صحيح البخاري
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان
بَابُ الْمُتَشَبِّعِ بِمَا لَمْ يَنَلْ، وَمَا يُنْهَى مِنِ افْتِخَارِ الضَّرَّةِ: باب: جھوٹ موٹ جو چیز ملی نہیں اس کو بیان کرنا کہ مل گئی، اس طرح اپنی سوکن کا دل جلانے کے لیے کرنا عورت کے واسطے منع ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، أَنَّ امْرَأَةً ، قَالَتْ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي ضَرَّةً ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ إِنْ تَشَبَّعْتُ مِنْ زَوْجِي غَيْرَ الَّذِي يُعْطِينِي ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ " .´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( دوسری سند ) اور مجھ سے محمد بن مثنٰی نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے فاطمہ بنت منذر نے بیان کیا اور ان سے اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما نے کہ` ایک خاتون نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میری سوکن ہے اگر اپنے شوہر کی طرف سے ان چیزوں کے حاصل ہونے کی بھی داستانیں اسے سناؤں جو حقیقت میں میرا شوہر مجھے نہیں دیتا تو کیا اس میں کوئی حرج ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ جو چیز حاصل نہ ہو اس پر فخر کرنے والا اس شخص جیسا ہے جو فریب کا جوڑا یعنی ( دوسروں کے کپڑے ) مانگ کر پہنے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
گویا آپ نے سوکن کے سامنے بھی غلط بیانی کی اجازت نہیں دی کمال تقویٰ یہی ہے۔
(1)
متشبع کے معنی ہیں: سیرابی کو ظاہر کرنا، حالانکہ وہ سیر شدہ نہیں ہے۔
اسے کپڑوں سے تشبیہ دی ہے کیونکہ سیرابی یا کپڑے دونوں انسان کو چھپا لیتے ہیں، ایک باطنی طور پر دوسرا ظاہری لحاظ سے۔
(2)
بعض حضرات نے دو جھوٹے کپڑوں کے یہ معنی کیے ہیں کہ ایک جھوٹا آدمی، جھوٹی گواہی دینے کے لیے شریف آدمی کی چادر اور تہبند پہن لے تا کہ جھوٹے آدمی کی شرافت ظاہر ہو۔
اس طرح بعض عورتیں اپنی قمیص کے نیچے دوسرے رنگ والا باڈر لگا لیتی ہیں تاکہ وہ دو قمیص ظاہر ہوں۔
(3)
عورت کی طرف سے یہ مذموم حرکت ہے کہ وہ اپنی سوکن کا دل جلانے کے لیے کہے کہ خاوند نے مجھے یہ کچھ دیا ہے، حالانکہ اس نے اسے کچھ نہ دیا ہو۔
یہ عورت اس جھوٹے شخص کی طرح ہے جو ریاکاری کے طور پر زاہدوں جیسے کپڑے پہن لیتا ہے، حالانکہ وہ زاہد نہیں ہے۔
(فتح الباري: 394/9)
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا: اللہ کے رسول! میری ایک پڑوسن یعنی سوکن ہے، تو کیا مجھ پر گناہ ہو گا اگر میں اسے جلانے کے لیے کہوں کہ میرے شوہر نے مجھے یہ یہ چیزیں دی ہیں جو اس نے نہیں دی ہیں، آپ نے فرمایا: ” جلانے کے لیے ایسی چیزوں کا ذکر کرنے والا جو اسے نہیں دی گئیں اسی طرح ہے جیسے کسی نے جھوٹ کے دو لبادے پہن لیے ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4997]
کسی مسلمان کو دھوکا دینا یا مانگے تانگے کی چیز پر اترنا کسی صاحب ایمان کو زیب نہیں دیتا ہے۔
اسی طرح سوکنوں کا آپس میں ایسی کیفیت پیدا کرنا کہ دوسری کڑھنے لگے جائز نہیں۔
یا کوئی اپنے آپ کو دکھلاوے کے طور پر زاہد ظاہرکرے، حالانکہ حقیقت اس کے خلاف ہو۔
۔ اس حدیث میں جھوٹ کی ایک قسم کا بیان ہے کہ انسان ظاہری اعتبار سے وہ ظاہر کرے جو حقیقت میں اس کے پاس نہ ہو، یہ جھوٹ ہے اور کبیرہ گناہ ہے۔ یہ جھوٹ کی عام قسم ہے، اللہ تعالیٰ ٰ اس سے بچنے کی توفیق عطا فرماۓ، آمین۔