صحيح البخاري
كتاب فضائل القرآن— کتاب: قرآن کے فضائل کا بیان
بَابُ مَدِّ الْقِرَاءَةِ: باب: قرآن مجید پڑھنے میں مد کرنا یعنی جہاں مد ہو اس حرف کو کھینچ کر ادا کرنا۔
حدیث نمبر: 5046
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ : " كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : كَانَتْ مَدًّا ، ثُمَّ قَرَأَ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، يَمُدُّ بِبِسْمِ اللَّهِ ، وَيَمُدُّ بِالرَّحْمَنِ ، وَيَمُدُّ بِالرَّحِيمِ " .مولانا داود راز
´ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے کہ انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کیسی تھی ؟ انہوں نے بیان کیا کہ مد کے ساتھ ۔ پھر آپ نے «بسم الله الرحمن الرحيم» پڑھا اور کہا کہ «بسم الله» ( میں اللہ کی لام ) کو مد کے ساتھ پڑھتے «الرحمن» ( میں میم ) کو مد کے ساتھ پڑھتے اور «الرحيم.» ( میں حاء کو ) مد کے ساتھ پڑھتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5046. سیدنا انس ؓ سے روایت ہے آپ سے سوال کیا گیا کہ نبی ﷺ کی قراءت کیسے تھی؟ تو انہوں نے بیان کیا کہ آپ ﷺ کھینچ کر پڑھتے تھے۔ پھر آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کو پڑھا یعنی بسم اللہ کو کھنیچ کر پڑ ھتے الرحمن کو مد کے ساتھ پڑھتے اور الرحیم کو بھی کھینچ کر تلاوت کرتے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5046]
حدیث حاشیہ:
1۔
حضرت قطبہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز فجر میں سورہ ق پڑھتے سنا، جب آپ (لَّهَا طَلْعٌ نَّضِيدٌ)
پر پہنچے تو(نَّضِيدٌ)
کو کھینچ کر ادا کیا۔
(السنن الکبری للبیهقي: 54/2 و فتح الباري: 114/9)
2۔
مد کی دو قسمیں ہیں۔
۔
مد اصلی حروف مدہ کو کھینچ کر پڑھا جائے۔
۔
مد غیر اصلی: جب حرف مدہ کے بعد ہمزہ ہو تو اس اس کی دو صورتیں ہیں۔
۔
اگر حروف مدہ کے بعد ہمزہ اسی کلمے میں ہو تو اسے مد متصل کہا جا تا ہے، جیسے (مَآءٍ)
اور سوّء
۔
اگر حرف مدہ کے بعد ہمزہ دوسرے کلمے میں ہو تو اسے مد متصل کہا جاتا ہے، جیسے (إِلَّا أَنفُسَهُمْ)
مد غیر اصلی کو خوب کھینچ کر پڑھنا چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی حروف مدہ کو کھینچ کر پڑھتے تھے۔
(فتح الباري: 114/9)
1۔
حضرت قطبہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز فجر میں سورہ ق پڑھتے سنا، جب آپ (لَّهَا طَلْعٌ نَّضِيدٌ)
پر پہنچے تو(نَّضِيدٌ)
کو کھینچ کر ادا کیا۔
(السنن الکبری للبیهقي: 54/2 و فتح الباري: 114/9)
2۔
مد کی دو قسمیں ہیں۔
۔
مد اصلی حروف مدہ کو کھینچ کر پڑھا جائے۔
۔
مد غیر اصلی: جب حرف مدہ کے بعد ہمزہ ہو تو اس اس کی دو صورتیں ہیں۔
۔
اگر حروف مدہ کے بعد ہمزہ اسی کلمے میں ہو تو اسے مد متصل کہا جا تا ہے، جیسے (مَآءٍ)
اور سوّء
۔
اگر حرف مدہ کے بعد ہمزہ دوسرے کلمے میں ہو تو اسے مد متصل کہا جاتا ہے، جیسے (إِلَّا أَنفُسَهُمْ)
مد غیر اصلی کو خوب کھینچ کر پڑھنا چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی حروف مدہ کو کھینچ کر پڑھتے تھے۔
(فتح الباري: 114/9)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5046 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1465 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´قرآت میں ترتیل کے مستحب ہونے کا بیان۔`
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مد کو کھینچتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1465]
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مد کو کھینچتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1465]
1465. اردو حاشیہ: یعنی جن الفاظ میں مد ہے۔ ان کو مد سے اور جن میں لین ہے ان کو کو لین سے۔ مقصد یہ کہ معروف عربی لحن کے ساتھ پڑھتے تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1465 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1015 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´قرأت میں آواز کھینچنے کا بیان۔`
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کیسی ہوتی تھی؟ تو انہوں نے کہا: آپ اپنی آواز خوب کھینچتے تھے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1015]
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کیسی ہوتی تھی؟ تو انہوں نے کہا: آپ اپنی آواز خوب کھینچتے تھے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1015]
1015۔ اردو حاشیہ: یہ مطلب نہیں کہ بے جا کھینچتے تھے بلکہ جس حرف پر مد ہوتی تھی اسے لمبا کر کے پڑھتے تھے۔ مد والے حروف کو کھینچنے سے قرأت میں سکون اور ٹھہراؤ پیدا ہوتا ہے جسے ترتیل کہتے ہیں اور یہ ضروری ہے، اس سے قرآن کریم مں غور و فکر کرنے کا موقع ملتا ہے۔ تیز تیز پڑھنا جس سے سوائے یعلمون اور تعلمون کے کچھ پتہ نہ چلے، مذموم قرأت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1015 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1353 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´تہجد (قیام اللیل) میں قرات قرآن کا بیان۔`
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آواز کو کھینچتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1353]
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آواز کو کھینچتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1353]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مطلب یہ ہے کہ جو الفاظ کھینچ کر پڑھے جا سکتے ہیں۔
انھیں کھینچ کر لمبا کرکے پڑھتے تھے مثلاً جب کسی حرف کے ساتھ الف ملا ہوا ہو یا پیش کے بعد ساکن واؤ آ رہا ہو یا زیر کے بعد ساکن یا آرہی ہو تو ان حروف کونسبتاً طویل کرکے پڑھا جائے گا۔
صرف زیر زبر اورپیش والے حرف کو کھینچ کر پڑھنا درست نہیں جب کہ ان کے بعد الف واؤ اور یاء ساکن موجود نہ ہو مثلا ﴿۔
إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ میں إِنَّ یا أَعْطَیْنَ پڑھنا غلط ہے اسی طرح ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ کو فَصَلِّیْ لِرَبِّکَا پڑھنا درست نہیں۔
فوائد و مسائل:
مطلب یہ ہے کہ جو الفاظ کھینچ کر پڑھے جا سکتے ہیں۔
انھیں کھینچ کر لمبا کرکے پڑھتے تھے مثلاً جب کسی حرف کے ساتھ الف ملا ہوا ہو یا پیش کے بعد ساکن واؤ آ رہا ہو یا زیر کے بعد ساکن یا آرہی ہو تو ان حروف کونسبتاً طویل کرکے پڑھا جائے گا۔
صرف زیر زبر اورپیش والے حرف کو کھینچ کر پڑھنا درست نہیں جب کہ ان کے بعد الف واؤ اور یاء ساکن موجود نہ ہو مثلا ﴿۔
إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ میں إِنَّ یا أَعْطَیْنَ پڑھنا غلط ہے اسی طرح ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ کو فَصَلِّیْ لِرَبِّکَا پڑھنا درست نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1353 سے ماخوذ ہے۔