صحيح البخاري
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے مسائل کا بیان
بَابُ الْخُلْعِ وَكَيْفَ الطَّلاَقُ فِيهِ: باب: خلع کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، " أَنَّ أُخْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ بِهَذَا ، وَقَالَ : تَرُدِّينَ حَدِيقَتَهُ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، فَرَدَّتْهَا ، وَأَمَرَهُ يُطَلِّقْهَا " . وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَطَلِّقْهَا .´ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد طحان نے بیان کیا ، ان سے خالد حذاء نے ، ان سے عکرمہ نے کہ عبداللہ بن ابی ( منافق ) کی بہن جمیلہ رضی اللہ عنہا ( جو ابی کی بیٹی تھی ) نے یہ بیان کیا` اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا تھا کہ کیا تم ان ( ثابت رضی اللہ عنہ ) کا باغ واپس کر دو گی ؟ انہوں نے عرض کیا ہاں کر دوں گی ۔ چنانچہ انہوں نے باغ واپس کر دیا اور انہوں نے ان کے شوہر کو حکم دیا کہ انہیں طلاق دے دیں ۔ اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا کہ ان سے خالد نے ، ان سے عکرمہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ( اس روایت میں بیان کیا کہ ) ان کے شوہر ( ثابت رضی اللہ عنہ ) نے انہیں طلاق دے دی ۔