صحيح البخاري
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے مسائل کا بیان
بَابُ قِصَّةِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: باب: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا واقعہ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْكُرَانِ ، " أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ ، فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِيِنَ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ : اتَّقِ اللَّهَ وَارْدُدْهَا إِلَى بَيْتِهَا " ، قَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ : إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَكَمِ غَلَبَنِي ، وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ : أَوَمَا بَلَغَكِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، قَالَتْ : لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَذْكُرَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ ، فَقَالَ مَرْوَانُ بْنُ الحَكَمِ : إِنْ كَانَ بِكِ شَرٌّ فَحَسْبُكِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ .´ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید انصاری نے ، ان سے قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار نے ، وہ دونوں بیان کرتے تھے کہ` یحییٰ بن سعید بن العاص نے عبدالرحمٰن بن حکم کی صاحبزادی ( عمرہ ) کو طلاق دے دی تھی اور ان کے باپ عبدالرحمٰن انہیں ان کے ( شوہر کے ) گھر سے لے آئے ( عدت کے ایام گزرنے سے پہلے ) ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے مروان بن حکم کے یہاں ، جو اس وقت مدینہ کا امیر تھا ، کہلوایا کہ اللہ سے ڈرو اور لڑکی کو اس کے گھر ( جہاں اسے طلاق ہوئی ہے ) پہنچا دو ۔ جیسا کہ سلیمان بن یسار کی حدیث میں ہے ۔ مروان نے اس کو جواب یہ دیا کہ لڑکی کے والد عبدالرحمٰن بن حکم نے میری بات نہیں مانی اور قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ ( مروان نے ام المؤمنین کو یہ جواب دیا کہ ) کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے معاملہ کا علم نہیں ہے ؟ ( انہوں نے بھی اپنے شوہر کے گھر عدت نہیں گزاری تھی ) ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ اگر تم فاطمہ کے واقعہ کا حوالہ نہ دیتے تب بھی تمہارا کچھ نہ بگڑتا ( کیونکہ وہ تمہارے لیے دلیل نہیں بن سکتا ) ۔ مروان بن حکم نے اس پر کہا کہ اگر آپ کے نزدیک ( فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ان کے شوہر کے گھر سے منتقل کرنا ) ان کے اور ان کے شوہر کے رشتہ داری کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے تھا تو یہاں بھی یہی وجہ کافی ہے کہ دونوں ( میاں بیوی ) کے درمیان کشیدگی تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
کوئی کہتا ہے کہ وہ گھر خوفناک تھا، کوئی کہتا ہے فاطمہ بد زبان عورت تھی۔