حدیث نمبر: 5226
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ أَوْ أَتَيْتُ الْجَنَّةَ ، فَأَبْصَرْتُ قَصْرًا ، فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَهُ ، فَلَمْ يَمْنَعْنِي إِلَّا عِلْمِي بِغَيْرَتِكَ ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَوَعَلَيْكَ أَغَارُ " .
مولانا داود راز

´ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ بن عمرعمری نے ، ان سے محمد بن منکدر نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جنت میں داخل ہوا یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) میں جنت میں گیا ، وہاں میں نے ایک محل دیکھا میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ فرشتوں نے بتایا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا میں نے چاہا کہ اس کے اندر جاؤں لیکن رک گیا کیونکہ تمہاری غیرت مجھے معلوم تھی ۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، اے اللہ کے نبی ! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب النكاح / حدیث: 5226
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 7024 | صحيح مسلم: 2394

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
5226. سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: میں جنت کے اندر داخل ہوا یا جنت میں پہنچا تو وہاں میں نے ایک محل دیکھا۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں کے کہا: یہ محل سیدنا عمر بن خطاب ؓ کا ہے۔ میں نے چاہا اس کے اندر جاؤں لیکن رک گیا کیونکہ تمہاری غیرت کا مجھے علم تھا۔ سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اے اللہ کے نبی! کیا میں نے آپ پر غیرت کرنا تھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5226]
حدیث حاشیہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام امت کے لئے پدر بزگوار کی طرح تھے اورحضرت عمر رضی اللہ عنہ کے تو آپ داماد بھی تھے، داماد سسر کا عزیز خاص ہوتا ہے، اس میں یہاں غیرت کا سوال ہی نہ تھا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5226 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7024 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7024. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں (بحالت خواب) جنت میں داخل ہوا۔ وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ سونے کے محل میں داخل ہو رہا ہوں۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ محل ایک قریشی مرد کا ہے۔ اے ابن الخطاب! مجھے اس کے اندر جانے سے تمہاری غیرت نے روک دیا جسے میں خوب جانتا ہوں۔ حضرت عمر ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں آپ پر غیرت کر سکتا ہوں؟۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7024]
حدیث حاشیہ:

ابن قتیبہ اور علامہ خطابی نے اس حدیث کے لفظ (تَتَوَضَّاءُ)
پر اعتراض کیا ہے کہ اس میں تحریف ہوئی ہے یہ اصل میں (شوهاء)
ہے جس کے معنی خوبصورت کے ہیں اس کی بنیاد یہ ہے کہ جنت دار تکلیف نہیں کہ وہاں وضو کرنے کی ضرورت ہو۔
لیکن یہ اعتراض برمحل نہیں کیونکہ وہ عورت اس لیے وضو کرتے ہوئے دکھائی گئی تاکہ اس کا حسن دوبالا ہو اور اس کے نور میں اضافہ ہو۔
وہ میل کچیل دور کرنے کرنے کے لیے وضو نہیں کرتی تھیں کیونکہ جنت اس سے پاک ہے۔
اس بنا پر ان بزرگوں کا صحیح بخاری کے الفاظ پر اعتراض درست نہیں۔

علامہ کرمانی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے۔
کہ تتوضأ کا لفظ وضاءة سے مشتق ہے جس کے معنی نظافت و لطافت کے ہیں وضو سے بھی مشتق ہو سکتا ہے اور جنت کا دار تکلیف نہ ہونا اس امر سے مانع نہیں کیونکہ ہو سکتا ہےکہ یہ وضو بطور تکلیف نہ ہو۔
واللہ أعلم۔
(فتح الباري: 519/12)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7024 سے ماخوذ ہے۔