صحيح البخاري
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان
بَابُ مَا يُنْهَى مِنْ دُخُولِ الْمُتَشَبِّهِينَ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْمَرْأَةِ: باب: زنانے اور ہیجڑے سفر میں عورتوں کے پاس نہ آئیں۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَفِي الْبَيْتِ مُخَنَّثٌ ، فَقَالَ الْمُخَنَّثُ لِأَخِي أُمِّ سَلَمَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ : إِنْ فَتَحَ اللَّهُ لَكُمْ الطَّائِفَ غَدًا أَدُلُّكَ عَلَى بِنْتِ غَيْلَانَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَدْخُلَنَّ هَذَا عَلَيْكُنَّ " .´ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اور ان سے ام المؤمنین ام سلمہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف رکھتے تھے ، گھر میں ایک مغیث نامی مخنث بھی تھا ۔ اس مخنث ( ہیجڑے ) نے ام سلمہ کے بھائی عبداللہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر کل اللہ نے تمہیں طائف پر فتح عنایت فرمائی تو میں تمہیں غیلان کی بیٹی کو دکھلاؤں گا کیونکہ وہ سامنے آتی ہے تو ( مٹاپے کی وجہ سے ) اس کے چار شکنیں پڑ جاتی ہیں اور جب پیچھے پھرتی ہے تو آٹھ ہو جاتی ہیں ۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ام سلمہ سے ) فرمایا کہ یہ ( مخنث ) تمہارے پاس اب نہ آیا کرے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
حافظ نے کہا اس حدیث سے ان لوگوں سے بھی پردے کا حکم نکلتا ہے جو عورتوں کا حسن و قبح پہچانیں، اگرچہ وہ زنانے یا ہیجڑے ہی کیوں نہ ہوں۔
بعد میں حضرت غیلان اور ان کی یہ لڑکیاں مسلمان ہو گئے تھے۔
غیلان کے گھر دس عورتیں تھیں، آپ نے چار کے علاوہ اوروں کے چھوڑ دینے کا اس کو حکم فرمایا۔
(خیر الجاري)
(1)
ہیجڑوں کی دوقسمیں ہیں: ایک وہ جو پیدائشی ہوتے ہیں، وہ تو عورتوں کے حکم میں ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے منع نہیں فرمایا۔
دوسرے وہ جو تکلف سے ہیجڑے بنتے ہیں، یہ حرکت قابل مذمت ہے اور ایسے لوگوں کو عورتوں کے پاس آنا منع ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ان لوگوں سے بھی عورتوں کو پردہ کرنا چاہیے جو عورتوں حسن و قبح کے (خوبصورتی اور بدصورتی)
کو پہچانتے ہوں اگرچہ وہ زنانے اور ہیجڑے ہی کیوں نہ ہوں۔
(فتح الباري: 417/9)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس قسم کے تمام ہیجڑوں کو مدینہ طیبہ سے نکال دیا تھا تاکہ یہ مدینے کی فضا خراب نہ کریں۔
والله اعلم
(1)
عورت کے پیٹ پر سامنے کی جانب سے چار شکن اور جب پیٹھ پھیرے تو پہلوؤں کی جانب سے یہی چار شکن آٹھ بن جاتے ہیں۔
عربوں کے ہاں عورت کا اس انداز سے موٹے جسم والا ہونا خوبصورتی کی علامت تھی۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فسادی مزاج کے افراد کو گھروں سے نکال دینا چاہیے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ جس سے بھی لوگوں کو تکلیف ہو یا معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو اسے وہاں سے نکال دینا مشروع ہے یہاں تک کہ وہ باز آ جائے۔
(فتح الباري: 10/411) (3)
معاشرتی بگاڑ کا باعث چیزوں کو بھی گھر سے باہر نکال پھینکنا چاہیے۔
دور حاضر میں ریڈیو، ٹی وی، وی سی آر، ڈش، کیبل اور عریاں تصاویر پر مشتمل اخبارات و جرائد اسی ضمن میں آتے ہیں۔
کیمرے والے موبائل بھی معاشرے میں فساد پیدا کرتے ہیں، چنانچہ ان چیزوں کے برے اثرات ہمارے گھروں میں کھلی آنکھ سے دیکھے جا سکتے ہیں۔
واللہ المستعان
1۔
قبیلہ ہوازن کے لوگ غزوہ حنین سے شکست کھا کر اوطاس آئے۔
یہاں سے منہ کی کھائی تو طائف میں قلعہ بند ہوگئے۔
آس پاس کی بستیوں سے سامان خورد نوش (کھانے پینے کا سامان)
جمع کر کے خود محصور کر لیا تو رسول اللہ ﷺ نے طائف کا محاصرہ کرنا ضروری خیال کیا۔
حدیث میں مذکورواقعہ اسی محاصرے کے دوران میں پیش آیا۔
2۔
حضرت عبد اللہ بن امیہ ؓ جو حضرت ام سلمہ ؓ کے بھائی تھے فتح مکہ کے وقت حضرت ابو سفیان بن حارث ؓ کے ساتھ مسلمان ہوئے تھے۔
مخنث انھی کا آزاد کیا ہوا تھا رسول اللہ ﷺ نے اسے بے ضررخیال کرکے گھر میں آنے جانے کی اجازت دے رکھی تھی۔
جب اس نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے حضرت عبد اللہ بن امیہ ؓ کو بادیہ بنت غیلان کے اوصاف بتائے اور اس کے موٹا پے کو مخصوص انداز میں بیان کیا تو پتہ چلا کہ یہ لوگ بھی عورتوں کے معاملے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں گویا دل پھینک قسم کے لوگ ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے گھر آنے جانے پر پابندی لگا دی بلکہ مدینہ طیبہ آنے کے بعد اسے مدینے سے نکال دیا۔
جب رسول اللہ ﷺ وفات پاگئے تو حضرت ابو بکر ؓ نے اسے واپس لانے سے انکار کردیا۔
جب حضرت عمر ؓ خلیفہ منتخب ہوئے تو ان سے گزارش کی گئی کہ ہیبت ضعیف اور کمزور ہو چکا ہے اسے صرف اتنی اجازت دیں کہ جمعے کے دن مدینے آجایا کرے اور لوگوں سے آٹھ دن کے اخراجات جمع کر کے اپنی جگہ چلاجایا کرے تو آپ نے اسے اس قدر اجازت دے دی۔
(عمدة القاري: 298/12)
3۔
حضرت ام سلمہ بنت امیہ ؓ کے بھائی حضرت عبد اللہ بن امیہ ؓ غزوہ طائف میں شہید ہو گئے۔
انھیں نامعلوم طرف سے تیرلگا جو جان لیوا ثابت ہوا۔
(فتح الباري: 55/8)
۔
۔
نوٹ:۔
عربوں کے ہاں موٹی عورت پسندیدہ ہے۔
بادیہ بنت غیلان بھی فربہ اور خوب موٹی تازی تھی ہیبت مخنث نے اس کے موٹا پے کو جس انداز سے بیان کیا امام بخاری ؒ نے اس کی کوبصورت توجیہ کی ہے کہ موٹا ہونے کی وجہ سے اس کے پیٹ پر چار شکن پڑتے ہیں تو پچھلی طرف سے چار دائیں جانب اور چار بائیں جانب معلوم ہوتے ہیں اس طرح پچھلی طرف آٹھ شکن بن جاتے ہیں۔
(صحیح البخاري، اللباس، حدیث: 5857)
(1)
ہیجڑا جو طبعی طور پر عورتوں جیسا اخلاق، ان جیسی حرکات و سکنات اور ان جیسے طور و اطوار اپناتا ہے، یہ دینی طور پر معذور ہے، قابل مذمت نہیں ہے، اس کو عورتوں جیسے رویہ اور انداز کو بدلنے کی کوشش کرنا چاہیے۔
(2)
زنانہ، جو جان بوجھ کر عمدا عورتوں جیسا رویہ اور گفتگو بنانے کی کوشش کرتا ہے، یہ قابل ملامت ہے، اگرچہ کسی بری حرکت کا ارتکاب نہ بھی کرے، ھیت نامی مخنث نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عبداللہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عبدالرحمٰن دونوں کو کہا تھا کہ میں طائف کی فتح کے بعد تمہیں ثقیف کے ایک سردار غیلان بن سلمہ کی بیٹی بادیہ نامی کا پتہ دوں گا، وہ خوب موٹی تازہ اور عربی مزاج کے مطابق قابل کشش ہے، تم اسے لینے کی کوشش کرنا۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے ان کے پاس ایک ہجڑا بیٹھا ہوا تھا اور وہ ان کے بھائی عبداللہ سے کہہ رہا تھا: اگر کل اللہ طائف کو فتح کرا دے تو میں تمہیں ایک عورت بتاؤں گا، کہ جب وہ سامنے سے آتی ہے تو چار سلوٹیں لے کر آتی ہے، اور جب پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو آٹھ سلوٹیں لے کر جاتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” انہیں اپنے گھروں سے نکال دو ۱؎۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: «تقبل بأربع» کا مطلب ہے عورت کے پیٹ میں چار سلوٹیں ہوتی ہیں یعنی پیٹ میں چربی چھا جانے کی وجہ سے خوب موٹی اور تیار ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4929]
فسادی مزاج افراد کو گھروں میں آنے جانے کا موقع دینا معاشرے میں فساد بڑھانے کا ذریعہ ہے۔
اس لیے اپنے گھروں کو ان سے پاک صاف رکھنا ضروری ہے۔
تو موجودہ دور کے ریڈیو، ٹی وی، وی سی آر، ڈش، کیبل، نیز عریاں تصاویر والے رسالے اخبارات رسالے سبھی اسی ضمن میں آتے ہیں اور فی الواقع ان چیزوں کے نا گفتہ بہ اثرات بھی ہمارے گھروں اور ماحول میں نمایاں ہیں۔
و إلی اللہ المشتکی۔
ان سے چھُٹکارا حاصل کرنا واجب ہے۔
باب نمبر 54: گڑیوں سے کھیلنے کا بیان۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، وہاں ایک ہیجڑے کو سنا جو عبداللہ بن ابی امیہ سے کہہ رہا تھا: اگر اللہ کل طائف کو فتح کر دے گا تو میں تم کو ایک عورت بتاؤں گا جو سامنے آتی ہے چار سلوٹوں کے ساتھ اور پیچھے مڑتی ہے آٹھ سلوٹوں کے ساتھ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے اپنے گھروں سے باہر نکال دو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1902]
فوائدو مسائل: (1)
مخنث دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ جو پیدائشی طور پر صنفی طاقت سے محروم ہوتے ہیں اور ان میں اس قسم کے جذبات بھی نہیں ہوتے۔
دوسرے جو مرادانہ صفات کے حامل ہونے کے باوجود زنانہ وضع قطع اختیار کرتے ہیں۔
پہلی قسم کے افراد اگر صنفی امور سے بالکل غافل ہوں اور ان کی توجہ صرف کھانے پینے کی طرف ہو تو ان سے پردہ کرنے کے حکم میں سختی نہیں البتہ اگر وہ صنفی امور سے واقف ہوں اور اس قسم کی بات چیت میں دلچسپی رکھتے ہوں تو ان سے عام مردوں کی طرح پردہ کرنا چاہیے۔
(2)
جو شخص پیدائشی طور پر مرد ہو لیکن وہ عورتوں کا لباس پہنے اور ان کی سی وضع قطع اختیار کرے اسے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
مرد ہو کر عورت بننا لعنت کا باعت ہے۔
(3)
غیر محرم مرد یا مخنث کو بے جھجک عورتوں کے پاس نہیں چلے جانا چاہیے۔
اگر وہ آجائے تو عورتوں کو چاہیے کہ پردہ کرلیں۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، تو ایک مخنث کو عبداللہ بن ابی امیہ سے یہ کہتے سنا کہ اگر اللہ تعالیٰ کل طائف فتح کرا دے، تو میں تمہیں ایسی عورت کے بار ے میں بتاؤں گا جو آگے کی طرف مڑتی ہے تو چار سلوٹیں پڑ جاتی ہیں، اور پیچھے کی جانب مڑتی ہے تو آٹھ سلوٹیں ہو جاتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ان (مخنثوں) کو اپنے گھروں سے نکال دو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2614]
فوائد و مسائل:
(1)
مخنث سے مراد وہ انسان ہے جس کے صنفی اعضاء میں مردوں اورعورتوں دونوں کے مشابہت پائی جاتی ہے۔
ایسا شخص شادی شدہ زندگی گزرارنے کے قابل نہیں ہوتا نہ بحثیت مرد نہ بحثیت عورت کےاگر ایک صنف سے مشابہت زیادہ ہوتو اس صنف میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
(2)
عرب میں ایسے افراد مردوں کی طرح لباس پہنتے اور مردوں کی طرح گھر سے باہر کام کرتے ہیں۔
(3)
ان میں جو شخص عورتو ں کے خاص معاملات میں دلچسپی رکھتا ہو اس سے پردہ کرنا چاہیے۔
(4)
ان میں سے جس شخص کوصنفی معاملات سے دلچسپی نہ ہو صرف کھانے پینے کا خیال ہو انھیں ﴿غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ﴾ (النور 31: 18)
یعنی خواہش نہ رکھنےوالے مردوں میں شمار کیا جاسکتا ہے ان سے عورتوں پر دہ فرض نہیں ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ہر وہ کام جس سے فحاشی پھیلے نہیں ہونا چاہیے، اور جو اس کا سبب بنے اس پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔ نیز اس حدیث میں ہیجڑوں کی ایک بری عادت کا ذکر ہے کہ وہ عورتوں پر نظر رکھتے ہیں کہ فلاں عورت کیسی ہے اور فلاں عورت کیسی ہے، لیکن سارے برابر بھی نہیں ہوتے۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ان کو عورتوں سے میل میلاپ سے منع کر نا چا ہیے۔ ہیجڑے کو معروف زبان میں خواجہ سرا اور کھسرے کہا جا تا ہے۔