صحيح البخاري
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان
بَابُ الْوَلِيمَةِ وَلَوْ بِشَاةٍ: باب: ولیمہ میں ایک بکری بھی کافی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " سَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَتَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ ، كَمْ أَصْدَقْتَهَا ؟ قَالَ : وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ " . وَعَنْ حُمَيْدٍ ، سَمِعْتُ أَنَسًا ، قَالَ : لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ نَزَلَ الْمُهَاجِرُونَ عَلَى الْأَنْصَارِ فَنَزَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ عَلَى سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ، فَقَالَ : أُقَاسِمُكَ مَالِي وَأَنْزِلُ لَكَ عَنْ إِحْدَى امْرَأَتَيَّ ، قَالَ : بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ ، فَخَرَجَ إِلَى السُّوقِ فَبَاعَ وَاشْتَرَى فَأَصَابَ شَيْئًا مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ فَتَزَوَّجَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " .´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے حمید طویل نے بیان کیا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے پوچھا ، انہوں نے قبیلہ انصار کی ایک عورت سے شادی کی تھی کہ مہر کتنا دیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونا ۔ اور حمید سے روایت ہے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے بیان کیا کہ جب ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین صحابہ ) مدینہ ہجرت کر کے آئے تو مہاجرین نے انصار کے یہاں قیام کیا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے یہاں قیام کیا ۔ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں آپ کو اپنا مال تقسیم کر دوں گا اور اپنی دو بیویوں میں سے ایک کو آپ کے لیے چھوڑ دوں گا ۔ عبدالرحمٰن نے کہا کہ اللہ آپ کے اہل و عیال اور مال میں برکت دے پھر وہ بازار نکل گئے اور وہاں تجارت شروع کی اور پنیر اور گھی نفع میں کمایا ۔ اس کے بعد شادی کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ دعوت ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کی ہو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
گوشت نہ ہو تو جو بھی دال دلیہ ہو اسی سے ولیمہ کیا جا سکتا ہے۔
(1)
دعوت ولیمہ میں افضل یہ ہے کہ گوشت کا اہتمام کیا جائے اور وہ بھی چھوٹا، یعنی بکری وغیرہ کا ہونا چاہیے لیکن ولیمے کے لیے یہ شرط نہیں ہے۔
انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائے۔
(2)
اس سلسلے میں درج ذیل امور کو پیش نظر رکھا جائے: ٭دعوت ولیمہ کا حسب توفیق اہتمام کرنا چاہیے، اس سلسلے میں قرض لینے سے اجتناب کرے۔
٭نمود و نمائش سے دور رہے کیونکہ ریا کاری سےنیکی، گناہ میں بدل جاتی ہے۔
٭فضول خرچی اور اسراف سے بھی کنارہ کش رہے کیونکہ یہ عادت اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔
٭دعوت ولیمہ میں غرباء و مساکین کو نظراندازنہ کیا جائے بصورت دیگر یہ بد ترین کھانا شمار ہوگا۔
٭دعوت ولیمہ میں فواحش و منکرات کے اہتمام سے بچنا بھی ضروری ہے۔
(وحیدی)
آج کل لوگ نام و نمود کے لئے ہزاروں کا مہر باندھ دیتے ہیں بعد میں ادائیگی کا نام نہیں لیتے إلا ماشاءاللہ۔
ایسے لوگوں کو چاہئے کہ اتنا ہی مہر بندھوائیں جسے بخوشی ادا کر سکیں۔
(1)
اس حدیث میں کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے حق مہر ہونے کا ذکر ہے لیکن یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ وہ گٹھلی کتنی مقدار کی تھی، نیز بڑی تھی یا چھوٹی تھی اور اس کا وزن کتنا تھا۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی وضاحت سن کر خاموشی اختیار کی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حق مہر کی مقدار معین نہیں ہے، فریقین جس پر اتفاق کرلیں اور راضی ہو جائیں وہ مہر سمجھا جائے۔
امام بخاری رحمہ اللہ کا بھی یہی مقصود ہے لیکن مقام افسوس ہے کہ آج کل محض نام و نمود کی خاطر ہزاروں حق مہر باندھ لیتے ہیں، بعد میں اس کی ادائیگی کا نام تک نہیں لیتے۔
بیوی بے چاری رواداری میں خاموش رہتی ہے۔
ایسے حضرات کو چاہیے کہ وہ اتنا ہی حق مہر رکھیں جسے آسانی اور خوشی کے ساتھ ادا کرسکیں۔
اس سلسلے میں انانیت اور جھوٹی عزت نفس کو نظر انداز کریں۔
(3)
واضح رہے کہ حق مہر لڑکی کا حق ہے۔
اگر وہ کسی دباؤ کے بغیر اپنی رضا و رغبت سے تمام یا کچھ حصہ معاف کر دے تو یہ اس کی فیاضی اور دریا دلی ہے، بصورت دیگر سارا حق مہر ادا کرنا ضروری ہے۔
والله اعلم
ترمذی کی روایت میں یوں ہے۔
(بَارَكَ اللهُ لكَ و بَاركَ عليكَ، و جَمَعَ بينَكُمَا في خير)
بقی بن مخلد کی روایت میں یہ الفاظ مروی ہیں حضرت عبد الرحمن نے زردی نہیں لگائی تھی بلکہ ان کی دولہن کی زردی ان کولگ گئی ہوگی۔
(وحیدی)
(1)
دور جاہلیت میں دلھے کو رفاء اور بنین کے الفاظ سے دعا دی جاتی تھی جس کے معنی ہیں کہ تمہارے اندر اتفاق رہے اور تمہیں نرینہ اولاد ملے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ کے بجائے بارك الله لك......کے الفاظ سے دعا سکھائی ہے۔
چونکہ دور جاہلیت کی دعا میں اللہ کا نام نہیں تھا اور اس میں لڑکیوں سے بغض کی بو آتی تھی، اس بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دلہے کے لیے اللہ کی طرف سے خیر و برکت کی دعا سکھائی ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دلہے کو ان الفاظ میں دعا دیتے (بَارَكَ اللهُ لكَ و بَاركَ عليكَ، و جَمَعَ بينَكُمَا في خير)
(جامع الترمذي، النکاح، حدیث: 1091) (2)
ایک دفعہ قاضی شریح کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے آتے ہی اپنی شادی کی اطلاع دی تو انھوں نے بالرفاء و البنين کے الفاظ سے مبارک دی۔
ممکن ہے کہ قاضی شریح کو اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہی کا علم نہ ہوا ہو۔
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں اس قدر جامعیت ہے کہ اس میں دنیا اور آخرت سے متعلق ہر قسم کی بھلائی آجاتی ہے۔
والله اعلم، (فتح الباري: 277/9)
زردی لگنے کی وجہ یہ تھی کہ عورتوں کی خوشبو میں زعفران پڑتا تھا اس وجہ سے وہ رنگ دارہوا کرتی تھی۔
چنانچہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ مردوں کی خوشبو میں رنگ نہ ہو عورتوں کی خوشبو میں تیز بو نہ ہو۔
اسی لئے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بعد نکاح جب دلہن سے اختلاط کیا تو زوجہ کی تازہ خوشبو کہیں ان کے کپڑے میں لگ گئی۔
یہ نہیں کہ قصداً زعفران لگا یا ہو جس سے مردوں کے حق میں نہیں آئی ہے اور دولہا کو کیسری لباس پہنانے کا دستور جو بعض بت پرست اقوام میں ہے اس کا عرب میں نام و نشان بھی نہ تھا۔
پس یہ وہی زعفرانی رنگ تھا جو دلہن کے کپڑوں سے ان کے کپڑوں میں لگ گیا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کو ولیمہ کرنے کا حکم فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ دولہا کو ولیمہ کی دعوت کرنا سنت ہے، مگرصد افسوس کہ بیشتر مسلمانوں سے یہ سنت بھی متروک ہوتی جا رہی ہے اور بیاہ شادی میں قسم قسم کی شرکیہ بدعیہ شکلیں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔
اللہ پاک مسلمانوں کو اپنے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا کرے اور ہماری لغزشوں کو معاف کرے۔
آمین۔
(1)
اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ انصار میں کس قدر ایثار وہمدردی کے جذبات تھے! انھوں نے اپنے مہاجر بھائیوں کو اپنی بیویوں تک کی پیش کش کر دی کہ جو بیوی تمھیں پسند ہو میں اسے طلاق دیتا ہوں، عدت ختم ہونے کے بعد آپ اس سے نکاح کر لیں۔
لیکن مہاجرین کی خود داری اور عزت نفس بھی قابل تعریف ہے کہ انھوں نے اس پیش کش کی طرف کوئی توجہ نہ دی بلکہ بازار کا راستہ اختیار کیا تاکہ محنت مزدوری کر کے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے نکاح کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
واضح رہے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو زردی لگنے کی وجہ یہ تھی کہ عورتوں کی خوشبو میں زعفران ہوتا تھا، اس بنا پر عورتوں کی خوشبو رنگدار ہوتی تھی۔
بیوی کے اختلاط سے تازہ خوشبو ان کے کپڑوں کو لگ گئی، انھوں نے جان بوجھ کر زعفرانی رنگ استعمال نہیں کیا تھا۔
والله اعلم
اس حدیث سے تجارت کی بھی ترغیب ظاہر ہے۔
اللہ پاک علماء کو خصوصاً توفیق دے کہ وہ اس پر غور کر کے اپنے مستقبل کی فکر کریں۔
اللهم آمین
1۔
اس حدیث سے انصار کا ایثار اور مہاجرین کی خودداری روز روشن کی طرح واضح ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت سعد ؓنے کہا: میری دوبیویاں ہیں۔
آپ دیکھ لیں جو زیادہ پسند ہو میں اسے طلاق دے دوں اور عدت گزارنے کے بعد آپ اس سے شادی کرلیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انصار نے بہت بڑھ چڑھ کر اپنے مہاجر بھائیوں کا اعزاز واکرام کیا تھا اور بے انتہا ایثار وقربانی سے کام لیا تھا لیکن مہاجرین نے ان کی نوازشات سے کوئی غلط فائدہ نہیں اُٹھایا بلکہ ان سے صرف اتنا حاصل کیا جس سے وہ اپنی کمزور معیشت کی کمر سیدھی کرسکتے تھے۔
ایک روایت میں ہے کہ انصار نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی کہ آپ ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے درمیان ہمارے کھجور کےباغات تقسیم کردیں۔
آپ نےفرمایا: ’’نہیں۔
انصار نے اپنے بھائیوں سے کہا: آپ باغات میں محنت کیا کریں،ہم پیداوار میں آپ کو شریک رکھیں گے۔
انھوں نے کہا یہ ٹھیک ہے۔
ہم اس پیش کش کوقبول کرتے ہیں۔
‘‘ (صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3782۔
)
2۔
بہرحال ر سول اللہ ﷺ نے اس مؤاخات کو محض کھوکھلے الفاظ کا جامہ نہیں پہنایا بلکہ اسے ایک ایسا نافذ العمل عہد وپیمان قراردیا جوخون اورمال سے مربوط تھا۔
اس بھائی چارے میں ایثار وہمدردی کے ملے جلے جذبات تھے، اس لیے سلسلہ مؤاخات نے اس نئے معاشرے کو بڑے نادر اور تابناک کارناموں سے پُر کردیا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم کردہ بھائی چارے کے نتیجے میں انصار کی طرف سے جو ہمدردی اور ایثار کا مظاہرہ ہوا، اس کی مثال اقوام عالم میں نہیں چلتی، چنانچہ حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو نصف جائیداد دینے کی پیش کش کی بلکہ ان کی دو بیویاں تھیں، انہوں نے مزید کہا: تم کسی ایک بیوی کو پسند کر لو میں اسے طلاق دے کر فارغ کر دیتا ہوں تاکہ تم اس سے نکاح کر لو، لیکن انہوں نے ان کی پیش کش سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا بلکہ ان سے بازار کا راستہ پوچھا، محنت و مزدوری کر کے اپنا اور اہل و عیال کا پیٹ پالا، بالآخر ان کی شادی ایک انصاری عورت سے ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: '’’ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ذبح کرو۔
‘‘ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے سلسلۂ مؤاخات کو ثابت کیا ہے۔
آج خطرناک گرانی کے دور میں درج ذیل حدیث سے بھی کافی آسانی ملتی ہے۔
نیز آگے ایک حدیث بھی ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
(1)
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر ہی کر دیا تھا، اس بنا پر اس نکاح کی آپ کو بہت زیادہ خوشی تھی۔
ولیمے کا اہتمام بھی فراخ دلی سے فرمایا۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے گوشت اور روٹی خوب پیٹ بھر کر کھائی۔
حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بھی شیرینی کے طور پر حلوہ تیار کیا اور آپ کو بطور تحفہ پیش کیا۔
آپ نے وہ بھی مہمانوں کو کھلایا۔
(2)
ولیمے میں کمی بیشی کی کوئی پابندی نہیں ہے۔
آج خطرناک گرانی کے دور میں ہمیں کفایت شعاری سے کام لینا چاہیے، ریا کاری اور فضول خرچی سے بچتے ہوئے میانہ روی اختیار کرنی چاہیے۔
(1)
امام بخاري رحمہ اللہ نے دلھے کے لیے زرد رنگ کا جواز ثابت کیا ہے۔
دراصل انھوں نے اس انداز کی دو مختلف احادیث کے درمیان تطبیق دی ہے: ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کے لیے زعفرانی رنگ ممنوع قرار دیا ہے۔
ان کے درمیان تطبیق اس طرح ہے کہ اس امتناعی حکم سے دلھا مستثنیٰ ہے۔
اس کے لیے اس رنگ کے استعمال کی رخصت معلوم ہوتی ہے۔
والله اعلم (فتح الباري: 276/9) (2)
نيز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كا ارشاد گرامي ہے: ’’مردوں کی خوشبو کا رنگ مخفی اور مہک نمایاں اور عورتوں کی خوشبو کی مہک مخفی اوررنگ نمایاں ہوتا ہے۔
‘‘ (سنن النسائي، الزینة، حدیث: 5120)
جس کی نئی نئی شادی ہوئی ہو اس کے لیے رنگ دار خوشبو کے استعمال کی اجازت ہے تاکہ نکاح کا اعلان ہو جو شریعت کا مقصود ہے۔
اس امر کا اشارہ ایک دوسری حدیث سے بھی ملتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کو رنگین خوشبو لگی دیکھی تو آپ نے فرمایا: ’’کیا تیری بیوی ہے؟‘‘ اس نے کہا: نہیں،ت و آپ نے فرمایا: ’’اسے دھو ڈالو اورآئندہ ایسا نہ کرنا۔
‘‘ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اسے دھو ڈالا اور آئندہ نہ لگانے کا عزم کر لیا۔
(سنن النسائي، الزینة، حدیث: 5121)
اس سے متبنیٰ کی غلط رسم کا انسداد ہوا۔
(1)
حضرت زینب رضی اللہ عنہما کے نکاح میں ولیمہ زیادہ کرنے میں راز یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت کا شکر ادا کیا کہ اس نے بذریعۂ وحی آپ کا نکاح حضرت زینب رضی اللہ عنہما سے کر دیا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اے نبی! ہم نے اس (زینب رضی اللہ عنہا)
کا نکاح آپ سے کر دیا ہے۔
‘‘ (الأحزاب: 37) (2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرۂ قضا کے موقع پر جب حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان کے ولیمے میں کئی بکریاں ذبح کیں۔
شاید حضرت انس رضی اللہ عنہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہما کے ولیمے میں حاضر نہ تھے۔
اس لیے انھوں نے اپنے علم کے مطابق بیان کیا کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا ولیمہ سب سے زیادہ تھا۔
واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے فتح خیبر کے بعد نکاح کیا تھا، اس وقت فتح خیبر کے باعث وسعت زیادہ ہو گئی تھی، اس بنا پر یہ ولیمہ دوسروں کی نسبت زیادہ تھا۔
(فتح الباري: 296/9)
روزی رزق آل اولاد دین ایمان سب میں برکت مراد ہے۔
حضرت امام بخاری ؒ کا مقصد یہاں اس حدیث کے لانے سے یہ ہے کہ عہد نبوی میں مدینہ منورہ میں اہل اسلام تجارت کیا کرتے تھے۔
اور ان کا بہترین پیشہ تجارت ہی تھا۔
چنانچہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ جو قریشی ہیں ہجرت فرما کر جب مدینہ آئے تو انہوں نے غور و فکر کے بعد اپنے قدیمی پیشہ تجارت ہی کو یہاں بھی اپنایا اور اپنے اسلامی بھائی سعد ؓ بن ربیع کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جنہوں نے اپنی آدھی جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ کی پیش کش کی تھی بازار کا راستہ لیا۔
اور وہاں کے حالات کا جائزہ لے کر آپ نے تیل اور گھی کا کاروبار شروع کیا، اللہ نے آپ کو تھوڑی ہی مدت میں ایسی کشادگی عطا فرمائی کہ آپ نے ایک انصاری عورت سے اپنا عقد بھی کر لیا۔
حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔
یہ شروع دور میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی صحبت سے داخل اسلام ہوئے اور دو مربتہ حبش کی طرف ہجرت بھی کی۔
تمام غزوات میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ شریک رہے۔
طویل القامت گورے رنگ والے تھے۔
غزوہ احد میں ان کے بدن پر بیس سے زائد زخم لگے تھے۔
جن کی وجہ سے پیروں میں لنگ پیدا ہو گئی تھی۔
یہ مدینہ میں بہت ہی بڑے مالدار مسلمان تھے اور رئیس التجار کی حیثیت رکھتے تھے۔
ان کی سخاوت کے بھی کتنے ہی واقعات مذکو رہیں۔
72 سال کی عمر میں32ھ میں وفات پائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔
انہوں نے مہر میں اپنی بیوی کو نواة من الذهب یعنی سونے کی ایک گٹھلی دی جس کا وزن 5 درہم سے زائد بھی ممکن ہے۔
اس حدیث سے ولیمہ کرنے کی تاکید بھی ثابت ہوئی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ولیمہ میں بکرے یا بکری کا ذبیحہ بہتر ہے۔
زرد رنگ شاید کسی عطر کا ہو یا کسی ایسی مخلوط چیز کا جس میں کوئی زرد قسم کی چیز بھی شامل ہو اور آپ نے اس سے غسل وغیرہ کیا ہو۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں بعض صحابۂ کرام ؓ پیشۂ تجارت سے منسلک تھے،اس سے خریدوفروخت اور تجارت وغیرہ کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے،نیز شریف آدمی کو تجارت کا پیشہ اختیار کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔
اس سے اخلاق کی پاکیزگی ہوتی ہے بشرطیکہ شرعی حدود میں رہتے ہوئے اسے اختیار کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ نے اس پیشے میں بہت خیرو برکت رکھی ہے جیسا کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کے اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہبہ وغیرہ سے مال حاصل کرنا صحابۂ کرام ؓ کا مطمح نظر نہ تھا بلکہ انھوں نے اسے نطر انداز کر کے تجارت کو ذریعۂ معاش بنایا۔
امام بخاری ؒ نے اس بات کو ثابت کیا ہے۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک کپڑوں پر زعفران چھڑکنا جائز ہے، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور شافعی رحمۃ اللہ علیہ، کے نزدیک جائز نہیں ہے اور بعض حضرات کے نزدیک شادی کے وقت رنگدار خوشبو کا استعمال مرد کے لیے بھی جائز ہے، لیکن عام طور پر یہی کیا جاتا ہے یہ رنگ عورت کی خوشبو سے لگ گیا تھا۔
کیونکہ عورتوں کی خوشبو رنگدار اور بلا مہک ہونی چاہیے اور گٹھلی کے برابر سونا، پانچ درہم ہوتا ہے۔
2۔
نکاح کے بعد ولیمہ کرنا سنت ہے اگرچہ اہل ظاہر اور بعض شوافع نے اسے فرض قرار دیا ہے اور بہتر یہ ہے کہ شب زفاف کے بعد ہو، اور بعض مالکیوں کے نزدیک نکاح کے فوراً بعد بہتر ہے اور ولیمہ کے لیے کوئی مقدار معین نہیں ہے اپنی حیثیت اور طاقت کے مطابق کرنا چاہیے۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف کے جسم پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: میں نے ایک عورت سے کھجور کی ایک گٹھلی سونے کے عوض شادی کر لی ہے، آپ نے فرمایا: ” اللہ تمہیں برکت عطا کرے، ولیمہ ۱؎ کرو خواہ ایک ہی بکری کا ہو “ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1094]
وضاحت:
1؎: (أولم ولو بشأة) میں ’’لو‘‘ تقلیل کے لیے آیا ہے یعنی کم ازکم ایک بکری ذبح کرو، لیکن نبی اکرمﷺ نے صفیہ کے ولیمہ میں صرف ستواورکجھورپر اکتفاکیا، اس لیے مستحب یہ ہے کہ ولیمہ شوہر کی مالی حیثیت کے حسب حال ہو، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی مالی حالت کے پیش نظرایک بکری کا ولیمہ کم تھا اسی لیے آپﷺ نے اُن سے ’’أَولِم وَلَو بِشَأة‘‘ فرمایا۔
2؎:
شادی بیاہ کے موقع پر جو کھانا کھلایا جاتا ہے اسے ولیمہ کہتے ہیں، یہ ولم (واؤکے فتحہ اورلام کے سکون کے ساتھ) سے مشتق ہے جس کے معنی اکٹھا اور جمع ہونے کے ہیں، چونکہ میاں بیوی اکٹھا ہوتے ہیں اس لیے اس کو ولیمہ کہتے ہیں، ولیمہ کا صحیح وقت خلوت صحیحہ کے بعد ہے جمہور کے نزدیک ولیمہ سنت ہے اوربعض نے اسے واجب کہا ہے۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے جسم پر زعفران کا اثر دیکھا تو پوچھا: ” یہ کیا ہے؟ “ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے شادی کر لی ہے، پوچھا: ” اسے کتنا مہر دیا ہے؟ “ جواب دیا: گٹھلی (نواۃ ۱؎) کے برابر سونا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ولیمہ کرو چاہے ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو ۲؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2109]
1: انسان کو اپنی اسطاعت کے مطابق حق مہر باندھنا چاہیے جو لینا دینا آسان ہو۔
2: زعفران اور دیگر رنگدار چیزیں (پاوڈر) مردوں کو استعمال کر نا جائز نہیں۔
3: شادی یا غمی کے موقع پر بھی قریب وبعید کے عزیزواقارب کو بلا کسی اہم مقصد کے جمع کرنا کوئی سنت نہیں ہے ایک چھوٹی سی بستی میں رہتے ہوئے حضرت عبدالرحمن بن عوف کی شادی ہوئی اور رسول ﷺکو خبر نہیں دی گئی۔
4: اصل سنت ولیمہ ہے حسب استطاعت جو میسر آئے بکری ہو یا کم و پیش کچھ اور جیسے کہ رسول ﷺنے سیدہ صفیہ رضی اللہ کے ولیمہ میں ستو ہی پیش فرمائے تھے۔
5: اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ہماری شادیاں، سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں۔
مثلا لمبی چوڑی براتیں اور پھر ان کی پر تکلف ضیافت۔
اسی طرح ولیمے میں انواع واقسام کے کھانوں کی بھر مار اور دیگر رسومات اس اسراف وتبذیر اور فضولیات کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔
(تفصیل کے لیےدیکھیں ’’مسنون نکاح اور شادی بیاں کی رسومات، مطبوعہ دار السلام‘‘ تالیف.. حافظ صلاح الدین یوسف صاحب)
ثابت کہتے ہیں: انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے نکاح کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیویوں میں سے کسی کے نکاح میں زینب کے نکاح کی طرح ولیمہ کرتے نہیں دیکھا، آپ نے ان کے نکاح میں ایک بکری کا ولیمہ کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3743]
فائدہ: یہ نکاح وحی کی بنیاد پر ہوا تھا۔
اس میں ولی حق مہر اور گواہیوں کا کوئی اہتمام نہ تھا۔
سورہ احزاب میں ہے۔
(فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا ۚ) (الأحزاب:37) پس جب زید نے اس عورت سے اپنی غرض پوری کرلی تو ہم نے اسے آپ کے نکاح میں دے دیا تاکہ مسلمانوں پر اپنے لےپالکوں کی بیویوں کے بارے میں کسی طرح کی تنگی نہ رہے جب وہ ان سے اپنا جی بھرلیں۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور انصار کے درمیان مواخات یعنی بھائی چارہ قائم کر دیا، تو سعد بن ربیع اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کو ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا۔ سعد (انصاری) رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میرے پاس مال ہے اس کا آدھا تمہارا ہے اور آدھا میرا اور میری دو بیویاں ہیں تو دیکھو ان میں سے جو تمہیں زیادہ اچھی لگے اسے میں طلاق دے دیتا ہوں، جب وہ عدت گزار کر پاک و صاف ہو جائے تو تم اس سے شادی کر لو۔ عبدال۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3390]
(2) ”انصاری عورت“ انہیں ام اوس بنت انس کہا جاتا تھا۔
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے اور ان پر زعفران کے رنگ کا اثر تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ” یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے (یہ اسی کا اثر و نشان ہے)۔ آپ نے پوچھا؟ مہر کتنا دیا؟ کہا: کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونا، آپ نے فرمایا: ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3375]
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن (عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ) کے کپڑے پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: کھجور کی گٹھلی کے وزن برابر سونا دے کر میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے۔ آپ نے فرمایا: «بارك اللہ لك» ” اللہ تمہیں اس نکاح میں برکت دے “ ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3374]
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ان پر زردی کا اثر تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے آپ کو بتایا کہ انہوں نے ایک انصاری عورت سے شادی کر لی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کتنا مہر دیا ہے اسے؟ انہوں نے کہا: ایک «نواۃ» (کھجور کی گٹھلی) برابر سونا ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ولیمہ ۲؎ کرو چاہ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3353]
(2) ”شادی کرلے“ اس کا اندازہ آپ کو رنگ دار خوشبو سے ہوگیا‘ یہ خوشبو مردوں کے لیے جائز نہیں ہے۔ انہیں یہ خوشبو بیوی کے ساتھ اپنے بیٹھنے کی وجہ سے لگی تھی‘ انہوں نے قصداً نہ لگائی تھی۔ اسی لیے اس پر زیادہ توجہ بھی نہیں دی گئی۔
(3) ”نواۃ“ یہ سونے کا ایک سکہ تھا جس کی قیمیت تین یا بقول بعض پانچ درہم تھی۔ گویا اتنا مہر بھی ہوسکتا ہے۔ احناف کے نزدیک کم از کم مہردس درہم ہے۔ ان کی دلیل دار قطنی کی ایک ضعیف حدیث ہے۔ حالانکہ قرآن مجید میں مطلق مال کا ذکر ہے اور صحیح احادیث میں لوہے کی انگوٹھی تک کو مہر کے لیے کافی قراردیا گیا ہے۔ تعارض کی صورت میں صحیح احادیث پر عمل کرنا چاہیے۔ امام مالک رحمہ اللہ چوتھائی دینار (تقریباً تین درہم) کو کم ازکم مہرمانتے ہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ نہ معمول ولیمہ ہے۔ عرب تو کئی کئی اونٹوں سے ولیمہ کرتے تھے مگر وہ تنگی کا دور تھا‘ لہٰذا اتنا بھی کافی تھا۔ جمہور اہل علم ولیمے کو مستحب سمجھتے ہیں‘ البتہ اہل ظاہر نے ظاہر الفاظ کی رعایت سے واجب کہا ہے۔ ولیمہ شادی کے بعد دوسرے دن کرنا مسنون ہے‘ البتہ کسی شرعی مجبوری کی بنا پر تاخیر ہوسکتی ہے۔ شادی سے پہلے ولیمہ کرنے کی کوئی دلیل نہیں۔ یہ دلھا کی طرف سے شادی کی خوشی کے موقع پر دعوت ہوتی ہے۔
(4) حق مہر ضروری ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ (کے جسم) پر پیلے رنگ کے اثرات دیکھے، تو پوچھا: ” یہ کیا ہے “؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے گٹھلی کے برابر سونے کے عوض شادی کر لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بارك الله لك أولم ولو بشاة» ” اللہ تمہیں برکت دے ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1907]
فوائد ومسائل: (1)
ارشاد نبوی ہے: ’’مردوں کی خوشبو وہ ہوتی ہے جس کی مہک ظاہر ہو اور رنگ غیر واضح ہو۔
اور عورتٔ کی خوشبو وہ ہوتی ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور مہک غیر واضح ہو۔ (جامع الترمذي، الأدب، باب ماجاء فی طیب الرجال والنساء، حدیث: 2787)
(2)
رسول اللہ ﷺ نے صحابی کے لباس میں عورتوں کی خوشبو کا نشان دیکھا اس لیے دریافت کیا کہ تم نے عورتوں کی خوشبو کیوں لگا رکھی ہے؟ اس میں ایک لطیف انداز سے تنبیہ بھی ہے کہ اس کا استعمال تمہارے لیے مناسب نہیں۔
اور یہ اشارہ بھی ہے کہ اگر کوئی معقول عذر ہے تو بیان کرو۔
(3)
کسی میں غلطی دیکھ کر فوراً سختی کرنا درست نہیں بلکہ غلطی کرنے والے سے اس کی وجہ دریافت کرنی چاہیے تاکہ اسے اتنی ہی تنبیہ کی جائے جتنی ضروری ہے۔
(4)
گٹھلی سے مراد کجھور کی گٹھلی ہے۔
یہ اس دور کا ایک معروف وزن تھا۔
جس کی مقدار پانچ درہم (تقریبا ڈیڑھ تولہ)
ذکر کی گئی ہے۔ (مرقاۃ شرح مشکاۃ، النکاح، باب الولیمة، حدیث: 3210)
(5)
ارشاد نبوی ’’اگرچہ ایک بکری ہو۔‘‘
میں اشارہ ہے کہ ان میں زیادہ کی استطاعت تھی اس سے معلوم ہوا کہ ولیمے میں تکلف نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنی گنجائش کے مطابق جس قدر اہتمام آسانی سے اور زیر بار ہوئے بغیر ہو سکے وہ کافی ہے۔
«. . . فقال: زنة نواة من ذهب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”اولم ولو بشاة . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 362]
[وأخرجه البخاري 5153، من حديث مالك به، ورواه مسلم 81/1427، من حديث حميد الطّويل به وصرّح حميد بالسماع عند البخاري 5072]
تفقه:
➊ شادی پر حسب استطاعت ولیمہ کرنا مسنون ہے۔
➋ افضل یہی ہے کہ نکاح یا شادی کے وقت ہی حق مہر ادا کر دیا جائے۔
➌ اپنی قوم سے باہر دوسری قوم میں شادی کرنا جائز ہے۔ دیکھئے: [تفقه نمبر: 5]
➍ حق مہر زیادہ بھی ہو سکتا ہے اور کم بھی، اس میں کوئی خاص مقدار ثابت نہیں ہے۔ تاہم اس میں بہت زیادہ اسراف اور غلو نہیں کرنا چاہئے جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا تھا۔ دیکھئے: [سنن ابي داؤد 2106، ومسند امام أحمد 1/48 ح340 وهو حسن]
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «خير النكاح أيسره» بہترین نکاح وہ ہے جو آسان ہو۔ [صحيح ابن حبان، الاحسان: 4060 دوسرا نسخه 4072 وسنده صحيح، سنن ابي داؤد: 2117، وصححه الحاكم 2/181، 182، عليٰ شرط الشيخين ووافقه الذهبي]
➎ اپنے قبیلے میں اور قبیلے سے باہر دونوں طرح شادی کرنا بالکل صحیح اور جائز ہے۔
➏ عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
➐ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام میں مروجہ بارات کا کوئی تصور نہیں ہے، وگرنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ صحابہ اپنی محبوب ترین شخصیت سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بارات کے ساتھ لے کر نہ جاتے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے اوپر دوسروں کو زیادہ ترجیح دیتے تھے، اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خود محنت کرنا پسند کرتے تھے کسی پر بوجھ نہیں بنتے تھے۔
عورت کو مرد نکاح کا پیغام بھیج سکتا ہے، اور مہر دینا فرض ہے۔ اور دعوت ولیمہ بھی فرض ہے۔ قرعہ ڈالنا ٹھیک ہے۔