حدیث نمبر: 5205
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ الْحَسَنِ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ زَوَّجَتِ ابْنَتَهَا ، فَتَمَعَّطَ شَعَرُ رَأْسِهَا ، فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَتْ : إِنَّ زَوْجَهَا أَمَرَنِي أَنْ أَصِلَ فِي شَعَرِهَا ، فَقَالَ : لَا ، إِنَّهُ قَدْلُعِنَ الْمُوصِلَاتُ " .
مولانا داود راز

´ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن نافع نے ، ان سے حسن نے وہ مسلم کے صاحبزادے ہیں ، ان سے صفیہ رضی اللہ عنہا نے ، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` قبیلہ انصار کی ایک خاتون نے اپنی بیٹی کی شادی کی تھی ۔ اس کے بعد لڑکی کے سر کے بال بیماری کی وجہ سے اڑ گئے تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا اور کہا کہ اس کے شوہر نے اس سے کہا ہے کہ اپنے بالوں کے ساتھ ( دوسرے مصنوعی بال ) جوڑے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ ایسا تو ہرگز مت کر کیونکہ مصنوعی بال سر پر رکھ کے جو جوڑے تو ایسے بال جوڑنے والیوں پر لعنت کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب النكاح / حدیث: 5205
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5934 | صحيح مسلم: 2123

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
5205. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ قبیلہ انصار کی ایک عورت نے اپنی بیٹی کی شادی کی۔ اس (بےچاری) کے سر کے بال بیماری کی وجہ سے گر گئے۔ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے اس کا ذکر کیا اور کہا کہ اس کے شوہر نے مجھے اس کے بالوں کے ساتھ مصنوعی بال جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا مت مرو کیونکہ اس طرح بال ملانے والی عورتوں پر لعنت کی گئی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5205]
حدیث حاشیہ: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر شوہر شریعت کے حکم کے خلاف کوئی بات کہے تو عورت اگر اس کو بجا نہ لائے تو اس پر گناہ نہ ہوگا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5205 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5205. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ قبیلہ انصار کی ایک عورت نے اپنی بیٹی کی شادی کی۔ اس (بےچاری) کے سر کے بال بیماری کی وجہ سے گر گئے۔ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے اس کا ذکر کیا اور کہا کہ اس کے شوہر نے مجھے اس کے بالوں کے ساتھ مصنوعی بال جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا مت مرو کیونکہ اس طرح بال ملانے والی عورتوں پر لعنت کی گئی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5205]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شوہر کو خوش رکھنے کے لیے غیر شرعی خوبصورتی کرنا جائز نہیں۔
آج کل کی روشن خیال خواتین مصنوعی خوبصورتی کے لیے بہت سے غیر شرعی کام کرتی ہیں جو مردوں کے لیے باعث کشش ہوتے ہیں۔
ان میں سے ایک مصنوعی بالوں کی وگ استعمال کرنا ہے۔
یہ اس لیے ممنوع ہے کہ ایسا کام فاجر اور بے حیا عورتیں کرتی ہیں، نیز یہ اللہ تعالیٰ کی خلقت کو تبدیل کرنے کے مترادف ہے۔
(2)
بہرحال اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر شوہر شریعت کے خلاف حکم دے تو عورت کو چاہیے کہ وہ نہ مانے، ایسے حالات میں اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا اور نہ یہ فعل خاوند کی نافرمانی ہی کے زمرے میں آئے گا۔
والله المستعان
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5205 سے ماخوذ ہے۔