختلف العلماءفي معناه فقال بعضهم هو على ظاهره وقيل بل هو على وجه التشبيه والاستعارة وتقديره ان شدة الحر تشبه نارجهنم فاحذروه واجتنبوا ضرره قال والاول اظهر و قال النووي هو الصواب لانه ظاهر الحديث ولامانع من حمله على حقيقته فوجب الحكم بانه على ظاهره انتهيٰ۔» [نیل]
یعنی اس کے معنے میں بعض اہل علم اس کو اپنے ظاہر پر رکھتے ہیں، بعض کہتے ہیں کہ اس حرارت کو دوزخ کی آگ سے تشبیہ دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کے ضرر سے بچو اور اوّل مطلب ہی ظاہر ہے۔ امام نووی کہتے ہیں کہ یہی صواب ہے، اس لیے کہ حدیث ظاہر ہے اور اسے حقیقت پر محمول کرنے میں کوئی مانع نہیں ہے۔
حضرت مولانا وحیدالزماں صاحب فرماتے ہیں کہ دوزخ گرمی میں سانس نکالتی ہے، یعنی دوزخ کی بھاپ اوپر کو نکلتی ہے اور زمین کے رہنے والوں کو لگتی ہے، اس کو سخت گرمی معلوم ہوتی ہے اور جاڑے میں اندر کو سانس لیتی ہے تو اوپر گرمی نہیں محسوس ہوتی، بلکہ زمین کی ذاتی سردی غالب آ کر رہنے والوں کو سردی محسوس ہوتی ہے۔ اس میں کوئی بات عقل سلیم کے خلاف نہیں۔ اور حدیث میں شبہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ زمین کے اندر دوزخ موجود ہے۔ جیالوجی والے کہتے ہیں کہ تھوڑے فاصلہ پر زمین کے اندر ایسی گرمی ہے کہ وہاں کے تمام عنصر پانی کی طرح پگھلے رہتے ہیں۔ اگر لوہا وہاں پہنچ جائے تو اسی دم گل کر پانی ہو جائے۔
سفیان ثوری کی روایت جو حدیث ہذا کے آخر میں درج ہے اسے خود امام بخاری رحمہ اللہ نے کتاب بدءالخلق میں اور یحییٰ کی روایت کو امام احمد رحمہ اللہ نے وصل کیا ہے۔ لیکن ابوعوانہ کی روایت نہیں ملی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 537 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
537.۔(حضرت ابوہریرہ ؓ ہی سے مروی حدیث کا حصہ ہے کہ) آگ نے اپنے پروردگار سے شکایت کی: اے میرے رب! (گرمی کی شدت کا) میرا ایک حصہ دوسرے ککو کھائے جا رہا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اسے دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دی۔ ایک سانس سردی کے موسم میں اور دوسرا گرمی کے دنوں میں۔ اس وجہ سے تمہیں موسم گر میں سخت گرمی اور موسم سر میں سخت سردی محسوس ہوتی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:537]
حدیث حاشیہ:
(1)
جہنم کا سانس لینا اور شکایات کرنا مبنی بر حقیقت ہے۔
اس کی تاویل کرنا درست نہیں۔
اللہ تعالیٰ اگر حضرت سلیمان ؑ کے ہدہد کو علم وادراک عنایت کرسکتا ہے تو جہنم کو شکایت کرنے اور سانس لینے کی قدرت دینا کیوں کر بعید ہو سکتا ہے جبکہ قرآن کریم نے خود جہنم کی گفتگو بیان کی ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِن مَّزِيدٍ ﴿٣٠﴾ ’’اس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے: کیا تو بھر گئی؟ تو وہ کہے گی: کیا کچھ اور بھی ہے؟‘‘ (ق: 50: 30)
پھر احادیث میں جنت اور جہنم کے باہمی مکالمے کا بھی ذکر ہے، اس لیے جہنم کے گفتگو کرنے میں کوئی حیرت کی بات نہیں، اللہ تعالیٰ جس چیز کو چاہے قوت گویائی عطاکرسکتا ہے، نیز جہنم کے کئی ایک طبقات ہیں، جہاں اس کا ایک طبقہ انتہائی گرم ہے، وہاں دوسرا طبقہ ناقابل برداشت حد تک سرد بھی ہے۔
اس کا نام طبقۂ زمہریر ہے۔
موسم سرما میں سردی کی شدت اسی کی بدولت ہوتی ہے۔
(عمدة القاري: 33/4) (2)
اس حدیث پر سائنسی لحاظ سے دواعتراضات ہیں: ٭ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ گرمی اور سردی کا اصل مرکز جہنم ہے جبکہ سائنسی تحقیقات کی رو سے سردی اور گرمی کااصل منبع سورج ہے۔
جب سورج زمین کے قریب ہوتا ہے تو گرمی اور جب دور ہوتا ہے تو سردی ہوتی ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں گرمی اور سردی کی شدت کے ایک باطنی سبب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
اس سے ظاہری سبب کی نفی نہیں ہوتی۔
اس بنا پر حدیث اور سائنس میں کوئی تعارض نہیں، کیونکہ ایک چیز کے متعداد اسباب ہوسکتے ہیں۔
٭ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اگر گرمی و سردی کا سبب جہنم کا سانس لینا ہے تو کرۂ ارض کے تمام علاقوں میں ایک جیسی گرمی یا سردی ہونی چاہیے جبکہ یہ بات مشاہدے کے خلاف ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ کرۂ ارض پر گرمی وسردی کا کم وبیش ہونا متعدد عوارض کی بنا پر ہے۔
اگر یہ عوارض نہ ہوں تو تمام علاقوں میں گرمی کی حدت اور سردی کی شدت ایک جیسی ہو۔
ان عوارض میں بارش، سایہ دار جنگلات، علاقہ جات کا ساحلی یا صحرائی ہونا اور دیگرعوامل شامل ہیں۔
والله أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 537 سے ماخوذ ہے۔

✍️ حافظ زبیر علی زئی
جہنم سانس باہر نکالتی ہے تو گرمی زیادہ ہو جاتی ہے

جس حدیث میں آیا ہے کہ جہنم سانس باہر نکالتی ہے تو گرمی زیادہ ہو جاتی ہے بالکل صحیح حدیث ہے۔

اسے امام بخاری رحمہ اللہ [537] امام مسلم [617] امام مالک [المؤطا 1/16ح27] امام شافعی [كتاب الأم ص58 ح113] اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ [المسند2/238 ح7246] وغیرہم نے متعدد سندوں کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

اس کے شواہد صحیفہ ہمام بن منبہ [ح 108] وغیرہ میں بھی موجود ہیں۔

گرمی کی شدت کا جہنم میں سے ہونا دیگر صحابہ کرام مثلاًً سیدنا ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ [صحيح البخاري: 538]
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ [صحيح بخاري: 535 وصحيح مسلم: 616]
اور سیدنا ابوموسی الاشعری رضی اللہ عنہ [السنن الكبر ي للنسائي 1/465 ح 1490]
وغیرہم سے مروی ہے۔

بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث مجاز پر محمول ہے اور بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ حدیث حقیقت پر محمول ہے۔

حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ (متوفی465ھ) لکھتے ہیں کہ: «ولكلا القولين وجه يطول الاعتلال له . والله الموفق للصواب»

یعنی یہ دونوں اقوال واضح مفہوم رکھتے ہیں جن پر بحث طوالت کا باعث ہے اور اللہ حق (ماننے) کی توفیق دینے والاہے۔ [التمهيد ج 19 ص 117]

اگر اس حدیث کا حقیقی معنی مراد لیا جائے تو زمین پر شدید گرمی (جہنم کی) آگ کے تنفس کی وجہ سے ہوتی ہے جس کی کیفیت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ باقی رہے وہ علاقے جہاں اس دوران بھی سردی ہوتی ہے تو یہ استثنائی صورتیں اور موانع موجود ہیں۔ مثلاًً سخت گرمی کے دوران جب بارش ہو جائے تو موسم ٹھنڈا ہو جاتا ہے اسی طرح اونچے پہاڑ، گھنے درخت اور برف ان موانع میں سے ہیں جن کی وجہ سے گرمی کی شدت کم ہو جاتی ہے۔

استثنائی صورتوں کی وجہ سے اصول نہیں بدلتے۔ مثلاًً ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ: ﴿إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا﴾

بے شک ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیداکیا، ہم اسے آزمانا چاہتے ہیں۔ پس ہم نے اسے سننے والا (اور) دیکھنے والا بنایا ہے۔ [سورة الدهر: 2]

حالانکہ بہت سے لوگ بہرے یا اندھے بھی پیدا ہوتے ہیں اور ساری زندگی بہرے یا اندھے ہی رہتے ہیں۔

جس طرح اس آیت کریمہ میں تخصیص اور استثنائی صورت موجود ہے، اسی طرح آگ کے سانس والی حدیث میں استثناء اور تخصیص موجود ہے۔ «والله اعلم»

. . . مکمل مضمون کے لئے دیکھیں . . .
ماہنامہ الحدیث شمارہ 16 صفحہ نمبر 25 تا 26
درج بالا اقتباس ماہنامہ الحدیث حضرو، حدیث/صفحہ نمبر: 999 سے ماخوذ ہے۔