حدیث نمبر: 5337
قَالَ حُمَيْدٌ فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ وَمَا تَرْمِي بِالْبَعَرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ فَقَالَتْ زَيْنَبُ كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا، وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا، وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ، ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَائِرٍ فَتَفْتَضُّ بِهِ، فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَيْءٍ إِلاَّ مَاتَ، ثُمَّ تَخْرُجُ فَتُعْطَى بَعَرَةً فَتَرْمِي، ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَاءَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ. سُئِلَ مَالِكٌ مَا تَفْتَضُّ بِهِ قَالَ تَمْسَحُ بِهِ جِلْدَهَا.
مولانا داود راز

´حمید نے بیان کیا کہ میں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ` اس کا کیا مطلب ہے کہ ” سال بھر تک مینگنی پھینکنی پڑتی تھی ؟ “ انہوں نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو وہ ایک نہایت تنگ و تاریک کوٹھڑی میں داخل ہو جاتی ۔ سب سے برے کپڑے پہنتی اور خوشبو کا استعمال ترک کر دیتی ۔ یہاں تک کہ اسی حالت میں ایک سال گزر جاتا پھر کسی چوپائے گدھے یا بکری یا پرندہ کو اس کے پاس لایا جاتا اور وہ عدت سے باہر آنے کے لیے اس پر ہاتھ پھیرتی ۔ ایسا کم ہوتا تھا کہ وہ کسی جانور پر ہاتھ پھیر دے اور وہ مر نہ جائے ۔ اس کے بعد وہ نکالی جاتی اور اسے مینگنی دی جاتی جسے وہ پھینکتی ۔ اب وہ خوشبو وغیرہ کوئی بھی چیز استعمال کر سکتی تھی ۔ امام مالک سے پوچھا گیا کہ «تفتض به» کا کیا مطلب ہے تو آپ نے فرمایا وہ اس کا جسم چھوتی تھی ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الطلاق / حدیث: 5337
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5337. سیدنا حمید نے کہا: میں نے زینب بنت ابو سلمہ ؓ سے دریافت کیا: اس کے کیا معنیٰ ہیں کہ اسے سال کے بعد مینگنی پھییکنا پڑتی؟ انہوں نے فرمایا: (زمانہ جاہلیت میں) جب کسی عورت کا شوہر فوت ہو جاتا تو وہ نہایت تنگ و تاریک کوٹھڑی میں داخل ہو جاتی، پھر بد ترین کپڑے پہن لیتی اور خوشبو کا استعمال بھی ترک کر دیتی حتیٰ کہ اسئ حالت میں ایک سال گزر جاتا۔ پھر کوئی جانور گدھا یا بکری یا پرندہ لایا جاتا تو وہ اس پر ہاتھ پھیرتی۔ ایسا کم ہوتا تھا کہ وہ کسی جانور پر ہاتھ پھیرے اور وہ مر نہ جائے۔ اس کے بعد وہ باہر نکلتی اور اسے مینگنی دی جاتی جسے وہ پھیکتی تھی پھر اس کے بعد خوشبو وغیرہ لگاتی تھی امام مالک سے پوچھا گیا: ''تفتص به'' کے کیا معنیٰ ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: وہ اس کا جسم چھوتی تھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5337]
حدیث حاشیہ:
(1)
دور جاہلیت میں جس عورت کا خاوند فوت ہو جاتا وہ ایک سال تک عدت گزارتی اور انتہائی بدترین طریقے سے زندگی کے یہ دن پورے کرتی جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا ہے۔
اس کا اشارہ قرآنِ کریم میں بھی ہے: ’’اور جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، وہ اپنی عورتوں کے حق میں ایک سال تک خرچہ دینے کی وصیت کر جائیں، نیز انھیں اس مدت میں گھر سے نہ نکالا جائے۔
‘‘ (البقرة: 240)
پھر ان کے متعلق ایک دوسرا حکم نازل ہوا کہ وہ چار ماہ دس دن تک عدت پوری کریں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ عورتیں اپنے آپ کو چار ماہ دس دن تک عدت میں رکھیں۔
‘‘ (البقرۃ: 234)
یہ اس صورت میں ہے جب بیوی حاملہ نہ ہو، حاملہ ہونے کی صورت میں اس کی عدت وضع حمل ہے جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے۔
چار ماہ دس دن عدت گزارنے میں یہ حکمت ہے کہ عورت کے پیٹ میں بچے کی تخلیق اور اس میں روح پھونکنے کا معاملہ ایک سو بیس دن کے بعد ہوتا ہے جس کے چار ماہ بنتے ہیں، چونکہ چاند کی کمی بیشی سے فرق ہو سکتا ہے، اس نقصان کو پورا کرنے کے لیے اس تعداد پر دس دن کا اضافہ کیا گیا ہے۔
(فتح الباري: 603/9) (2)
دوران عدت میں وہ زیب و زینت نہیں کرے گی جیسا کہ ایک حدیث میں ہے: ’’زمانۂ عدت میں رنگ دار لباس نہ پہنے، لیکن رنگے ہوئے سوت کا کپڑا پہن سکتی ہے، سرمہ نہ لگائے اور خوشبو بھی استعمال نہ کرے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الطلاق، حدیث: 5341)
ایک روایت میں ہے کہ وہ مہندی نہ لگائے۔
(سنن أبي داود، الطلاق، حدیث: 2302)
سنن نسائی میں ہے کہ وہ کنگھی بھی نہ کرے۔
(سنن النسائي، الطلاق، حدیث: 3564)
اس عورت کے علاوہ دیگر عورتوں، یعنی مطلقہ وغیرہ پر عدت تو ہے لیکن سوگ کی پابندی نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5337 سے ماخوذ ہے۔