صحيح البخاري
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان
بَابُ طَلَبِ الْوَلَدِ: باب: جماع سے بچہ کی خواہش رکھنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا دَخَلْتَ لَيْلًا فَلَا تَدْخُلْ عَلَى أَهْلِكَ حَتَّى تَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ " ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَعَلَيْكَ بِالْكَيْسِ الْكَيْسِ " . تَابَعَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ وَهْبٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِي الْكَيْسِ .´ہم سے محمد بن ولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے سیار نے ، ان سے شعبی نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( غزوہ تبوک سے واپسی کے وقت ) فرمایا ، جب رات کے وقت تم مدینہ میں پہنچو تو اس وقت تک اپنے گھروں میں نہ جانا جب تک ان کی بیویاں جو مدینہ منورہ میں موجود نہیں تھے ، اپنا موئے زیر ناف صاف نہ کر لیں اور جن کے بال پراگندہ ہوں وہ کنگھا نہ کر لیں ۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ضروری ہے کہ جب تم گھر پہنچو تو خوب خوب «كيس» کیجؤ ۔ شعبی کے ساتھ اس حدیث کو عبیداللہ نے بھی وہب بن کیسان سے ، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ، اس میں بھی «كيس» کا ذکر ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابو عمرو توقانی نے اپنی کتاب ''معاشرة الأھلین'' میں نقل کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اولاد ڈھونڈو، اولاد ثمرئہ قلب اور نور چشم ہے اور بانجھ عورت سے پر ہیز کرو۔
اسی واسطے ایک حدیث میں آیا ہے کہ بانجھ عورت سے بچو۔
دوسری حدیث میں ہے کہ خاوند سے محبت رکھنے والی، بہت بچے جننے والی سے نکاح کرو، میں قیامت کے دن اپنی امت کی کثرت پر فخر کروں گا۔
شادی کرنے سے آدمی کو اصل غرض یہی رکھنی چاہئے کہ اولاد صالح پیدا ہو جو مرنے کے بعد دنیا میں اس کی نشانی رہے۔
اس کے لیے دعائے خیر کرے۔
اسی لیے باقیات الصالحات میں اولاد کو اول درجہ حاصل ہے۔
اللہ پاک ہر مسلمان کو نیک فرمانبردار اور صالح اولاد عطا کرے۔
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ نے ثابت کیا ہے کہ بیوی سے جماع کا مقصد محض لطف اندوزی نہیں ہونا چاہیے بلکہ فرزند کے حصول کی نیت ہونی چاہیے، چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ایک روایت نقل کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اولاد کی طلب کرو اور اس کی تلاش میں رہو، اولاد ثمرۂ قلب اور نور چشم ہے اور بانجھ عورت سے اجتناب کرو۔
‘‘ (فتح الباري: 423/9) (2)
انسان کو نکاح کرتے وقت یہ عظیم مقصد اپنے سامنے رکھنا چاہیے کہ نیک اولاد پیدا ہو جو مرنے کے بعد دنیا میں اچھی نشانی کے طور پر باقی رہے۔
اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہے۔
باقیات صالحات (باقی رہنے والی نیکیوں)
میں نیک اولاد کو پہلا درجہ حاصل ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نیک اور فرمانبردار اولاد عطا فرمائے۔
آمين
اگر حدیث ہذا پر عمل کی نیت سے اطلاع دیں گے تو یہ اطلاع دینا بھی ایک کارثواب ہوگا۔
دعا ہے کہ اللہ پاک ہر مسلمان کو پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ احادیث پر عمل کرنے کی توفیق بخشے آمین یا رب العالمین۔
الحمد للہ کہ پارہ 21 ختم ہوا۔
خاتمہ محض اللہ پاک کی غیبی تائید سے بخاری شریف مترجم اردو کا پارہ 21 آج خیریت وعافیت کے ساتھ ختم ہوا۔
تقریباً سارا پارہ مسائل نکاح پر مشتمل ہے۔
ظاہر ہے کہ مسائل نکاح جو ہر مسلمان کی ازدواجی زندگی سے بڑا گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
اکثر بہت ہی دقیق مسائل ہیں۔
پھر ان میں بھی اکثر جگہ فقہی اختلافات کی بھر مار ہے لیکن مطالعہ فرمانے والے محترم حضرات پر واضح ہو کہ امیر المؤمنین فی الحدیث حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ان مسائل کو بڑے آسان لفظوں میں سلجھانے کی پوری پوری کوشش فرمائی ہے۔
ہر باب جو ایک مستقل فتوے کی حیثیت رکھتا ہے۔
اسے آیات و احادیث و آثار صحابہ و تابعین وغیرہ سے مدلل فرمانے کی سعی بلیغ کی ہے اور پھر اس کی بھی کوشش کی گئی ہے کہ ترجمہ میں پوری سادگی قائم رکھتے ہوئے بھی بہترین وضاحت ہو سکے۔
جہاں کوئی اغلاق نظر آیا۔
اسے بذیل تشریحات کھول دیا گیا ہے۔
بہر حال جیسی بھی خدمت ہے وہ قدر دانوں کے سامنے ہے۔
مزید طوالت میں ضخامت کے بڑھنے کا خطرہ تھا جبکہ آج کاغذ و دیگر سامان طباعت گرانی کی آخری حدود تک پہنچ گئے ہیں۔
ایسی گرانی کے عالم میں اس پارے کا شائع ہونا محض اللہ کی تائید غیبی ہے ورنہ اپنی کمزوریاں، کوتاہیاں، تہی دستی، سب کچھ اپنے سامنے ہے۔
حضرات معزز علمائے کرام کسی جگہ بھی کوئی واقعی فاش غلطی ملاحظہ فرمائیں تو مطلع فرما کر شکریہ کا موقع دیں تاکہ طبع ثانی میں اس پر غور کیا جاسکے۔
رب العالمین سے بصد آہ و زاری دعا ہے کہ وہ اس حقیر خدمت کو قبول فرمائے اور بقیہ پاروں کی تکمیل کرائے جو بظاہر کو ہ ہمالیہ نظر آ رہے ہیں لیکن اگر یہ خدمت ادھوری رہ گئی تو یہ ایک ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔
دعا ہے کہ اے پروردگار! مجھ حقیر نا چیز خادم کو اتنی زندگی اور بخش دے کہ تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ ارشادات کی یہ خدمت میں تکمیل تک پہنچا سکوں۔
اس کی اشاعت کے لئے اسباب اور سامان بھی غیب سے مہیا کرا دے اور جس قدر شائقین میرے ساتھ اس خدمت میں دامے درمے سخنے شرکت فرما رہے ہیں۔
اے اللہ! وہ کسی جگہ بھی ہوں ان سب کے حق میں اس خدمت کو قبول فرما کر ہم سب کو قیامت کے دن دربار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع فرما ئیو اور ہم سب کی بخشش فرماتے ہوئے اس خدمت عظمیٰ کو ہم سب کے لئے باعث نجات بنائیو۔
آمین ثم آمین وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین۔
عرض نقشے است کزما یاد ماند کہ ہستی رانمی بینم بقائے مگر صاحب لے روزے بہ رحمت کند درکار ایں خادم دعائے خادم حدیث نبوی محمد داؤد راز ولد عبداللہ السلفی الدھلوی رمضان المبارک 1394ھ
(1)
ایک حدیث میں اس کی علت بیان ہوئی ہے کہ طویل غیر حاضری کی وجہ سے اہل خانہ کی لغزشیں نہ پکڑی جائیں، پھر گھر کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوے سے واپس آئے تو آپ نے فرمایا: ’’اچانک رات کے وقت گھر نہ جاؤ۔
‘‘ آپ نے کسی قاصد کو بھیج کر منادی کرائی کہ ہم آ رہے ہیں۔
‘‘ (السنن الکبریٰ للبیهقي: 174/9، و فتح الباري: 422/9) (2)
آج کل کے ترقی یافتہ دور میں دور دراز سے آنے والے حضرات اس حدیث پر اس طرح عمل کر سکتے ہیں کہ بذریعہ فون، ایس ایم ایس، ای میل اپنے اہل خانہ کو اطلاع کر دیں کہ ہم فلاں دن اتنے بجے تک گھر آئیں گے۔
اگر حدیث پر عمل کرنے کی نیت ہوگی تو امید ہے یہ اطلاع باعث ثواب ہوگی۔
والله اعلم
حدیث جابر ؓ میں فرمایا ''لتمتشط الشعثة'' تاکہ پریشان بال والی اپنے بالوں میں کنگھی کرکے ان کو درست کرلے اور اندرونی صفائی کی ضرورت ہو تو وہ بھی کرلے۔
(1)
رات کے وقت اچانک گھر آنے سے اس لیے منع فرمایا کہ مبادا انسان اپنے اہل خانہ میں کوئی ایسی ناگوار چیز دیکھے جو باہمی نفرت و کدورت کا باعث ہو۔
(2)
اس ممانعت کا پس منظر یوں ہے: حضرت جابر ؓ کا بیان ہے: ہم ایک جنگ سے واپس ہوئے تو رات کے وقت ہم اپنے گھر جانے کے لیے جلدی کرنے لگے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ایسا مت کرو۔
اہل خانہ کو پہلے مطلع کرو تاکہ پراگندہ بالوں والی کنگھی کرے اور زائد بالوں کی صفائی کرے۔
‘‘ (صحیح البخاري، النکاح، حدیث: 5247)
ہم اس حدیث پر کتاب النکاح، حدیث: 5243 میں مفصل گفتگو کریں گے۔
بإذن الله
(1)
تستحد: وہ حدید (استرا)
استعمال کرلے، مقصد یہ ہے کہ زیرناف بال صاف کرلے، اس سےمعلوم ہواکہ عورت استرا(سیفٹی)
استعمال کرسکتی ہے۔
(2)
مغيبة: جس کا خاوند غائب ہو۔
(3)
الشعثة: پراگندہ بال۔
(1)
يتخونهم: ان کوخائن سمجھ کراس کی ٹوہ لگائے۔
(2)
عثرات: عثرة کی جمع ہے، لغزش، غلطی، مقصد یہ ہے کہ بدظنی کرتے ہوئے، جاسوسی کے لیے اچانک رات کو نہ آئے۔
اصل مقصد یہ خواہ مخواہ گھر والوں کے بارے میں بدظنی اور بداعتمادی کاشکار نہیں ہونا چاہیے، اس بدظنی اور بدگمانی سے بچانے کے لیے رات کو اچانک آنے سے منع کیا ہے۔
لیکن آج تو موبائل کی وجہ سے ہر وقت رابطہ رہتا ہے اس سے انسان کسی وقت بھی گھر آسکتا ہے گھر والے اس کے انتظار میں ہوں گے۔
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو سفر سے رات میں بیویوں کے پاس لوٹ کر آنے سے روکا ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب/حدیث: 2712]
وضاحت:
1؎:
رات میں سفر سے واپس آ کر اپنے گھر والوں کے پاس آنے کی ممانعت اس صورت میں ہے جب آمد کی پیشگی اطلاع نہ دی گئی ہو، اور اگر گھر والے اس کی آمد سے پہلے ہی باخبر ہیں تو پھر اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، جب ہم بستی میں جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ٹھہرو ہم رات میں جائیں گے، تاکہ پراگندہ بال والی کنگھی کر لے، اور جس عورت کا شوہر غائب تھا وہ زیر ناف کے بالوں کو صاف کر لے۔" ابوداؤد کہتے ہیں: زہری نے کہا: ممانعت عشاء کے بعد آنے میں ہے، ابوداؤد کہتے ہیں: مغرب کے بعد کوئی حرج نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2778]
رسول اللہ ﷺ جب سفر سے لوٹنے اور منزل قریب ہوتی تو پیغام بر بھیج دیا کرتے تھے۔
جو شہر میں اطلا ع کردیتا تھا۔
کہ مجاہدین واپس آرہے ہیں۔
اور فلاں وقت تک پہنچ جایئں گے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند فرماتے تھے کہ آدمی سفر سے رات میں اپنے گھر واپس آئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2776]
مقصد یہ ہے کہ انسان طویل غیر حاضری کے بعد بغیر پیشگی اطلاع کے بے وقت اچانک بالخصوص عشاء کے بعد گھر میں نہ آئے۔
اس میں کئی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔
ممکن ہے گھر والے صاحب خانہ کی طرف سے مطمئین ہوکر کہیں باہر جانے کا پروگرام بنا لیں یا آنے والے کی بیوی اپنی اور گھر کی صفائی ستھرائی کی جانب سے غفلت کرلے یا کوئی ایسا مہمان بھی گھر میں آسکتا ہے۔
جس کا آنا گھر والے کو ناگوار ہو اس طرح دونوں میاں بیوی کے درمیان کئی طرح کی انہونی الجھنیں راہ پاسکتی ہیں۔
ہاں اگر اطلاع دے دی گئی ہو تو کسی بھی وقت آنا چاہیے۔
تو آسکتا ہے۔
اس کا اپنا گھر ہے۔