صحيح البخاري
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے مسائل کا بیان
بَابُ: {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا} إِلَى قَوْلِهِ: {بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ} : باب: اور جو لوگ تم میں سے مر جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں اللہ تعالیٰ کے فرمان «بما تعملون خبير» تک، یعنی وفات کی عدت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ ، لَمَّا جَاءَهَا نَعِيُّ أَبِيهَا دَعَتْ بِطِيبٍ ، فَمَسَحَتْ ذِرَاعَيْهَا ، وَقَالَتْ : مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ ، لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " .´ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم نے بیان کیا ، ان سے حمید بن نافع نے بیان ، ان سے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا اور ان سے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` جب ان کے والد کی وفات کی خبر پہنچی تو انہوں نے خوشبو منگوائی اور اپنے دونوں بازؤں پر لگائی پھر کہا کہ مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہ تھی لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو عورت اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو وہ کسی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے سوا شوہر کے کہ اس کے لیے چار مہینے دس دن ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
پس ان کو اللہ سے ڈر کر اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیئے۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شوہر کے علاوہ کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا حرام ہے۔
ایسی عورتیں ایمان سے محروم ہیں جو اس حکم کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
(2)
عنوان میں عدت کا ذکر تھا اور اس حدیث میں ہے کہ عدت گزارنے والی عورت حدیث میں بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عدت کے ایام پورے کرے، اس کی خلاف ورزی کر کے خود کو ایمان سے محروم نہ کرے۔
(عمدة القاري: 357/14)
قال بن حجر: هو وهم لأنه مات بالمدینة بلا خلاف وإنما الذي مات بالشام أخوها یزید بن أبي سفیان والحدیث في مسندي ابن أبي شیبة والدارمي بلفظ جاء نعي لأخي أم حبیبة أوحمیم لها ولأحمد نحوہ فقوی کونه أخاها۔
یعنی علامہ ابن حجرؒ نے کہا کہ یہ وہم ہے۔
اس لیے کہ ابوسفیان ؓ کا انتقال بلا اختلاف مدینہ میں ہوا ہے۔
شام میں انتقال کرنے والے ان کے بھائی یزید بن ابی سفیان تھے۔
مسند ابن ابی شیبہ اور دارمی اورمسند احمد وغیرہ میں یہ وضاحت موجود ہے۔
اس حدیث سے ظاہر ہوا کہ صرف بیوی اپنے خاوند پر چار ماہ دس دن سوگ کرسکتی ہے اور کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں ہے۔
بیوی کے خاوند پر اتنا سوگ کرنے کی صورت میں بھی بہت سے اسلامی مصالح پیش نظر ہیں۔
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی منبر سے فرماتے ہوئے سنا: ” کسی عورت کے لیے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتی ہو کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے سوائے شوہر کے، اس (کے مرنے) پر چار ماہ دس دن سوگ منائے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3557]
زینب بنت ابی سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے انہوں نے یہ (آنے والی) تین حدیثیں بیان کیں: ۱- زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا جب انتقال ہو گیا تو میں ان کے پاس (تعزیت میں) گئی، (میں نے دیکھا کہ) انہوں نے خوشبو منگوائی، (پہلے) لونڈی کو لگائی پھر اپنے دونوں گالوں پر ملا پھر یہ بھی بتا دیا کہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3563]
(2) ”کوئی ضرورت نہ تھی“ کیونکہ میرا خاوند تو فوت ہو چکا ہے‘نیز تین دن سوگ کے بعد خوشبو لگانا ضروری بھی نہیں البتہ سوگ کا شبہ ختم کرنے کے لیے خوشبو وغیرہ لگا لینا مستحب ہے(مزید تفصیل کے لیے دیکھیے حدیث نمبر 3531‘3532۔