صحيح البخاري
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان
بَابُ إِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى الْبِكْرِ: باب: کنواری بیوی کے ہوتے ہوئے جب کسی نے بیوہ عورت سے شادی کی تو کوئی گناہ نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، وَخَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " مِنَ السُّنَّةِ : إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا ، وَقَسَمَ وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى الْبِكْرِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَسَمَ " . قَالَ أَبُو قِلَابَةَ : وَلَوْ شِئْتُ لَقُلْتُ : إِنَّ أَنَسًا رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَخَالِدٍ ، قَالَ خَالِدٌ : وَلَوْ شِئْتُ ، قُلْتُ : رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .´ہم سے یوسف بن راشد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے سفیان ثوری نے ، کہا ہم سے ایوب اور خالد نے دونوں نے بیان کیا ، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ دستور یہ کہ` جب کوئی شخص پہلے سے شادی شدہ بیوی کی موجودگی میں کسی کنواری عورت سے شادی کرے تو اس کے ساتھ سات دن تک قیام کرے اور پھر باری مقرر کرے اور جب کسی کنواری بیوی کی موجودگی میں پہلے سے شادی شدہ عورت سے نکاح کرے تو اس کے ساتھ تین دن تک قیام کرے اور پھر باری مقرر کرے ۔ ابوقلابہ نے بیان کیا کہ اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کی ہے ۔ اور عبدالرزاق نے بیان کیا ، انہیں سفیان نے خبر دی ، انہیں ایوب اور خالد نے کہا کہ اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
كچھ حضرات کا موقف ہے کہ شوہر دیدہ اور کنواری کے لیے تین دن ہی قیام کیا جائے ان کا کہنا ہے کہ کنواری کے پاس سات دن اور شوہر دیدہ کے پاس تین دن عدل و انصاف کے منافی ہے لیکن یہ موقف مذکورہ احادیث کے خلاف ہے، نیز ایک دوسری حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ نے ان سے فرمایا: ’’آپ کا خاندان میرے ہاں انتہائی قابل احترام ہے، اگر آپ چاہتی ہیں تو آپ کے لیے سات دن تک قیام کرسکتا ہوں لیکن اس صورت میں باقی بیویوں کے پاس بھی سات سات دن رہوں گا، پھر باری مقرر کی جائے گی۔
اور اگر آپ چاہیں تو آپ کے ہاں تین دن قیام کر کے اس کے فوراً بعد باری مقرر کر دی جائے گی۔
‘‘ تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ میرے پاس تین دن ہی قیام رکھیں۔
(صحیح مسلم، الرضاع، حدیث: 3622 (1460)
نئی بیوی کو خاوند سے ذرا وحشت ہوتی ہے خصوصاً کنواری کو جس کے لئے سات دن اس لئے مقرر کئے کہ اس کی وحشت دور ہو کر اس کا دل مل جائے اس کے بعد پھر باری باری رہے تاکہ انصاف کے خلاف نہ ہو۔
(1)
یہ مسنون اس لیے ہے کہ کنواری میں شرم و حیا زیادہ ہوتی ہے۔
وہ محبت اور مہر و وفا کی بھی زیادہ حقدارہے، لہٰذا اس کے لیے سات دن مقرر کیے گئے ہیں تاکہ اس کی وحشت دور ہو جائے اور اس کا دل لگ جائے، نیز وہ آسانی اور شوہر کی نرمی کو پسند کرتی ہے جبکہ شوہر دیدہ کے لیے تین دن اس لیے مقرر ہیں کہ وہ جلدی مانوس ہو جاتی ہے اور ماحول میں گھل مل جاتی ہے۔
اس نے چونکہ شوہر کا تجربہ کیا ہوتا ہے اور جماع کی وجہ سے اس کی حیا بھی کم ہوتی ہے۔
(2)
واضح رہے کہ یہ وہ ایام ہوں گے جو میل ملاپ میں مانع نہ ہوں اور ان میں عورت کو حیض نہ آتا ہو۔
والله اعلم
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اگر میں چاہوں تو کہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن انہوں نے صرف اتنا کہا: " سنت ۱؎ یہ ہے کہ آدمی جب اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں سات رات ٹھہرے، اور جب غیر کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں تین رات ٹھہرے۔" [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1139]
وضاخت: 1؎:
صحابی کا ’’سنت یہ ہے‘‘ کہنا بھی حدیث کے مرفوع ہونے کا اشارہ ہے، تمام ائمہ کا یہی قول ہے۔
اور پھر باری جلدی آ جائےگی۔
اوردوسری حدیثوں سے یہ بات معلوم ہوئی کہ نئی دلہن اگر کنواری ہو تو اس کو باری سے الگ سات دن ملیں گے، پھر باری شروع ہو گی اوراگر شوہر دیدہ ہو تو تین دن کے بعد باری کا آغاز ہو جائےگا۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
شافعی رحمۃ اللہ علیہ۔
احمد رحمۃ اللہ علیہ۔
اسحاق رحمۃ اللہ علیہ۔
شعبی رحمۃ اللہ علیہ۔
اورنخعی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہم جمہور علماء کا یہی مؤقف ہے۔
امام سعید بن المسیب رحمۃ اللہ علیہ۔
حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ۔
نافع رحمۃ اللہ علیہ۔
اور اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک کنواری کے لیے تین دن اور بیوہ کے لیے دو دن زائد ہوں گے۔
لیکن احناف کے نزدیک پہلے دن سے ہی باری ہو گی، کوئی زائد دن نہیں ملے گا۔
پھر نئی دلہن کےپاس جتنے دن ٹھہرے گا بعد میں ہر بیوی کے ہاں اتنے ہی دن ٹھہرے گا۔
لیکن یہ بات حدیث کے منافی ہے نیز جب صحابی من السنۃ کا لفظ استعمال کرے تو یہ جمہور محدثین کے نزدیک حکماً مرفوع ہے اور خالد راوی نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " غیر کنواری (شوہر دیدہ) کے لیے تین دن، اور کنواری کے لیے سات دن ہیں، (پھر باری تقسیم کر دیں) " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1916]
فوائد و مسائل:
(1)
پہلی بیوی یا بیویوں کی موجودگی میں جب نئی شادی کی جائے تو نئی دلہن کے پاس چند دن رہ کر پھر باری مقرر کرنی چاہیے۔
(2)
نئی آنے والی دلہن اگر بیوہ یا مطلقہ ہے یعنی یہ اس کا دوسرا نکاح ہے تو خاوند کو چاہیے کہ تین دن اس کے ہاں رہائش رکھے، یعنی اس کی رہائش کے لیے جو مکان یا کمرہ مقرر کیا ہے اس میں رہائش رکھے اور اگر نئی بیوی کنواری ہے تو پورا ایک ہفتہ اس کے ساتھ رہے۔
(3)
تین دن یا سات دن نئی بیوی کے پاس رہنے کا یہ مطلب نہیں کہ اس دوران میں پہلی بیویوں کو فراموش ہی کر دے۔
مطلب یہ ہے کہ اسے زیادہ وقت دے اور رات اس کے ساتھ گزارے۔
(4)
یہ مدت ختم ہونے کے بعد نئی بیوی کے بھی اتنے ہی حقوق ہوں گے جتنے پہلی بیویوں کے ہیں۔
جس طرح دوسری بیویوں کی باری ہوگی، اسی طرح نئی بیوی کی بھی باری ہو گی۔
خاوند اخراجات اور شب باشی میں اس کے ساتھ دوسری بیویوں جیسا سلوک کرے گا۔
اس کے ہاں وہی رات گزارے گا جب اس کی باری ہو گی۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب کوئی ثیبہ کے رہتے ہوئے کنواری سے شادی کرے تو اس کے ساتھ سات رات رہے، اور جب ثیبہ سے شادی کرے تو اس کے پاس تین رات رہے۔ راوی کا بیان ہے کہ اگر میں یہ کہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے تو سچ ہے لیکن انہوں نے کہا کہ " سنت اسی طرح ہے۔" [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2124]
1: صحابی کا کسی عمل کے بارے میں سنت کہہ دینا اس کے مرفوع ہونے کی دلیل ہوتی ہے۔
2: تین یا سات دن کی خصوصیت ابتدائی دنوں کی ہے اس کے بعد عدل سے باری مقرر کر لی جائے اور طے شدہ نظام کے مطابق عمل کیا جائے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسنون طریقہ یہ ہے کہ جب مرد شوہر دیدہ پر کنواری بیاہ کر لائے تو اس نئی دلہن کے پاس پہلے سات روز قیام کرے پھر باری تقسیم کرے اور جب شوہر دیدہ سے نکاح کرے تو اس کے پاس تین روز قیام کرے پھر باری تقسیم کرے۔ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 907»
«أخرجه البخاري، النكاح، باب إذا تزوج الثيب علي البكر، حديث:5214، مسلم، الرضاع، باب قدر ما تستحقه البكر والثيب من إقامة الزوج عندها عقبالزفاف، حديث:1461.»
تشریح: اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ نئی بیوی کے ساتھ زفاف کی راتیں بسر کرنا اس کا حق ہے اور دوسری بیویوں پر اسے ترجیح دی جائے گی۔
یہ مدت ختم ہونے کے بعد پھر نئی اور پرانی بیویاں باریوں کی تقسیم میں مساوی استحقاق رکھتی ہیں۔