مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 5162
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا زَفَّتِ امْرَأَةً إِلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَةُ مَا كَانَ مَعَكُمْ لَهْوٌ فَإِنَّ الْأَنْصَارَ يُعْجِبُهُمُ اللَّهْوُ " .
مولانا داود راز

´ہم سے فضیل بن یعقوب نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا ، ان سے اسرائیل نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` وہ ایک دلہن کو ایک انصاری مرد کے پاس لے گئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ ! تمہارے پاس لہو ( دف بجانے والا ) نہیں تھا ، انصار کو دف پسند ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب النكاح / حدیث: 5162
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
5162. سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک دلہن کو انصاری دلھا کے پاس لے گئیں تو نبی ﷺ نے فرمایا: عائشہ! کیا تمہارے پاس کوئی دل لگی کا سامان نہیں تھا؟ کیونکہ انصار کو ایسے موقع پر دلی لگی پسند ہوتی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5162]
حدیث حاشیہ: ابو الشیخ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکالا انصار کی ایک یتیم لڑکی کی شادی میں دلہن کے ساتھ گئی جب لوٹ کر آئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم نے دولہا والوں کے پاس جا کر کیا کہا۔
میں نے کہا کہ سلام کیا۔
مبارکباد دی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دف بجانے والی لونڈی ساتھ میں ہوتی وہ دف بجاتی اور یوں گاتی أتیناکم أتیناکم فحیانا و حیاکم ہم تمہارے ہاں آئے تم کو اور ہم کو یہ شادی مبارک ہو۔
معلوم ہوا کہ اس حد تک دف کے ساتھ مبارک باد کے ایسے شعر کہنا جائز ہے مگر آج کل جو گانے بجانے لہو و لعب کے طریقے شادیوں میں اختیار کئے جاتے ہیں یہ ہرگز جائز نہیں ہیں کیونکہ اس سے سراسر فسق و فجور کو شہ ملتی ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5162 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5162. سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک دلہن کو انصاری دلھا کے پاس لے گئیں تو نبی ﷺ نے فرمایا: عائشہ! کیا تمہارے پاس کوئی دل لگی کا سامان نہیں تھا؟ کیونکہ انصار کو ایسے موقع پر دلی لگی پسند ہوتی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5162]
حدیث حاشیہ:
(1)
عربوں کے ہاں یہ قدیم عادت ہے کہ کچھ عورتیں دلھن کا بناؤ سنگھار کر کے اسے دلھا کے لیے پیش کرتی ہیں اور اسے مبارک باد دیتی ہیں۔
اسلام نے بھی اس عادت کو برقرار رکھا ہے۔
(2)
اگرچہ اس حدیث میں مبارک باد کا ذکر نہیں ہے لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے اس عنوان سے ان روایات کی طرف اشارہ کیا ہے، چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی زیر کفالت بچی کی شادی ایک انصاری سے کی اور میں ان عورتوں میں شامل تھی جنھوں نے اس کا بناؤ سنگھار کر کے دلھا کے پیش کیا۔
جب میں لوٹ کر واپس آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ’’تم نے وہاں جا کر کیا کیا؟ میں نے کہا: ہم نے سلام کیا اور اللہ تعالیٰ سے خیر و برکت کی دعا کی، اس کے بعد ہم واپس آ گئے۔
آپ نے فرمایا: ’’تم اپنے ساتھ دل لگی کا سامان لے کر جاتیں تو بہتر ہوتا کیونکہ انصار کو یہ بات بہت پسند ہے۔
‘‘ (فتح الباري: 281/9)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5162 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔