صحيح البخاري
كتاب النفقات— کتاب: خرچہ دینے کے بیان میں
بَابُ حِفْظِ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا فِي ذَاتِ يَدِهِ وَالنَّفَقَةِ: باب: عورت کا اپنے شوہر کے مال کی اور جو وہ خرچ کے لیے دے اس کی حفاظت کرنا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَأَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ ، وَقَالَ الْآخَرُ : صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ " . وَيُذْكَرُ عَنْ مُعَاوِيَةَ وابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .´ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد ( طاؤس ) اور ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ پر سوار ہونے والی عورتوں میں ( یعنی عرب کی عورتوں میں ) بہترین عورتیں قریشی عورتیں ہیں ۔ دوسرے راوی ( ابن طاؤس ) نے بیان کیا کہ قریش کی صالح ، نیک عورتیں ( صرف لفظ قریشی عورتوں کے بجائے ) بچے پر بچپن میں سب سے زیادہ مہربان اور اپنے شوہر کے مال کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والیاں ہوتی ہیں ۔ معاویہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی روایت کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
قریشی عورتیں فطرتاً ان خوبیوں کی مالک ہوتی ہیں۔
اس لیے ان کا خصوصی ذکر ہوا۔
ان کے بعد جن عورتوں میں یہ خوبیاں ہوں وہ کسی بھی خاندان سے متعلق ہوں اس تعریف کی حقدار ہیں۔
اس حدیث کے ذیل حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی مرحوم فرماتے ہیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرما دیا کہ قریش کی عورتیں اس وجہ سے بہتر ہوتی ہیں کہ وہ اپنی اولاد پر ان کے بچپن میں بڑی مشفق و مہربان ہوا کرتی ہیں اور شوہر کے مال و غلام کی سب سے زیادہ محافظت کرتی ہیں اور ظاہر ہے کہ یہی دو مقصد ہیں جو نکاح کے مقاصد میں سب سے زیادہ اہم اور عظیم الشان ہیں اور ان ہی سے تدبیر منزل اور نظام خانہ داری وابستہ ہے۔
پس یہ امر مستحب ہے کہ ایسے قبیلہ اور خاندان والی عورت سے نکاح کیا جائے جن کے عادات و اخلاق و اطوار اچھے ہوں اور ان میں قریش جیسی عورتوں کے اوصاف بھی پائے جائیں۔
(حجة اللہ البالغة)
(1)
اس حدیث میں قریشی عورتوں کی دو صفتیں بیان ہوئی ہیں: ایک تو وہ بچے کے لیے بچپن میں بہت مہربان ہوتی ہیں۔
دوسرے وہ اپنے شوہر کے مال کی حفاظت کرتی ہیں۔
مقاصد نکاح میں سب سے زیادہ اہم یہی دو مقصد ہیں۔
انہی سے تدبیر منزل اور نظام خانہ داری وابستہ ہے، لہذا مستحب ہے کہ نکاح کے لیے ایسی عورت کا انتخاب کیا جائے جس میں یہ دونوں صفتیں پائی جاتی ہوں۔
(2)
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کی ایک عورت کو پیغام نکاح بھیجا جس کا خاوند فوت ہو چکا تھا اور اس کے پہلے شوہر سے پانچ چھ بچے تھے اور اسے "سودہ" کہا جاتا تھا۔
اس نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ سے زیادہ مکرم کوئی شخص نہیں لیکن میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جو آپ کے آرام میں مخل ہوں گے۔
اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشی عورتوں کی مذکورہ دو صفتیں بیان کیں۔
(مسند أحمد: 318/1، 319، و فتح الباري: 634/9)
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ کا قائم کردہ یہ عنوان تین اجزاء پر مشتمل ہے: پہلا حکم حدیث سے ثابت ہوا کہ جو نکاح کرنا چاہے وہ قریش کی عورتوں سے نکاح کرے۔
دوسرا جز بھی حدیث سے ثابت ہوا کہ بہترین عورتیں قریش کی خواتین ہیں اور تیسرا جز بطور لزوم ثابت ہوا کہ جب قریش کی عورتیں بہترین ہیں تو نسل کے لیے ان کا انتخاب کرنا چاہیے۔
(2)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ خاندانی اعتبار سے قریشی عورتیں نکاح میں لائی جائیں کیونکہ یہ اپنے خاوندوں کے حقوق کی بہت پاسداری اور ان کے مال کی حفاظت کرتی ہیں، فضول خرچی کرکے ان کے مال کو تباہ نہیں کرتیں، نیز بچوں کی تربیت ونگہداشت کرنے میں ذمہ دار ثابت ہوتی ہیں۔
(فتح الباري: 178/9)
اس حدیث میں قریش کی عورتوں کی برتری ثابت ہوتی ہے، اور وہ عورت بہتر ہے جو بچوں پر زیادہ شفقت کرنے والی اور خاوند کے مال کی حفاظت کرنے والی ہو، اس حدیث میں عورتوں کے اونٹوں پر سواری کرنے کا ذکر ہے، اس سے ثابت ہوا کہ عورت محرم کے ساتھ سفر کر سکتی ہے کیونکہ اس کی وضاحت دیگر احادیث سے ثابت ہوتی ہے، کوئی شخص صرف اس حدیث کو لے کر بد اخذ نہ کرے کہ عورت اکیلے سفر کر سکتی ہے، کیونکہ عدم ذکر سے نفی لازم نہیں آتی۔