صحيح البخاري
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان
بَابُ الْوَلِيمَةِ وَلَوْ بِشَاةٍ: باب: ولیمہ میں ایک بکری بھی کافی ہے۔
حدیث نمبر: 5170
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : " بَنَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ فَأَرْسَلَنِي ، فَدَعَوْتُ رِجَالًا إِلَى الطَّعَامِ " .مولانا داود راز
´ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ، ان سے بیان بن بشر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک خاتون ( زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ) کو نکاح کر کے لائے تو مجھے بھیجا اور میں نے لوگوں کو ولیمہ کھانے کے لیے بلایا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
5170. سیدنا انس ؓ ہی سے ایک اور روایت ہے، فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک خاتون سے نکاح کیا اور مجھے دعوت دینے کے لیے بھیجا تو میں نے لوگوں کو طعام کے لیے بلایا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5170]
حدیث حاشیہ: تفصیل کے لئے حدیث پیچھے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5170 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5170. سیدنا انس ؓ ہی سے ایک اور روایت ہے، فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک خاتون سے نکاح کیا اور مجھے دعوت دینے کے لیے بھیجا تو میں نے لوگوں کو طعام کے لیے بلایا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5170]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں خاتون سے مراد حضرت زینب رضی اللہ عنہا ہیں جیسا کہ ایک روایت میں یہ وضاحت ہے کہ جب لوگ کھانا کھا کر چلے گئے تو دو آدمی وہاں بیٹھے باتیں کرتے رہے، پھر اس روایت میں آیت حجاب کے نزول کا ذکر ہے۔
(جامع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث: 3219)
اس حدیث میں خاتون سے مراد حضرت زینب رضی اللہ عنہا ہیں جیسا کہ ایک روایت میں یہ وضاحت ہے کہ جب لوگ کھانا کھا کر چلے گئے تو دو آدمی وہاں بیٹھے باتیں کرتے رہے، پھر اس روایت میں آیت حجاب کے نزول کا ذکر ہے۔
(جامع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث: 3219)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5170 سے ماخوذ ہے۔