صحيح البخاري
كتاب فضائل القرآن— کتاب: قرآن کے فضائل کا بیان
بَابٌ في كَمْ يُقْرَأُ الْقُرْآنُ: باب: کتنی مدت میں قرآن مجید ختم کرنا چاہئے؟
حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : أَنْكَحَنِي أَبِي امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ ، فَكَانَ يَتَعَاهَدُ كَنَّتَهُ ، فَيَسْأَلُهَا عَنْ بَعْلِهَا ، فَتَقُولُ : نِعْمَ الرَّجُلُ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يَطَأْ لَنَا فِرَاشًا ، وَلَمْ يُفَتِّشْ لَنَا كَنَفًا مُنْذُ أَتَيْنَاهُ ، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَيْهِ ذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " الْقَنِي بِهِ " ، فَلَقِيتُهُ بَعْدُ ، فَقَالَ : " كَيْفَ تَصُومُ ؟ " قَالَ : كُلَّ يَوْمٍ ، قَالَ : " وَكَيْفَ تَخْتِمُ ؟ " قَالَ : كُلَّ لَيْلَةٍ ، قَالَ : " صُمْ فِي كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةً ، وَاقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ " ، قَالَ : قُلْتُ : أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْجُمُعَةِ " ، قُلْتُ : أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " أَفْطِرْ يَوْمَيْنِ وَصُمْ يَوْمًا " ، قَالَ : قُلْتُ : أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : صُمْ أَفْضَلَ الصَّوْمِ ، صَوْمَ دَاوُدَ ، صِيَامَ يَوْمٍ وَإِفْطَارَ يَوْمٍ ، وَاقْرَأْ فِي كُلِّ سَبْعِ لَيَالٍ مَرَّةً " ، فَلَيْتَنِي قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَاكَ أَنِّي كَبِرْتُ وَضَعُفْتُ ، فَكَانَ يَقْرَأُ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ السُّبْعَ مِنَ الْقُرْآنِ بِالنَّهَارِ وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ يَعْرِضُهُ مِنَ النَّهَارِ لِيَكُونَ أَخَفَّ عَلَيْهِ بِاللَّيْلِ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَتَقَوَّى أَفْطَرَ أَيَّامًا وَأَحْصَى وَصَامَ مِثْلَهُنَّ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتْرُكَ شَيْئًا ، فَارَقَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : وَقَالَ بَعْضُهُمْ : فِي ثَلَاثٍ وَفِي خَمْسٍ وَأَكْثَرُهُمْ عَلَى سَبْعٍ .´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے ، ان سے مغیرہ بن مقسم نے ، ان سے مجاہد بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` میرے والد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے میرا نکاح ایک شریف خاندان کی عورت ( ام محمد بنت محمیہ ) سے کر دیا تھا اور ہمیشہ اس کی خبرگیری کرتے رہتے تھے اور ان سے باربار اس کے شوہر ( یعنی خود ان ) کے متعلق پوچھتے رہتے تھے ۔ میری بیوی کہتی کہ بہت اچھا مرد ہے ۔ البتہ جب سے میں ان کے نکاح میں آئی ہوں انہوں نے اب تک ہمارے بستر پر قدم بھی نہیں رکھا نہ میرے کپڑے میں کبھی ہاتھ ڈالا ۔ جب بہت دن اسی طرح ہو گئے تو والد صاحب نے مجبور ہو کر اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے اس کی ملاقات کراؤ ۔ چنانچہ میں اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ روزہ کس طرح رکھتے ہو ۔ میں نے عرض کیا کہ روزانہ پھر دریافت فرمایا قرآن مجید کس طرح ختم کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا ہر رات ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مہینے میں تین دن روزے رکھو اور قرآن ایک مہینے میں ختم کرو ۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر بلا روزے کے رہو اور ایک دن روزے سے ۔ میں نے عرض کیا مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر وہ روزہ رکھو جو سب سے افضل ہے ، یعنی داؤد علیہ السلام کا روزہ ، ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو اور قرآن مجید سات دن میں ختم کرو ۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کاش میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصت قبول کر لی ہوتی کیونکہ اب میں بوڑھا اور کمزور ہو گیا ہوں ۔ حجاج نے کہا کہ آپ اپنے گھر کے کسی آدمی کو قرآن مجید کا ساتواں حصہ یعنی ایک منزل دن میں سنا دیتے تھے ۔ جتنا قرآن مجید آپ رات کے وقت پڑھتے اسے پہلے دن میں سنا رکھتے تاکہ رات کے وقت آسانی سے پڑھ سکیں اور جب ( قوت ختم ہو جاتی اور نڈھال ہو جاتے اور ) قوت حاصل کرنا چاہتے تو کئی کئی دن روزہ نہ رکھتے کیونکہ آپ کو یہ پسند نہیں تھا کہ جس چیز کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے وعدہ کر لیا ہے ( ایک دن روزہ رکھنا ایک دن افطار کرنا ) اس میں سے کچھ بھی چھوڑیں ۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بعض راویوں نے تین دن میں اور بعض نے پانچ دن میں ۔ لیکن اکثر نے سات راتوں میں ختم کی حدیث روایت کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے تین رات کم میں قرآن ختم کیا اس نے قرآن نہیں سمجھا۔
‘‘ (سنن أبي داود، شهد رمضان، حدیث: 1390)
ایک روایت کے مطابق حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔
’’قرآن سات دن میں ختم کرو اور تین دن سے کم مدت میں تو ختم نہیں کرنا چاہیے۔
‘‘ (سنن سعید بن منصور، التفسیر، حدیث: 143)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین دن سے کم مدت میں قرآن ختم نہیں کرتے تھے۔
(سلسلة الأحادیث الصحیحة للألباني، حدیث: 2466)
2۔
اکثر علماء کا موقف یہ ہے کہ ختم قرآن کے لیے مدت کی کوئی حد مقرر نہیں بلکہ یہ مختلف احوال و مختلف اشخاص پر موقوف ہے۔
جو شخص تدبر سے پڑھنا چاہے اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ اتنی مدت میں ختم کرے کہ اصل مقصود یعنی تدبر و تفکر متاثر نہ ہو۔
اور جو شخص اہم معاملات یا مصالح میں مشغول ہے اس کے لیے اسی قدر مستحب ہے کہ مہمات دین میں خلل نہ آئے ہاں اگر کسی کو اہم مصروفیات نہیں ہے تو جس قدر زیادہ سے زیادہ قرآن پڑھ سکتا ہو پڑھ لے یہاں تک کہ اکتا نہ جائے اور اسے تیز تیز پڑھنے سے بھی بچے۔
(فتح الباري: 121/9)
باب سےیہی وجہ مطابقت ہے۔
قرآن مجید میں حضرت داود ؑ کے متعلق صراحت ہے کہ وہ عبارت گزار اور شب بیدار تھے۔
ان کی عبادت و ریاضت اور انابت الی اللہ کو بڑے اچھے انداز میں بیان کیا گیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
’’ہمارے بندے داؤد کو بھی یاد کریں بلا شبہ وہ صاحب قوت اور بہت رجوع کرنے والے تھے۔
‘‘ (ص: 38۔
17)
اللہ تعالیٰ نے انھیں اتنی سریلی آواز دی تھی کہ جب وہ اللہ کی حمدو ثنا کے ترانے گاتے تو ساری فضا مسحور ہو جاتی ارد گرد پرندے جمع ہو جاتے اور وہ بھی آپ کے ہم نوا بن جاتے اور پہاڑوں سے بھی ان نغموں کی آواز آتی تھی۔
مندرجہ ذیل احادیث میں ان کے روزے کی تعریف کی گئی ہے وہ روزوں کا اس قدر اہتمام کرنے کے باوجود دشمن کے سامنے ڈٹ جاتے اور کبھی راہ افراراختیار نہ کرتے تھے۔
واللہ أعلم۔
کیونکہ ہمیشہ روزہ رکھنے میں نفس کو روزے کی عادت ہوجاتی ہے اور عادت کی وجہ سےعبادت کےلیے جومشقت ہونی چاہئے وہ باقی نہیں رہتی۔
حضرت داؤد آدھی رات کےبعد اٹھ کر تہجد پڑھتے، پھر سوجاتے، پھر صبح کی نماز کےلیے اٹھتے۔
یہ اور زیادہ مشکل اورنفس پر زیادہ شاق ہے۔
1۔
حضرت داؤد ؒ کا روزہ، ہمیشہ روزہ رکھنے سے افضل ہے کیونکہ ہمیشہ روزہ رکھنے میں نفس کو روزے کی عادت ہوجاتی ہے اور عادت کی وجہ سے عبادت کے لیے جو مشقت ہونی چاہیے وہ باقی نہیں رہتی، نیز ایسا کرنے سے کمزوری ہوجاتی ہے جو میدان جنگ میں جم کرمقابلہ کرے میں رکاوٹ کا باعث ہے۔
2۔
حضرت داؤد ؑ کی نماز اس طرح ہوتی کہ آپ آدھی رات کے بعد اٹھ کرتہجد پڑھتے پھر سوجاتے، اس کے بعد نمازفجر کے لیے بیدار ہوتے ایسا کرنا زیادہ مشکل اور نفس پرشاق ہے۔
بہرحال اللہ تعالیٰ کو حضرت داؤد ؑ کا روزہ اور آپ کی نماز پسند تھی جیسا کہ اس حدیث میں اس کی وضاحت ہے۔
(1)
امام بخاری ؒ نے اس سے پہلے ایک دن کا روزہ رکھنا اور ایک دن افطار کرنا اسے مستقل عنوان کے تحت بیان کیا تاکہ اس کے افضل ہونے کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کیا جائے۔
اور اب صوم داود کو الگ عنوان سے بیان کیا تاکہ سیدنا داود ؑ کی اس سلسلے میں اقتدا کی جائے۔
حضرت ابو قتادہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن افطار کرنے کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ’’میرے بھائی حضرت داود ؑ بھی اسی طرح روزے رکھتے تھے'' (صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2747(1162) (2)
ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ نے اسے افضل الصیام قرار دیا ہے۔
(صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2742(1159)
سنن نسائی کی ایک روایت میں ہے: ’’یہ روزے اعدل الصیام ہیں۔
‘‘ نیز آپ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت داود علیہ السلام اس قدر روزے رکھنے کے باوجود، جب کبھی دشمن سے ان کا مقابلہ ہوتا تو آپ اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے اور کسی صورت میں راہ فرار نہیں اختیار کرتے تھے۔
‘‘ (سنن النسائي، الصیام، حدیث: 2395)
سنن نسائی کی روایت میں ہے: ’’جب حضرت داود ؑ وعدہ کرتے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے تھے۔
‘‘ (سنن النسائي، الصیام، حدیث: 2395) (3)
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کی، اپنی امت پر شفقت اور مہربانی کی وضاحت ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں صحابۂ کرام ؓ کی اکثریت مالی وسعت نہ رکھتی تھی کیونکہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے چمڑے کا تکیہ بچھانے پر اکتفا کیا جبکہ صحابۂ کرام رسول اللہ ﷺ پر جان و مال قربان کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔
(4)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نیک اعمال اور دیگر اوراد و وظائف کی خبر دینا جائز ہے بشرطیکہ نمودونمائش اور ریاکاری کا شائبہ نہ ہو۔
(عمدةالقاري: 201/8)
میں نے کہا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا، اچھا بیس دن میں ختم کیا کر، میں نے کہا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا، اچھا دس دن میں ختم کیا کر۔
میں نے کہا، مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا اچھا سات دن میں ختم کیا کر۔
اور اس سے زیادہ مت پڑھ۔
(یعنی سات دن سے کم میں ختم نہ کر)
اسی لیے اکثر علماءنے سات دن سے کم میں قرآن کا ختم کرنا مکروہ رکھا ہے۔
قسطلانی نے کہا میں نے بیت المقدس میں ایک بوڑھے کو دیکھا جس کو ابوالطاہر کہتے تھے وہ رات میں قرآن کے آٹھ ختم کیا کرتے تھے وغیرہ وغیرہ۔
مترجم کہتا ہے یہ خلافت سنت ہے۔
عمدہ یہی ہے کہ قرآن مجید کو سمجھ سمجھ کر چالیس دن میں ختم کیا جائے انتہاءیہ ہے کہ تین دن میں ختم ہو۔
اس سے کم میں جو قرآن ختم کرے گا گویا اس نے گھاس کاٹی ہے إلا ماشاءاللہ۔
اس روایت میں اختصار ہے۔
امام مسلم ؒ نے اسے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ ہمیشہ روزے سے رہتے اور ایک رات میں قرآن ختم کر لیتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے انہیں مہینے میں تین دن، پھر چھ دن، پھر نو دن بالآخر بارہ دن روزہ رکھنے کی تلقین فرمائی لیکن حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کا اصرار تھا کہ میں اس سے زیادہ روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں۔
آپ نے ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن روزہ افطار کرنے کا حکم دیا، اور اسے افضل قرار دیا۔
(صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2730(1159)
اسی طرح ایک رات میں قرآن ختم کرنے کی شرعی حیثیت کی تفصیل "فضائل القرآن" میں بیان ہو گی۔
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: و نقل الترمذي عن بعض أهل العلم أنه أشق الصیام و یأمن مع ذلك غالبا من تفویت الحقوق کما تقدمت الإشارة إلیه فیما تقدم قریبا في حق داود و لا یفر إذا لاقی لأن من أسباب الفرار ضعف الجسد و لا شك إن سرد الصوم ینهکه و علی ذلك یحمل قول ابن مسعود فیما رواہ سعید بن منصور بإسناد صحیح عنه إن قیل له إنك لتقل الصیام فقال إني أخاف أن یضعفني عن القراءة و القراءة أحب إلی من الصیام الخ۔
یعنی ترمذی ؒ نے بعض سے نقل کیا ہے کہ صیام داؤد ؑ اگرچہ مشکل ترین روز ہ ہے مگر اس میں حقوق واجب کے فوت ہونے کا ڈر نہیں جیسا کہ پیچھے داؤد ؑ کے متعلق اشارہ گزر چکا ہے ان کی شان یہ بتلائی گئی کہ اس قدر روزہ رکھنے کے باوجود وہ جہاد میں دشمن سے مقابلہ کے وقت بھاگتے نہیں تھے۔
یعنی اس قدر روزہ رکھنے کے باوجود ان کے جسم میں کوئی کمزروی نہ تھی حالانکہ اس طرح روزے رکھنا جسم کو کمزور کردیتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے قول کا بھی یہی مطلب ہے۔
ان سے کہا گیا تھا کہ آپ نفل روزہ کم رکھتے ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے خطرہ ہے کہ کہیں میں کثرت صوم سے اس قدر کمزور نہ ہو جاؤں کہ میری قرات کا سلسلہ رک جائے حالانکہ قرات میرے لیے روزہ سے بھی زیادہ محبوب ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ صوم داؤد ؑ بہترین روزہ ہے۔
جو لوگ بکثرت روزہ رکھنے کے خواہش مند ہوں ان کے لیے ان ہی کی اتباع مناسب ہے۔
«. . . فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا، فَذَلِكَ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ أَفْضَلُ الصِّيَامِ . . .»
”. . . فرمایا کہ اچھا ایک دن روزہ رکھ اور ایک دن بے روزہ کے رہ کہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ایسا ہی تھا اور روزہ کا یہ سب سے افضل طریقہ ہے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ: 1976]
منکرین اعتراض کرتے ہیں: امام بخاری صائم الدہر رہا کرتے تھے، جیسا کہ کتاب طبقات کبریٰ امام عبدالوہاب شعرانی، مطبوعہ مصر [50/1] امام بخاری کے حال میں لکھا ہے: «محمد بن إسماعيل البخاري، كان صائم الدھر، وجاع حتي انتھي أكله كل يوم إلي تمرة أو لوزة.»
”محمد بن اسماعیل بخاری صائم الدہر تھے اور اتنی فاقہ کشی کی کہ ان کی روزانہ کی غذا ایک خرما یا ایک بادام تک پہنچ گئی۔“ {أقول:} اے جناب! آپ نے امام بخاری رحمہ اللہ کے صائم الدھر ہونے کا مطلب نہیں سمجھا، وہ ہرگز حدیث کے خلاف عامل نہیں ہوئے، بلکہ حدیث میں جیسا مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کو کہا گیا ہے، ویسا ہی امام بخاری رحمہ اللہ کرتے اور پھر بقیہ ایام نہایت کم خوراکی سے بسر کرتے، امام بخاری رحمہ اللہ کے صائم الدھر ہونے کہ یہ معنی ہیں، ورنہ جس معنی میں آپ نے سمجھا ہے، اس اعتبار سے شعرانی کی عبارت میں تناقض ہوتا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ دن کو کھائیں بھی (ایک کھجور یا بادام ہی سہی) اور پھر صائم بھی ہوں؟ «ھل ھذا إلا تناقض!»
مطلب یہ ہے کہ ان کی اس قدر کم خوراکی بھی صیام کے مثل ہے، یہ نہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ کچھ کھاتے ہی نہ تھے، اسی طبقات کبریٰ للشعرانی میں ہے: ابوالحسن یوسف بن ابی ذر کہتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے چالیس سال تک نانخورش نہیں کھایا، صرف خشک روٹیوں پر گزارا کرتے رہے، جب علیل ہوئے تو بہ تجویز شیوخ روٹیوں کے ساتھ شکر کھانی منظور کی۔ ۱؎
جس سے معلوم ہوا کہ امام بخاری رحمہ اللہ کچھ کھایا بھی کرتے تھے، لیکن چونکہ یہ کھانا اور نہ کھانا دونوں ایک برابر تھا، لہٰذا ان کو صائم الدہر کہا گیا، صائم الدہر کا وہ مطلب نہیں ہے، جو آپ نے سمجھا ہے کہ ہمیشہ روزہ ہی رکھا کرتے تھے، مطلقاً کچھ کھایا ہی نہیں، بلکہ کچھ ضرور کھاتے، پس یہ عمل ہرگز حدیث کے خلاف نہیں ہوا۔ ۲؎
امام نے تو بقدم اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مثل دنیا گزاری۔
------------------
۱؎ [ھدي الساري:ص،481]، [تغليق التعليق 398/5]، [الطبقات الكبري:ص:92]
۲؎ علاوہ ازیں شعرانی نے طبقات میں امام بخاری کے متعلق مذکورہ عمل کی کوئی سند بیان نہیں کی، کیونکہ مذکورہ عمل کے پایہ ثبوت کو پہنچنے کے بعد ہی کسی توجیہ کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ «إذ ليس فيلس!»
(1)
صیام دہر اور صیام وصال میں فرق یہ ہے کہ جو کوئی روزے رکھے اور درمیانی راتوں میں افطار نہ کرے وہ صیام وصال ہیں اور جو رات کو افطار کر دے اور ہمیشہ روزے رکھے وہ صیام دہر ہیں۔
ایسے شخص کو صائم الدہر کہا جاتا ہے۔
شریعت نے اس قسم کے روزے کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے ہمیشہ روزہ رکھا اس نے گویا روزہ رکھا ہی نہیں۔
‘‘ (صحیح البخاري، الصوم، حدیث: 1979)
حضرت عبداللہ بن شخیر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے ہمیشہ روزہ رکھا اس نے گویا نہ تو روزہ رکھا اور نہ افطار ہی کیا۔
‘‘ (سنن ابن ماجة، الصیام، حدیث: 1705) (2)
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تین آدمیوں نے رسول اللہ ﷺ کی عبادت کو اپنے لیے کم خیال کیا۔
ان میں سے ایک نے کہا: میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا کبھی ترک نہیں کروں گا۔
جب آپ کو اس بات کا علم ہوا تو فرمایا: ’’میں روزہ رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔
‘‘ (صحیح البخاري، النکاح، حدیث: 5063) (3)
جو شخص روزمرہ کے روزے کا عادی ہو جائے تو اس سے روزے کی وہ مشقت ختم ہو جاتی ہے جس پر اس کا ثواب مرتب ہوتا ہے، عبادت تو وہی ہے جو عادت کے خلاف ہو، چنانچہ حضرت عمر ؓ کو ایک ایسے آدمی کے متعلق معلوم ہوا جو ہمیشہ روزے رکھتا تھا، آپ اس پر درہ لہرایا اور فرمایا: اے دہری! کھا۔
(المصنف لابن أبي شیبة: 78/3)
روایات میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابو نعیم ہمیشہ روزے رکھتے تھے۔
حضرت عمرو بن میمون نے کہا: اگر اصحاب محمد ﷺ اسے دیکھ لیتے تو اسے پتھر مار مار کر ختم کر دیتے۔
(فتح الباري: 282/4)
معلوم ہوا کہ ہمیشہ بلا ناغہ روزے رکھنا مستحسن اقدام نہیں۔
واللہ أعلم
(1)
هجمت: اندر دھنس جائے گی، (2)
نَهكت: کمزور پڑ جائے گی۔
(3)
نُهكت: تم کمزور اور لاغر ہو جاؤ گے۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں، اور پسندیدہ نماز بھی داود کی نماز ہے: وہ آدھی رات تک سوتے، اور تہائی رات تک قیام کرتے (تہجد پڑھتے)، پھر رات کا چھٹا حصہ سوتے، اور ایک دن روزہ نہ رکھتے، ایک دن رکھتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2448]
رات کی نماز کی یہ کیفیت انتہائی مناسب ہے۔
اس میں اللہ کے حق کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ حق نفس کا بھی لحاظ ہے۔
مثلا اگر رات کو آٹھ گھنٹے کی سمجھا جائے تو پہلے چار گھنٹے نیند ہوئی، پھر دو گھنٹے چالیس منٹ تہجد۔
بعد ازاں پھر ایک گھنٹہ بیس منٹ کے لیے نیند اور راحت ہے۔
ایسے ہی روزے میں ہے۔
اس فضیلت کے ساتھ ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلقین و توجیہ افضل و اعلیٰ ہے۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو آپ نے فرمایا: ” کیا مجھ سے یہ نہیں بیان کیا گیا ہے کہ تم کہتے ہو: میں ضرور رات میں قیام کروں گا اور دن میں روزہ رکھوں گا؟ “ کہا: میرا خیال ہے اس پر انہوں نے کہا: ہاں، اللہ کے رسول! میں نے یہ بات کہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قیام اللیل کرو اور سوؤ بھی، روزہ رکھو اور کھاؤ پیو بھی، ہر مہینے تین دن روزے رکھو، یہ ہمیشہ روزے رکھنے کے برابر ہے۔“ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے اندر اس سے زیادہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2427]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تلقین عمل میں انتہائی خفیف اور اجر میں بہت عظیم ہے، مگر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی طبیعت زیادہ کی حریص تھی، اس لیے زیادہ کی اجازت طلب کرتے رہے، مگر جب بڑھاپے میں کمزور ہو گئے تو کہا کرتے تھے: کاش میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمائے ہوئے تین دن قبول کر لیے ہوتے، وہ مجھے میرے اہل اور مال سے زیادہ محبوب تھے۔
(صحيح مسلم‘ الصيام‘ حديث:1159)
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ عزوجل کو روزوں میں سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے تھے۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب نماز بھی داود علیہ السلام کی نماز تھی، وہ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات قیام کرتے تھے، اور رات کے چھٹویں حصہ میں پھر سوتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2346]
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ” ایک دن روزہ رکھ تمہیں باقی دنوں کا ثواب ملے گا۔“ انہوں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ” دو دن روزہ رکھ تمہیں باقی دنوں کا اجر ملے گا “، انہوں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ” تین دن روزہ رکھو اور باقی دنوں کا ثوا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2396]
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا۔ میں نے عرض کیا: چچا جان! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے جو کہا تھا اسے مجھ سے بیان کیجئے۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! میں نے پختہ عزم کر لیا تھا کہ میں اللہ کی عبادت کے لیے بھرپور کوشش کروں گا یہاں تک کہ میں نے کہہ دیا کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، اور ہر روز دن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2395]
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ” ہر دس دن پر ایک دن روزہ رکھو، تمہیں ان باقی نو دنوں کا اجر و ثواب ملے گا “، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ” ہر نو دن پر ایک دن روزہ رکھو اور تمہیں ان آٹھ دنوں کا بھی ثواب ملے گا “، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2397]
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ” عبداللہ بن عمرو! تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو اور رات میں کرتے ہو، جب تم ایسا کرو گے تو آنکھیں اندر کو دھنس جائیں گی اور نفس تھک جائے گا، جو ہمیشہ روزہ رہے گا اس کا روزہ نہ ہو گا، ہر مہینے میں تین دن کا روزہ پورے سال کے روزہ کے برابر ہے “، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2401]
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے، وہ آدھی رات تک سوتے تھے، پھر تہائی رات تک نماز پڑھتے، پھر چھٹے حصہ میں سو جاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1631]
➋ قیام اللیل پر دوام مستحب امر ہے۔
➌ افضل طریقہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔ اس سے افضل کوئی اور طریقہ نہیں ہو سکتا اگرچہ وہ مقدار میں مسنون طریقے سے زیادہ مشقت میں اس سے کراں ہی کیوں نہ ہو۔
مجاہد کہتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا: میرے والد نے میری شادی ایک اچھے خاندان والی عورت سے کر دی، چنانچہ وہ اس کے پاس آتے، اور اس سے اس کے شوہر کے بارے میں پوچھتے، تو (ایک دن) اس نے کہا: یہ بہترین آدمی ہیں ایسے آدمی ہیں کہ جب سے میں ان کے پاس آئی ہوں، انہوں نے نہ ہمارا بستر روندا ہے اور نہ ہم سے بغل گیر ہوئے ہیں، عمرو بن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2391]
(2) ”پہلو تلاش نہیں کیا۔“ یعنی کبھی خاوند بیوی والا تعلق قائم نہیں کیا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ انتہائی متقی اور پرہیز گار تھے، اس لیے توجہ بیوی کی طرف نہ گئی۔ والد محترم نے خود توجہ دلانے کے بجائے رسول اللہﷺ سے رجوع کیا۔
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” روزوں میں سب سے افضل داود علیہ السلام کے روزے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے، اور ایک دن افطار کرتے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2390]
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا گیا کہ میں کہتا ہوں کہ میں جب تک زندہ رہوں گا ہمیشہ رات کو قیام کروں گا، اور دن کو روزہ رکھا کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم ایسا کہتے ہو؟ میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! جی ہاں میں نے یہ بات کہی ہے، آپ نے فرمایا: ” تم ایسا نہیں ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2394]
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے میں داخل ہوئے اور فرمایا: ” کیا مجھے یہ خبر نہیں ملی ہے کہ تم رات میں قیام کرتے ہو اور دن میں روزہ رکھتے ہو؟ “ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ہاں ایسا ہی ہے۔ آپ نے فرمایا: ” تم ایسا ہرگز نہ کرو، سوؤ بھی اور قیام بھی کرو، روزہ سے بھی رہو اور کھاؤ پیو بھی، کیونکہ تمہاری آن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2393]
(2) ”تیری عمر لمبی ہوگی۔“ اور بڑی عمر میں زیادہ عبادت کو قائم نہ رکھ سکے گا، لہٰذا اتنی عبادت شروع کر جسے قائم رکھ سکے۔ مگر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ جوانی اور عبادت کے جوش میں سمجھ نہ سکے اور آخر عمرمیں تنگ ہوئے جسے وہ سختی ڈالنے سے تعبیر فرما رہے تھے۔
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد نے میری شادی ایک عورت سے کر دی، وہ اس سے ملاقات کے لیے آئے، تو اس سے پوچھا: تم نے اپنے شوہر کو کیسا پایا؟ اس نے کہا: کیا ہی بہترین آدمی ہیں نہ رات میں سوتے ہیں اور نہ دن میں کھاتے پیتے ہیں، ۱؎ تو انہوں نے مجھے سخت سست کہا اور بولے: میں نے تیری شادی ایک مسلمان لڑکی سے کی ہے، اور تو اسے چھوڑے رکھ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2392]
عمرو بن اوس کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک روزوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ روزہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے، آپ آدھی رات سوتے تھے، پھر تہائی رات تک نماز پڑھتے تھے، پھر رات کے چھٹے حصہ میں سو رہتے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1712]
فوائد و مسائل:
(1)
نفلی عبا دات کی مقدار کم بیش ہو سکتی ہے آدمی چاہے تو زیا دہ نوا فل ادا کر ے چاہے تو کم رکعتیں پڑھ لے اس طرح چاہے زیادہ روزے رکھے چاہے کم رکھ لے البتہ ان امور سے اجتناب کرے جن سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے-
(2)
حضرت داؤد علیہ السلام کے انداز پر نفلی روزے رکھنا سب سے افضل ہے اس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ اسے زیادہ نفلی روزے رکھنے سے ثواب کم ہو جا ئے گا۔
(3)
حضرت داؤد علیہ السلام والے روزے اس لئے افضل ہیں کہ اس طریقے سے انسا ن کو جسم کا اہل و عیا ل کا اور دوسرے لو گو ں کا وہ حق ادا کر نے کا بھی مو قع مل جا تا ہے جو ہمیشہ روزے رکھنے کی صورت میں ادا نہیں کیا جا سکتا اور اللہ کی عبا دت کر کے ثواب بھی حا صل ہو جا تا اور ایک لحا ظ سے دائمی عمل بھی بن جا تا ہے جو اللہ کو بہت پسند ہے
(4)
نماز تہجد رات کے کسی حصے میں ادا کی جا سکتی ہے تا ہم مذکورہ بالا صورت افضل ہے کیونکہ اس میں بھی جسم کے حق اور اللہ کے حق کا ایک خو بصورت توازن مو جود ہے
(5)
داؤد علیہ السلام والی نماز کی صورت یہ ہے مثلاً ایک رات با رہ گھنٹے کی ہو تو اس میں چھ گھنٹے آرام کیا جا ئے پھر اٹھ کر چار گھنٹے نماز تہجد اور عبا دت میں گزارے جا ئیں پھر دو گھنٹے تک آ رام کر لیا جا ئے۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے ہمیشہ روزہ رکھا اس کا روزہ ہی نہیں ہوا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1706]
فائدہ: اس سے معلوم ہو اکہ ہمیشہ روزے رکھنے والے کو با لکل ثواب نہیں ملتا۔