صحيح البخاري
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے مسائل کا بیان
بَابُ الإِشَارَةِ فِي الطَّلاَقِ وَالأُمُورِ: باب: اگر طلاق وغیرہ اشارے سے دے مثلاً کوئی گونگا ہو تو کیا حکم ہے؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ " ، أَوْ قَالَ : " أَذَانُهُ مِنْ سَحُورِهِ ، فَإِنَّمَا يُنَادِي " ، أَوْ قَالَ : " يُؤَذِّنُ لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ " وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ كَأَنَّهُ يَعْنِي الصُّبْحَ أَوِ الْفَجْرَ ، وَأَظْهَرَ يَزِيدُ يَدَيْهِ ، ثُمَّ مَدَّ إِحْدَاهُمَا مِنَ الْأُخْرَى .´ہم سے عبداللہ بن سلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، ان سے سلیمان تیمی نے ، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کسی کو ( سحری کھانے سے ) بلال کی پکار نہ روکے یا آپ نے فرمایا کہ ” ان کی اذان “ کیونکہ وہ پکارتے ہیں ، یا فرمایا ، اذان دیتے ہیں تاکہ اس وقت نماز پڑھنے والا رک جائے ۔ اس کا اعلان سے یہ مقصود نہیں ہوتا کہ صبح صادق ہو گئی ۔ اس وقت یزید بن زریع نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے ( صبح کاذب کی صورت بتانے کے لیے ) پھر ایک ہاتھ کو دوسرے پر پھیلایا ( صبح صادق کی صورت کے اظہار کے لیے ) ۔