صحيح البخاري
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان
بَابُ الأَكْفَاءِ فِي الدِّينِ: باب: کفائت میں دینداری کا لحاظ ہونا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ ، فَقَالَ لَهَا : لَعَلَّكِ أَرَدْتِ الْحَجَّ ؟ قَالَتْ : وَاللَّهِ لَا أَجِدُنِي إِلَّا وَجِعَةً ، فَقَالَ لَهَا : حُجِّي وَاشْتَرِطِي ، وَقُولِي : اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي "، وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ .´ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے ( یہ زبیر عبدالمطلب کے بیٹے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے ) اور ان سے فرمایا شاید تمہارا ارادہ حج کا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا : اللہ کی قسم ! میں تو اپنے آپ کو بیمار پاتی ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھر بھی حج کا احرام باندھ لے ۔ البتہ شرط لگا لینا اور یہ کہہ لینا کہ اے اللہ ! میں اس وقت حلال ہو جاؤں گی جب تو مجھے ( مرض کی وجہ سے ) روک لے گا ۔ اور ( ضباعہ بنت زبیر قریشی رضی اللہ عنہا ) مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نسبی اعتبار سے عمرو کندی کے بیٹے تھے لیکن اسود بن عبد یغوث نے انھیں لے پالک بنایا تھا، اس لیے انھیں مقداد بن اسود کہا جانے لگا۔
انھوں نے قریش سے عہد و پیمان کر رکھا تھا اس بنا پر حلیف قریش تھے، البتہ ان کی شادی ایک ہاشمی خاتون حضرت ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہما سے ہوئی جو حسب ونسب کے اعتبار سے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے کہیں بڑھ کر تھیں۔
چونکہ اسلام میں حسب و نسب کی ثانوی حیثیت ہے، اس لیے اس کی پروا نہ کرتے ہوئے ان کی شادی حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے کر دی گئی۔
(2)
اس میں تنبیہ ہے کہ حسب و نسب پر دین کو ترجیح دی جائے، چنانچہ حدیث میں ہے: ’’جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص نکاح کا پیغام بھیجے جس کا دین اور اخلاق تم پسند کرتے ہو تو اس سے نکاح کردو، اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بہت بڑا فساد ہوگا۔
‘‘ (جامع الترمذي، النكاح، حديث: 1084)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نکاح کے لیے دین و اخلاقی کو ترجیح دی جائے اور نسب و خاندان کی ثانوی حیثیت ہے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور محدثین کا یہی نظریہ ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
اور اما مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہ شرط لگانا درست نہیں ہے۔
کیونکہ یہ اجازت صرف حضرت ضباعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لیے مختص تھی لیکن اس کی تخصیص کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔
علامہ سعیدی کا اس حدیث کے بخاری میں ہونے کا انکار درست نہیں ہے۔
یہ حدیث کتاب النکاح باب الاکفاء فی الدین میں موجود ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے۔ اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں حج کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں مگر میں بیمار ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ ” حج کر مگر یہ شرط کر لے کہ میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہو گی جہاں اے اللہ! تو نے مجھے روکا۔ “ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 646]
«شاكيه» بیمار۔
«محلي» ”میم“ پر فتحہ اور ”حا“ کے نیچے کسرہ ہے، یعنی حج سے خروج کا مکان اور احرام کھول کر میرے حلال ہو جانے کی جگہ۔ مقصود اس سے وقت اور مقام دونوں کا بیان ہے۔ اور یہ ظرف زمان اور ظرف مکان دونوں کے معنی دے رہا ہے۔
«حبستني» صیغئہ مخاطب، یعنی ”اے اللہ! جہاں تو مجھے روک لے گا۔“ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ احرام میں شرط لگانا صحیح ہے۔ شرط لگانے والے کو جب کوئی مانع پیش ہو جائے تو محصر کی طرح اس پر قربانی وغیرہ کرنا لازم نہیں۔
وضاحت:
حضرت ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہما، ان کی کنیت ام حکیم ہے۔ ضباعہ کے '”ضاد“ پر ضمہ ہے۔ نسب نامہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چچازاد بہن ہیں۔ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں اور ان کے دو بچے عبداللہ اور کریمہ تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں فوت ہوئیں۔