صحيح البخاري
كتاب النفقات— کتاب: خرچہ دینے کے بیان میں
بَابُ حَبْسِ نَفَقَةِ الرَّجُلِ قُوتَ سَنَةٍ عَلَى أَهْلِهِ، وَكَيْفَ نَفَقَاتُ الْعِيَالِ: باب: مرد کا اپنے بچوں کے لیے ایک سال کا خرچ جمع کرنا جائز ہے اور جورو بچوں پر کیوں کر خرچ کرے اس کا بیان۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي مَعْمَرٌ : قَالَ لِي الثَّوْرِيُّ : هَلْ سَمِعْتَ فِي الرَّجُلِ يَجْمَعُ لِأَهْلِهِ قُوتَ سَنَتِهِمْ أَوْ بَعْضِ السَّنَةِ ؟ قَالَ مَعْمَرٌ : فَلَمْ يَحْضُرْنِي ، ثُمَّ ذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبِيعُ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَيَحْبِسُ لِأَهْلِهِ قُوتَ سَنَتِهِمْ " .´ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو وکیع نے خبر دی ، ان سے ابن عیینہ نے کہا کہ مجھ سے معمر نے بیان کیا کہ ان سے ثوری نے پوچھا کہ` تم نے ایسے شخص کے بارے میں بھی سنا ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سال بھر کا یا سال سے کم کا خرچ جمع کر لے ۔ معمر نے بیان کیا کہ اس وقت مجھے یاد نہیں آیا پھر بعد میں یاد آیا کہ اس بارے میں ایک حدیث ابن شہاب نے ہم سے بیان کی تھی ، ان سے مالک بن اوس نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی نضیر کے باغ کی کھجوریں بیچ کر اپنے گھر والوں کے لیے سال بھر کی روزی جمع کر دیا کرتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
یہ جمع کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے۔
یہ انتظامی معاملہ ہے اور اہل و عیال کا انتظام خوراک وغیرہ کا کرنا مرد پر لازم ہے۔
(1)
بنو نضیر کے باغات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مختص تھے۔
آپ ان میں سے اپنے اہل و عیال کے لیے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی ملکی ضروریات کے لیے فروخت کر دیتے تھے، پھر اس رقم سے گھوڑے اور جنگی سامان خریدتے تھے۔
چونکہ اہل و عیال کا نان و نفقہ آدمی کے ذمے ہے، اس لیے اس نے اس کا بندوبست کرنا ہوتا ہے، یعنی یہ ایک انتظامی معاملہ ہے، ان کے لیے سال بھر کا خرچہ جمع کر لینا اس ذخیرہ اندوزی میں شامل نہیں جس کی احادیث میں ممانعت آئی ہے۔
اس پر تمام اہل علم کا اتفاق ہے۔
پھر جمع شدہ مال سے سال بھر حسب ضرورت استعمال کرتا رہے، اس کے لیے کوئی پیمانہ مقرر نہیں کیا جا سکتا کہ ایک دن میں کتنا خرچ کیا جائے۔
یہ معاملہ تمام تر اہل خانہ کی صوابدید پر موقوف ہے۔
واللہ أعلم