صحيح البخاري
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان
بَابُ عَرْضِ الْمَرْأَةِ نَفْسَهَا عَلَى الرَّجُلِ الصَّالِحِ: باب: عورت کا اپنے آپ کو کسی صالح مرد کے نکاح کے لیے پیش کرنا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِهْرَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ أَنَسٍ وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ ، قَالَ أَنَسٌ : " جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْرِضُ عَلَيْهِ نَفْسَهَا ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَكَ بِي حَاجَةٌ ، فَقَالَتْ بِنْتُ أَنَسٍ : مَا أَقَلَّ حَيَاءَهَا وَا سَوْأَتَاهْ وَا سَوْأَتَاهْ ، قَالَ : هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ رَغِبَتْ فِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا " .´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے مرحوم بن عبدالعزیز بصریٰ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ثابت بنانی سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` میں انس رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور ان کے پاس ان کی بیٹی بھی تھیں ۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیش کرنے کی غرض سے حاضر ہوئیں اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ کو میری ضرورت ہے ؟ اس پر انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی بولیں کہ وہ کیسی بےحیاء عورت تھی ۔ ہائے ، بےشرمی ! ہائے بےشرمی ! انس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا وہ تم سے بہتر تھیں ، ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رغبت تھی ، اس لیے انہوں نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیش کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
قسطلانی نے کہا کہ اس حدیث سے یہ نکالا کہ نیک بخت اوردیند ار مرد کے سامنے اگر عورت اپنے آپ کو نکاح کے لئے پیش کرے تو اس میں کوئی عار کی بات نہیں ہے البتہ دنیاوی غرض سے ایسا کرنا برا ہے۔
(1)
اگر کوئی عورت خود كو کسی کے لیے ہبہ کرتی ہے تو ہبے کی پیش کش صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہو سکتی تھی کہ اس میں حق مہر یا ولی کی اجازت اور گواہوں کی موجودگی ضروری نہیں، البتہ کسی نیک انسان کو نکاح کی پیش کش کرنا جائز ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے پیش کش کرنے کا مسئلہ ثابت کیا ہے کہ ضابطہ طور پر نکاح کی پیش کش کرنے میں بالکل کوئی حرج نہیں ہے۔
(فتح الباري: 219/9) (2)
اس حدیث میں عورت کی فضیلت ثابت ہوئی کہ اس کے اعلی خصائل پر مشتمل بزرگ سے نکاح کی درخواست کی لیکن حضرت انس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی نے اس کی طرف توجہ نہ دی، صرف ظاہر ی صورت کو دیکھ کر اعتراض کر دیا۔
ہاں، اگر کوئی عورت دنیاوی اغراض و مقاصد کی وجہ سے کسی کو نکاح کی پیش کش کرتی ہے تو یہ پرلے درجے کی بےحیائی اور رسوا کن بات ہے۔
(عمدة القاری: 70/14)
والله اعلم
اس خاتون کا جذبہ کس قدر قابل تعریف ہے کہ اس نے رسمی شرم و حیا کو بالائے طاق رکھ کر خود کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے لیے پیش کیا تاکہ وہ ام المومنین کی سعادت حاصل کر سکے اور اسے دنیا و آخرت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اور آپ کا ساتھ نصیب ہو۔
اس نے یہ اعزاز و شرف حاصل کرنے کے لیے طبعی حیا کی پروا نہیں کی۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اپنی صاجزادی کو جواب دیا کہ یہ عورت کی بے حیائی نہیں کہ اس نے خود کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا بلکہ اس اعتبار سے تیری نسبت اس کا مقام بہت اونچا ہے، اگر وہ حیا سے کام لیتی تو اسے یہ شرف کیونکر حاصل ہوتا۔
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنے آپ کو (نکاح کے لیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا، تو (یہ سن کر) انس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہنس پڑیں، اور کہا: کتنی کم حیاء عورت ہے! انس رضی اللہ عنہ نے کہا: (بیٹی!) یہ عورت تجھ سے اچھی ہے (ذرا اس کی طلب تو دیکھ) اس نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا ہے، (اور آپ کو حاصل کرنے کی کوشش کی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3252]