صحيح البخاري
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے مسائل کا بیان
بَابُ تَلْبَسُ الْحَادَّةُ ثِيَابَ الْعَصْبِ: باب: سوگ والی عورت یمن کے دھاری دار کپڑے پہن سکتی ہے۔
وَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَتْنَا حَفْصَةُ ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَطِيَّةَ ، " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَمَسَّ طِيبًا إِلَّا أَدْنَى طُهْرِهَا إِذَا طَهُرَتْ نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ " . قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : الْقُسْطُ وَالْكُسْتُ مِثْلُ الْكَافُورِ وَالْقَافُورِ .´امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ انصاری نے بیان کیا کہ ہم سے ہشام بن حسان نے بیان کیا ، کہا ہم سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ( کسی میت پر ) خاوند کے سوا تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے اور ( فرمایا کہ ) خوشبو کا استعمال نہ کرے ، سوا طہر کے وقت جب حیض سے پاک ہو تو تھوڑا سا عود ( قسط ) اور ( مقام ) اظفار ( کی خوشبو استعمال کر سکتی ہے ) ، ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ «قسط» اور «الكست» ایک ہی چیز ہیں ، جیسے ” کافور “ اور ” قافور “ دونوں ایک ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اب وہ لوگ خود غور کرلیں جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر ہر سال محرم میں سوگ کرتے ہیں، سیاہ کپڑے پہنتے اور ماتم کرتے ہوئے اپنی چھاتی کو کوٹتے ہیں۔
یہ لوگ یقینا اللہ اور اس کے رسول کے نافرمان ہیں۔
اللہ ان کو ہدایت فرمائے، آمین۔
اس سلسلہ میں سنی حضرات کو ضرور غور کرناچاہیئے کہ وہ اہل سنت کے مسلک کے خلاف حرکت کرکے سخت گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
ھداھم اللہ۔
(1)
اس امر پر علمائے امت کا اتفاق ہے کہ سوگ منانے والی عورت زرد رنگ کے کپڑے یا دوسرے رنگین کپڑے نہیں پہن سکتی لیکن سیاہ رنگ کا لباس استعمال کر سکتی ہے کیونکہ سیاہ لباس زینت کے لیے نہیں بلکہ حزن و افسوس کے اظہار کے لیے ہوتا ہے۔
بعض علماء نے اس حدیث کے پیش نظر لکھا ہے کہ عورت ان دنوں سفید لباس پہن سکتی ہے لیکن اگر سفید لباس زینت کے لیے ہے تو اس کے استعمال پر پابندی ہے، اسی طرح جب سیاہ لباس زینت کے لیے ہو گا تو اسے بھی استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس عنوان اور پیش کردہ حدیث سے یہ ثابت کیا ہے کہ سفید سیاہ دھاری دار کپڑے کے استعمال میں کوئی حرج نہیں، اسی طرح جو کپڑا بننے سے پہلے اس کا دھاگا رنگین ہو اسے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ زینت کے لیے نہ ہو۔
واللہ اعلم (فتح الباری: 9/608)