حدیث نمبر: 5232
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ ؟ قَالَ : " الْحَمْوُ : الْمَوْتُ " .
مولانا داود راز

´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ابی حبیب نے ، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں میں جانے سے بچتے رہو اس پر قبیلہ انصار کے ایک صحابی نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! دیور کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟ ( وہ اپنی بھاوج کے ساتھ جا سکتا ہے یا نہیں ؟ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیور یا ( جیٹھ ) کا جانا ہی تو ہلاکت ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب النكاح / حدیث: 5232
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2172 | سنن ترمذي: 1171

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
5232. سیدنا عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خود کو اجنبی عورتوں کے پاس جانے سے دور رکھو۔ ایک انصاری نے دریافت کیا، اللہ کے رسول! دیور جیٹھ کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: دیور موت ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5232]
حدیث حاشیہ: حمو سے خاوند کے وہ رشتہ دار مراد ہیں جن کا نکاح اس عورت سے جائز ہے جیسے خاوند کا بھائی، بھتیجا، بھانجا، چچا، چچازاد بھائی، ماموں کا بیٹا وغیرہ جن سے کسی جائز صورت میں اس عورت کا نکاح ہو سکتا ہے لیکن وہ رشتہ دار مراد نہیں ہیں جو محرم ہیں جیسے خاوند کا باپ بیٹا وغیرہ ان کا تنہا ئی میں جانا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5232 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5232. سیدنا عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خود کو اجنبی عورتوں کے پاس جانے سے دور رکھو۔ ایک انصاری نے دریافت کیا، اللہ کے رسول! دیور جیٹھ کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: دیور موت ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5232]
حدیث حاشیہ:
(1)
حمو سے مراد وہ رشتے دار ہیں جو اس کے باپ اور بیٹوں کے علاوہ ہوں، یعنی شوہر کے بھائی، بھتیجے، بھانجے اور چچا، ماموں وغیرہ کیونکہ یہ رشتے دار عورت کے محرم نہیں ہیں۔
اگر شوہر فوت ہو جائے یا بیوی کو طلاق مل جائے تو ان کے ساتھ نکاح ہو سکتا ہے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان رشتے داروں کو موت قرار دیا ہے کہ عام طور پر ان سے غفلت اور سستی کی جاتی ہے، اس بنا پر خطرناک نتائج سامنے آتے ہیں۔
یہ حضرات خاوند کی عدم موجودگی میں اس کی بیوی سے خلوت کرتے ہیں تو اگر معاملہ بوس و کنار تک محدود ہو تو دین کی ہلاکت اور اگر بدکاری تک نوبت پہنچ جائے تو جان کی ہلاکت ہے۔
اس میں عورت کی بھی ہلاکت ہے کہ شوہر کو پتا چلنے کے بعد وہ اسے طلاق دے دے گا یا غیرت میں آ کر قتل کر دے گا۔
(3)
غور و فکر کرنے سے یہ حدیث مذکورہ بالا دونوں مسائل کے لیے دلیل بن سکتی ہے۔
والله المستعان
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5232 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2172 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم عورتوں کے پاس جانے سے بچو۔‘‘ تو ایک انصاری آدمی نے دریافت کیا، اے اللہ کے رسولﷺ! دیور کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’دیور موت ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5674]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
الحمو: خاوند کا قریبی رشتہ دار، مثلا بھائی، چچازاد، ماموں زاد، بھتیجا، چچا، کیونکہ بقول امام نووی رحمہ اللہ اہل لغت کے نزدیک بالا تفاق، احماء، حمو کی جمع ہے۔
)
سے مراد عورت کے خاوند کے رشتہ دار ہیں، مثلاً اس کا چچا، بھائی، بھتیجا وغیر ہم ہے اور اختان سے مراد، بیوی کے اقارب ہیں اور اصھار کا اطلاق، دونوں کے عزیزواقارب پر ہوتا ہے اور یہاں حمو سے مراد خاوند کے باپ اور بیٹے کے علاوہ عزیزواقارب ہیں، کیونکہ خاوند کا باپ اور بیٹا تو محرم ہیں۔
فوائد ومسائل: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمو کو موت قرار دیا ہے، کیونکہ عام طور پر اس کا عورت کے پاس تنہائی میں ملنا بیٹھنا معیوب خیال نہیں کیا جاتا اور اس کی آڑ میں بسا اوقات ان دونوں میں جنسی تعلقات استوار ہو جاتے ہیں، جو انسان یعنی مرد اور عورت کے دین کی موت ہے، اور اگر پتہ چل جائے تو عورت کے لیے رجم کا باعث ہے اور حمو شادی شدہ ہو تو اس کو بھی سنگسار کیا جائے گا اور خاوند غیرت میں آ کر، ان کو قتل بھی کر سکتا ہے، یا وہ بیوی کو طلاق دے دے گا، اس لیے اس سے تنہائی یا خلوت زیادہ خطرناک ہے، اس لیے حمو کی تنہائی کو معمولی خیال نہیں کرنا چاہیے، بدقسمتی سے آج ان ہدایات کو اہمیت نہیں دی جاتی، جس کی بنا پر افسوسناک تعلقات ظہور پذیر ہو رہے ہیں، بھائی، بھائی کی بیوی سے تعلقات استوار کر لیتا ہے، دوست، دوست کی بیوی کو لے اڑتا ہے، اس طرح خاندان تباہ ہو رہے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2172 سے ماخوذ ہے۔