صحيح البخاري
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان
بَابُ الأَكْفَاءِ فِي الدِّينِ: باب: کفائت میں دینداری کا لحاظ ہونا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلٍ ، قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا تَقُولُونَ فِي هَذَا ؟ قَالُوا : حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ يُنْكَحَ ، وَإِنْ شَفَعَ أَنْ يُشَفَّعَ ، وَإِنْ قَالَ أَنْ يُسْتَمَعَ ، قَالَ : ثُمَّ سَكَتَ ، فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ : مَا تَقُولُونَ فِي هَذَا ؟ قَالُوا : حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ لَا يُنْكَحَ ، وَإِنْ شَفَعَ أَنْ لَا يُشَفَّعَ ، وَإِنْ قَالَ أَنْ لَا يُسْتَمَعَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَاخَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الْأَرْضِ مِثْلَ هَذَا " .´ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے ، ان سے ان کے والد سلمہ بن دینار نے ، ان سے سہل بن سعد ساعدی نے بیان کیا کہ` ایک صاحب ( جو مالدار تھے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس موجود صحابہ سے پوچھا کہ یہ کیسا شخص ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ اس لائق ہے کہ اگر یہ نکاح کا پیغام بھیجے تو اس سے نکاح کیا جائے ، اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کی جائے ، اگر کوئی بات کہے تو غور سے سنی جائے ۔ سہل نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر چپ ہو رہے ۔ پھر ایک دوسرے صاحب گزرے ، جو مسلمانوں کے غریب اور محتاج لوگوں میں شمار کئے جاتے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اس کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ اس قابل ہے کہ اگر کسی کے یہاں نکاح کا پیغام بھیجے تو اس سے نکاح نہ کیا جائے اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے ، اگر کوئی بات کہے تو اس کی بات نہ سنی جائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ یہ شخص اکیلا پہلے شخص کی طرح دنیا بھر سے بہتر ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
یہی حکم مردوں کے لئے ہے۔
بہتر ہونے کا مطلب یہ کہ اس مالدار کی طرح اگر دنیا بھرکے لوگ فرض کئے جائیں تو ان سب سے یہ اکیلا غریب شخص درجہ میں بڑھ کر ہے۔
دوسری حدیث میں آیا ہے کہ غریب دیندار لوگ مالداروں سے پانچ سو برس پہلے جنت میں جائیں گے۔
اللهم اجعلنا منھم آمین سچ ہے۔
خاکسار ان جہاں رابہ حقارت منگر توچہ دانی کہ دریں گر دسوار ے باشد
(1)
بہتر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اگر فرضی طور پر اس طرح کے مال داروں سے دنیا بھر جائے تو ان کے مقابلے یہ اکیلا غریب شخص درجے میں بڑھ کر ہوگا۔
ایک دوسری حدیث میں ہے: غریب دیندار لوگ مال داروں سے پانچ سوسال پہلے جنت میں جائیں گے۔
(سنن أبي داود، العلم، حديث: 3666) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کوئی بے دین آدمی کتنا ہی بڑا مال دار ہو وہ ایک دین دار عورت کا ہم پلہ نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے مقابلے میں ایک دین دار غریب شخص کو ترجیح دی جائے گی۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: حدیث میں ذکر کردہ فقیر کی ذکر کردہ مال دار پر فضیلت ثابت ہوئی لیکن اس سے ہر فقیر کی ہر قسم کے غنی پر فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔
(فتح الباري: 171/9) (3)
حدیث کی عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ دین کی وجہ سے اس فقیر کی غنی پر فضیلت ثابت ہوئی کہ وہ ہر عورت کے لیے ہم پلہ بن سکتا ہے۔
بہر حال دین داری کو ہر لحاظ سے فوقیت حاصل ہے۔
(عمدة القاري: 34/14)
لیکن دل کے غنا کے ساتھ یہ فقیری محمود اور سنت ہے۔
انبیاء اور اولیاء کی، لیکن دل میں اگر فقیری کے ساتھ حرص لالچ ہو تو اس فقیری سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے پناہ مانگی ہے۔
اللہ ہر مسلمان کو محتاجگی سے بچائے (آمین)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مالداری کو دیکھ کر فرمایا کہ اگر ساری دنیا ایسے مالداروں، متکبروں، کافروں سے بھر جائے تو ان سب سے ایک مومن مخلص جو بظاہر فقیر نظر آ رہا ہے یہ ان سب سے بہتر ہے۔
اس حدیث سے ان سرمایہ داروں کی برائی واضح ہوئی جو قارون بن کر مغرور رہتے ہيں۔
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال دار کو دیکھ کر فرمایا: اگر ساری دنیا ایسے مال داروں، متکبروں سے بھر جائے تو ان سب سے ایک مخلص مومن شخص بہتر اور اعلیٰ ہے جو بظاہر فقیر نظر آتا ہے۔
(2)
اس حدیث سے ان سرمایہ داروں کی مذمت کا پہلو نکلتا ہے جو قارون بن کر زندگی بسر کرتے ہیں اور مغرور رہتے ہیں، لیکن اگر فقیری کے ساتھ دل کا غنا ہے تو یہ ناداری اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے۔
یہ فقیری حضرات انبیاء علیہم السلام اولیاء اور اتقیاء امت کی سنت ہے لیکن اگر فقیری کے ساتھ حرص، لالچ اور طمع ہو تو اس قسم کی فقیری سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ مانگی ہے، نیز اس فقیری کا یہ مطلب بھی نہیں کہ انسان گداگری شروع کر دے، بلکہ وہ فقیر عزت و تکریم کے قابل ہے جو اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے پر راضی ہو، اس پر صبر کرے اور زبان پر کسی قسم کا حرف شکایت نہ لائے پھر حلال اور پاکیزہ روزی کمانے کی پوری پوری کوشش اور محنت بھی کرے اور لوگوں سے مانگنے کی ذلت کو اپنے پاس نہ آنے دے۔
واللہ أعلم
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس شخص کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے “؟ لوگوں نے کہا: جو آپ کی رائے ہے وہی ہماری رائے ہے، ہم تو سمجھتے ہیں کہ یہ شریف لوگوں میں سے ہے، یہ اس لائق ہے کہ اگر کہیں یہ نکاح کا پیغام بھیجے تو اسے قبول کیا جائے، اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کی جائے، اگر کوئی بات کہے تو اس کی بات سنی جائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر ایک دوسرا شخص گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس شخص کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ لوگوں ن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4120]
فوائد و مسائل: (1)
غریب مسلمان اگر چہ گمنام ہو، دنیا والوں کی نظروں میں اس کا کوئی مقام نہ ہو لیکن اللہ کے ہاں ایسا ایک آدمی بھی دنیا بھر کے انسانوں سے بہتر ہے جو ایمان و تقویٰ سے محروم ہوں۔
(2)
اللہ کے ہاں اصل اہمیت اور قدر ومنزلت ایمان و تقوی کی ہے نہ کہ مال ودولت شان و شوکت ذات برادری اور نام و نسب کی۔
(3)
نکاح لے لیے نیک مردوں اور نیک عورتوں کا انتخاب کرنا چاہیے خواہ وہ غریب ہی ہوں۔
غریب نیک آدمی امیر آدمی کا ہم پلہ ہے لیکن بد عقیدہ یا بری عادتوں والا دولت مند شخص نیک آدمی کا ہم پلہ نہیں۔