صحيح البخاري
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان
بَابُ كَثْرَةِ النِّسَاءِ: باب: بیک وقت کئی بیویاں رکھنے کے بارے میں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ : حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جِنَازَةَ مَيْمُونَةَ بِسَرِفَ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هَذِهِ زَوْجَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلَا تُزَعْزِعُوهَا وَلَا تُزَلْزِلُوهَا وَارْفُقُوا ، فَإِنَّهُ كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعٌ كَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَلَا يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ " .´ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی ، انہیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھے عطا بن ابی رباح نے خبر دی کہا کہ` ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازہ میں شریک تھے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو زور زور سے حرکت نہ دینا بلکہ آہستہ آہستہ نرمی کے ساتھ جنازہ کو لے کر چلنا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی وفات کے وقت آپ کے نکاح میں نو بیویاں تھیں آٹھ کے لیے تو آپ نے باری مقرر کر رکھی تھی لیکن ایک کی باری نہیں تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام سرف پر حضرت میمونہ رضی اللہ عنہما سے نکاح کیا تھا اور اسی مقام پر ان کی وفات ہوئی۔
یہ مقام مکہ مکرمہ سے اٹھارہ میل کے فاصلے پر ہے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیک وقت نو (9)
بیویاں تھیں، ان میں سے حضرت سودہ رضی اللہ عنہما کی بڑھاپے کی وجہ سے باری مقرر نہ تھی بلکہ انھوں نے اپنی باری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کو دے دی تھی۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازاوج مطہرات کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔
ان کی زندگی اور موت کے بعد تکریم و تعظیم میں فرق نہیں آنا چاہیے۔
بیک وقت نو (9)
بیویاں رکھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے۔
وہ اہل ایمان کی مائیں قرار دی گئیں اور آپ کے بعد ان سے نکاح کرنا حرام قرار دیا گیا۔
امت کے افراد کو بیک وقت صرف چار بیویاں رکھنے کی اجازت ہے۔
وہ بھی عدل و انصاف کے ساتھ مشروط ہے۔
قرآن کریم نے وضاحت کی ہے کہ اگر عدل و انصاف نہ کرنے کا اندیشہ ہو تو ایک بیوی پر اکتفا کیا جائے۔
(النساء: 3) (3)
تعدد ازواج کے سلسلے میں ہم افراط و تفریط کا شکار ہیں، چنانچہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اسلام میں تعدد ازواج کی کوئی حد مقرر نہیں اور قرآن کریم میں جو دو، دو، تین تین اور چار چار کے الفاظ آئے ہیں وہ بطور محاورہ ہیں لیکن یہ موقف دو لحاظ سے غلط ہے: ایک یہ کہ اگر اجازت عام ہوتی تو صرف یہ الفاظ کافی تھے: ’’دوسری عورتوں سے شادی کر لو جو تمھیں پسند ہوں۔
‘‘ چار تک تعین کرنے کی قطعاً ضرورت نہ تھی۔
دوسرے یہ کہ سنت نے چار تک حد مقرر کر دی ہے، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوئے تو ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ان میں سے چار کا انتخاب کرلو۔
‘‘ (سنن ابن ماجة، النکاح، حدیث: 1953)
حدیث کی وضاحت کے بعد کسی مسلمان کا شیوہ نہیں کہ وہ کوئی دوسری بات کرے۔
اس سلسلے میں تفریق یہ ہے کہ صرف ایک عورت سے شادی کی جائے۔
ان لوگوں کے ہاں تعدد ازواج کی اجازت ہنگامی اور جنگی حالات میں تھی، یہ حضرات مغربی تہذیب سے مرعوب ہیں۔
ان کا استدلال یہ ہے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اگر تمھیں خدشہ ہو کہ ان میں انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی کافی ہے۔
‘‘ (النساء: 129)
پھر اس سورت میں ہے: ’’اگر تم چاہو بھی کہ اپنی بیویوں کے ساتھ انصاف کرو تو تم ایسا نہ کرسکو گے۔
‘‘ (سورۃ النساء)
گویا پہلے تعدد ازواج کی جو مشروط اجازت دی گئی تھی اسے آئندہ آیت سے ختم کر دیا گیا۔
یہ استدلال اس لیے غلط ہے کہ مذکورہ آیت میں مذکور ہے: ’’لہٰذا اتنا تو کرو کہ بالکل ایک ہی طرف نہ جھک جاؤ اور دوسری کو لٹکتا ہوا چھوڑ دو۔
‘‘ اور جن باتوں کی طرف عدم انصاف کا اشارہ ہے اس سے مراد وہ امور ہیں جو انسان کے اختیار میں نہیں اور انصاف کا مطالبہ صرف ان باتوں میں ہے جو اس کے اختیار میں ہیں جیسے نان و نفقہ، اس کی ضروریات کا خیال رکھنا اور شب بسری کے سلسلے میں باری مقرر کرنا وغیرہ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے: ’’یا اللہ! جن باتوں میں مجھے اختیار ہے ان میں سب بیویوں سے ایک جیسا سلوک کرتا ہوں اور جو باتیں میرے اختیار میں نہیں تو وہ مجھے معاف فرما دے۔
‘‘ (سنن أبي داود، النکاح، حدیث: 2134)
امام ابو داود رحمہ اللہ نے وضاحت کی ہے کہ قلبی تعلقات میں انسان بے اختیار ہوتا ہے۔
والله اعلم
سب ازواج کے بعد عمرۃ القضاء 7 ہجری میں ذوالقعدہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام سرف پر ان سے شادی کی تھی۔
پہلے ان کا نام برہ تھا۔
سرف جو مکہ مکرمہ سے نو (9)
میل یا اس سے کم وبیش فاصلہ پر ہے، ہی پر سب ازواج سے آخر میں 61ہجری میں وفات پائی۔
لیکن یہ عطاء کا وہم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کوباری نہیں دیتے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کی باری مقرر فرمائی تھی۔
آخر میں سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی باری حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ہبہ کردی تھی، لیکن ان کی باری تو بہرحال تھی۔
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس بھی جاتے تھے۔
لیکن رات عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں ٹھہرتے تھے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس حال میں کہ آپ کے پاس نو بیویاں تھیں، آپ ان کے پاس ان کی باری کے موافق جایا کرتے تھے سوائے سودہ کے کیونکہ انہوں نے اپنا دن اور رات عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے وقف کر دیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3199]
عطا کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں گئے، تو آپ نے کہا: یہ میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، تم ان کا جنازہ نہایت سہولت کے ساتھ اٹھانا، اسے ہلانا نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نو بیویاں تھیں۔ آپ ان میں سے [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3198]
(2) ”حرکت نہ دینا“ عام میت کا احترام بھی واجب ہے مگر زوجہ رسول کا احترام سب سے بڑھ کر ہے۔ زندہ شخص محترم ہو تو فوت ہونے سے اس کا احترام مزید بڑھ جاتا ہے، حتیٰ کہ فوت شدہ کی قبر پر بیٹھنا بھی منع ہے، حالانکہ میت بہت نیچے ہوتی ہے۔
(3) ”نوبیویاں“ ان کے علاوہ دو بیویاں آپ کی زندگی میں فوت ہوگئی تھیں۔ لونڈیاں مزید ان کے علاوہ ہیں۔ نوبیویاں آپ کا خاصہ ہے۔ عام شخص چار سے زائد بیویاں بیک وقت نکاح میں نہیں رکھ سکتا۔
(4) ”باری“ آپ کی ایک بیوی حضرت سودہؓ بوڑھی ہوگئی تھیں، اس لیے انہوں نے ازخود اپنی باری حضرت عائشہؓ کو ہبہ کر دی تھی، لہٰذا نبیﷺ حضرت عائشہؓ کے پاس دودن رہتے تھے اور دوسری ازواج کے پاس ایک ایک دن۔
(5) چار سے زیادہ بیویوں کی رخصت (آپ کے لیے) اعلیٰ مقاصد کے لیے تھی: (1) آئندہ خلفاء سے رشتہ داری، مثلاً: حضرت عائشہ اور حفصہؓ سے نکاح (ب) بے سہارار بیواؤں کی حوصلہ افزائی جنہوں نے اللہ کے دین کی خاطر اپنے گھر والوں کو چھوڑ دیا تھا۔ خاوند فوت ہونے کے بعد وہ ا پنے گھروں کی طرف بھی رجوع نہیں کرسکتی تھیں، مثلاً: ام حبیبہ اور ام سلمہؓ تھیں۔ (ج) گھریلو مسائل بھی تفصیل سے امت تک پہنچ سکیں۔ ایک دو بیویاں یہ کام خوش اسلوبی سے نہیں کرسکتی تھیں۔ (د) دشمن گروہوں کو رام کرنے کے لیے‘ مثلاً: حضرت ام حبیبہؓ جو کہ مشرکین کے سالار ابو سفیان کی بیٹی تھیں۔ اس نکاح کے بعد ابوسفیان کا جوش وخروش ختم ہوگیا بالآخر مسلمان ہوگئے۔ رَضِي اللّٰہُ عَنْه وَأَرْضَاہُ۔اسی طرح حضرت صفیہؓ جو کہ یہودی سردار کی بیٹی تھیں۔ اس نکاح سے یہودیوں کا کانٹا نکل گیا۔
(6) یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ رسول اللہﷺ کو بیویوں کی مقررہ تعداد 4 سے بالا قرار دینے کی بنیاد شہوت نہیں ہوسکتی کیونکہ جو شخصیت اپنی زندگی کے تجرد والے 25 سال بے عیب گزارتے ہیں او راگلے 25 سال صرف ایک بیوی‘ وہ بھی بیوہ کے ساتھ انتہائی عفت وشرافت کے ساتھ گزارتے ہیں اور مزید پانچ سال ایک دوسری بیوی (حضرت سودہؓ) کے ساتھ ہی گزارتے ہیں، کیا یہ کسی لحاظ سے بھی مانا جاسکتا ہے کہ جب ان کی عمر 55 سال ہوجاتی ہے، جوانی مکمل طور پر رخصت ہوجاتی ہے اور بڑھاپا شروع ہوجاتا ہے تو اپنی زندگی کے آخری ساٹھ سال میں شہوت کی بنا پر زائد شادیاں کرتے ہیں؟ نہیں! ہرگز نہیں! بلکہ حقیقتاً رسول اللہﷺ کی زیادہ بیویوں کا عرصہ آخری پانچ سال ہیں۔ کیا کوئی معقول آدمی اسے شہوت پر محمول کرسکتا ہے؟ اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ خصوصاً جبکہ وہ شحصیت اپنی راتوں کا اکثر حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں روتے ہوئے گزاردیتی ہو۔ لازماً آپ کے کثرت ازواج کی حکمت کچھ اور تھی جس کی کچھ تفصیل اوپر ذکر ہوچکی ہے۔ فِدَاہ نفسي وروحي وأميﷺ۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب فوت ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نو بیویاں تھیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی باریاں تقسیم کی ہوئی تھیں۔ جب سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا بوڑھی ہو گئی تھیں، تو انہوں نے اپنی باری خوشی سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دی تھی، اس لیے آپ سلام آ ٹھ باریاں تقسیم کیا کرتے تھے۔