صحيح البخاري
كتاب فضائل القرآن— کتاب: قرآن کے فضائل کا بیان
بَابُ فَضْلِ الْقُرْآنِ عَلَى سَائِرِ الْكَلاَمِ: باب: قرآن مجید کی فضیلت دوسرے تمام کلاموں پر کس قدر ہے؟
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَالْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ ، وَالَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَالتَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا ، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ ، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا مُرٌّ وَلَا رِيحَ لَهَا " .´ہم سے ابوخالد ہدبہ بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا ان سے انس بن مالک نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی ( مومن کی ) مثال جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے سنگترے کی سی ہے جس کا مزا بھی لذیذ ہوتا ہے اور جس کی خوشبو بھی بہترین ہوتی ہے اور جو مومن قرآن کی تلاوت نہیں کرتا اس کی مثال کھجور کی سی ہے اس کا مزہ تو عمدہ ہوتا ہے لیکن اس میں خوشبو نہیں ہوتی اور اس بدکار ( منافق ) کی مثال جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے ریحانہ کی سی ہے کہ اس کی خوشبو تو اچھی ہوتی لیکن مزا کڑوا ہوتا ہے اور اس بدکار کی مثال جو قرآن کی تلاوت بھی نہیں کرتا اندرائن کی سی ہے جس کا مزا بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس میں کوئی خوشبو بھی نہیں ہوتی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَالْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ، وَالَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَالتَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا مُرٌّ وَلَا رِيحَ لَهَا . . .»
”. . . ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی (مومن کی) مثال جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے سنگترے کی سی ہے جس کا مزا بھی لذیذ ہوتا ہے اور جس کی خوشبو بھی بہترین ہوتی ہے اور جو مومن قرآن کی تلاوت نہیں کرتا اس کی مثال کھجور کی سی ہے اس کا مزہ تو عمدہ ہوتا ہے لیکن اس میں خوشبو نہیں ہوتی اور اس بدکار (منافق) کی مثال جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے ریحانہ کی سی ہے کہ اس کی خوشبو تو اچھی ہوتی لیکن مزا کڑوا ہوتا ہے اور اس بدکار کی مثال جو قرآن کی تلاوت بھی نہیں کرتا اندرائن کی سی ہے جس کا مزا بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس میں کوئی خوشبو بھی نہیں ہوتی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ: 5020]
باب اور حدیث میں مناسبت:
مجتہد مطلق امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمتہ الباب میں قرآن مجید کی فضیلت پر اشارہ فرمایا ہے کہ تحت الباب پوری حدیث میں کہیں بھی قرآن مجید کی فضیلت پر واضح طور پر کوئی الفاظ نہیں ہیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: «مناسبة الحديث الثاني من جهة ثبوت فضل هذه الامة على غيرها من الأمم وثبوت الفضل لها ثبت من فضل كتابها الذى أمرت بالعمل به» [فتح الباري لابن حجر: 58/10]
”ترجمۃ الباب سے اس حدیث کی مناسبت کچھ اس طرح سے ہے کہ اس امت (امت محمدیہ) کو تمام امتوں پر فضیلت جو ہے وہ فضیلت اس کتاب (قرآن) کی وجہ سے ہے جس پر انہیں عمل کا حکم دیا گیا ہے۔“
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے بیان کے مطابق ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت اس طرح ممکن ہے کہ امت محمدیہ کو فضیلت ہی اس قرآن کی وجہ سے عطا کی گئی ہے، لہٰذا اسی کتاب کی وجہ سے امت کو افضل قرار دیا گیا ہے تو وہ چیز جو افضلیت کا سبب ہے، تمام تر چیزوں سے افضل ہو گی۔
امام کرمانی رحمہ اللہ ترجمۃ الباب اور حدیث پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتے ہیں: «واما الحديث الثاني فلا دلالة على الترجمه فيه اصلاّ .» [شرح كرماني: 9،30/19]
”جو حدیث عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ ترجمہ الباب سے اصل مناسبت نہیں رکھتی۔“ کرمانی صاحب کے اس اشکال کو دور کرتے ہوئے، محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: «فضل القاري لقراءه القران وكذلك فضل هذه الامة على الامم انما هو بسبب القران .» [الابواب و التراجم لصحیح البخاری: 443/8]
”قاری کی فضیلت (درحقیقت) قراءۃ قرآن کے ساتھ ہے اور اسی طرح امت کی فضیلت دیگر امتوں پر قرآن مجید کی وجہ سے ہے۔“
لہٰذا حدیث اور باب میں مناسبت اس جہت سے ہے کہ اس امت کو فضیلت قرآن مجید کے سبب دی گئی ہے اور جب اس امت کو تمام امتوں پر فضیلت حاصل ہے تو بالاولیٰ اس امت کی کتاب کو بھی تمام کتابوں پر فضیلت ہو گی، یہیں سے ترجمہ الباب اور حدیث میں مناسبت ہو گی۔
1۔
اس حدیث میں قرآن کی فضیلت بیان ہوئی ہے کیونکہ قرآن پڑھنے کے باعث قاری کو فضیلت حاصل ہوتی ہے۔
اس میں مومن قاری کو سنگترے سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ یہ دیکھنے میں خوشنما اور کھانے میں خوش ذائقہ ہے یہ معدے کو قوی اور صاف کرتا ہے اور قوت ہضم کو تیز کرتا ہے۔
اس کا چھلکا کپڑوں میں رکھنے سے جراثیم دور ہو جاتے ہیں۔
یہ دوائی کے کام بھی آتا ہے ان خصوصیات کی بنا پر مناسب یہی تھا کہ اس کے ساتھ مومن قاری کو تشبیہ دی جائے ایک روایت میں ہے۔
’’یہ مثال اس مومن کی ہے جو قرآن کریم پڑھتا اور اس کے مطابق عمل کرتا ہے۔
‘‘ (جامع الترمذي، فضائل القرآن، حدیث: 5059)
2۔
اس سے شریعت کی مراد واضح ہوتی ہے کہ مذکورہ فضیلت صرف تلاوت سے نہیں بلکہ تلاوت کے ساتھ ساتھ اس پر عمل کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔
(فتح الباري: 85/9)
مومن مخلص کے قرآن شریف پڑھنے کا فعل خوشبودار ریمان کی طرح ہے اور منافق کے قرآن شریف پڑھنے کا فعل اندرائن کے پھل کی طرح ہے۔
پس قرآن شریف اللہ کا کلام غیرمخلوق اورمومن ومنافق کا تلاوت کرنا ان کافعل ہے جو فعل ہونے کےطور پرمخلوق ہے۔
ایسا ہی خارجیوں کےقرآن شریف پڑھنے کا حل ہے جوحدیث ذیل میں بیان ہو رہا ہے۔
ان کا یہ فعل مخلوق ہے۔
کتاب خلق افعال العباد کا یہی خلاصہ ہے کہ بندوں کے افعال سب مخلوق ہیں۔
جن کا خالق اللہ تبارک وتعالیٰ ہے۔
اس حدیث سے مقصود یہ ہے کہ قرآن اور تلاوت میں فرق واضح کیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور تلاوت بندے کا فعل ہے یہی وجہ ہے کہ بندے کے فعل کی وجہ سے تلاوت، تلاوت میں فرق ہے۔
ایک عامل مومن کا تلاوت کرنا سنگترے کی طرح ہے جو بے شمار فوائد کا حامل ہے اور بد کردار کی تلاوت سے ماحول معطر نہیں ہوتا اور اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اس بنا پر قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام غیر مخلوق اور مومن و منافق کا تلاوت کرنا ان کا ذاتی فعل ہے اور فعل ہونے کے اعتبار سے وہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ہیں بہر حال بندوں کے افعال سب مخلوق ہیں جن کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔
حدیث سے یہ بھی نکلا کہ اگر حلال طور سے اللہ تعالیٰ مزیدار کھانا عنایت فرمائے تو اسے خوشی سے کھائے، حق تعالیٰ کا شکر بجا لائے اور مزیدار کھانے کھانا زہد اور درویشی کے خلاف نہیں ہے اور جو بعض جاہل فقیر مزیدار کھانے کوپانی یا نمک ملا کر بدمزہ کر کے کھاتے ہیں یہ اچھا نہیں ہے۔
بعض بزرگوں نے کہا ہے کہ خوش ذائقہ کھانے پر خوش ہونا چاہیئے۔
اسے بد ذائقہ بنانا حماقت اور نادانی ہے۔
ایسے جاہل فقیر شریعت الٰہی کو الٹ پلٹ کرنے والے حلال و حرام کی نہ پرواہ کرنے والے در حقیقت دشمنان اسلام ہوتے ہیں۔
أعاذنا من شرورھم آمین۔
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ مزیدار اور خوشبودار کھانا تناول کرنا جائز ہے کیونکہ آپ نے مومن کی مثال سنگترے سے دی ہے جو مزیدار اور خوشبودار ہوتا ہے۔
اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر اللہ تعالیٰ حلال طور پر مزیدار کھانا عنایت فرمائے تو اسے خوشی خوشی کھانا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
(2)
مزیدار کھانا زہد و تقویٰ کے خلاف نہیں ہے اور جو جاہل لوگ مزیدار لوگ کھانے کو پانی یا نمک سے بدمزہ کر کے کھاتے ہیں یہ ان کی حماقت اور نادانی ہے، نیز اس حدیث میں تلخ طعام کی کراہت کی طرف اشارہ ہے۔
واللہ أعلم۔
بعض اسلاف سے مزیدار کھانوں کی کراہت منقول ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیشہ کے لیے ایسی عادت اختیار نہ کی جائے، کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی وقت صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے اور وہ گمراہی میں جا پڑے۔
(فتح الباري: 687/9)
1۔
اس حدیث میں قرآن کریم کو ریا کاری کے طور پر پڑھنے والوں کی مذمت بیان کی گئی ہے اور انھیں منافق قرار دیا گیا ہے۔
2۔
اس حدیث میں بیان کردہ تشبیہ و تمثیل دراصل موصوف کے وصف کی ہے جو خالص معقول معنی پر مشتمل ہے۔
یہ تشبیہ اس کی پوشیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔
یعنی انسان کے ظاہر و باطن میں کلام اللہ کی تاثیر کار فرما ہے۔
اس میں لوگ مختلف ہیں بعض میں یہ تاثیر پوری ہوتی ہےاور وہ اس سے پوری طرح متاثر ہوتے ہیں اور وہ مومن قاری ہے بعض میں یہ تاثیر بالکل نہیں ہوتی وہ حقیقی منافق ہیں۔
بعض کا ظاہر تو متاثر ہوتا ہے لیکن باطن متاثر نہیں ہوتا وہ ریا کار لوگ ہوتے ہیں۔
اور بعض کا صرف باطن متاثر ہوتا ہے اور ظاہر پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا وہ مومن ہیں جو قرآن کریم کی تلاوت نہیں کرتے۔
بہر حال اس حدیث میں قرآن کریم کو ریا کاری کے طور پر استعمال کرنے والوں کا ذکر ہے جسے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ثابت کیا ہے. واللہ اعلم۔
ایمان کے حسن و کمال میں اضافہ ہوجاتا ہے اور اس کو چار چاند لگ جاتے ہیں لیکن اگر قرآن مجید کا حق ادا نہ کیا جائے، اس کی تلاوت نہ کی جائے یا اس پر عمل نہ کیا جائے تو اس کا حسن و کمال ماند پڑجاتا ہے۔
نفاق ایک بدخصلت ہے لیکن ظاہری طور پر اس میں خوبی ہے اور باطنی طور پر خباثت ہے اس لیے تلاوت قرآن پر سچا جھوٹا عمل بظاہر ایک خوبی ہے لیکن اگر منافق قرآن کی تلاوت نہ کرے اور اس پر کچھ نہ کچھ عمل بھی نہ کرے تو ظاہری خوبی بھی ماند پڑجاتی ہے اور اندر کا خبث نمایاں ہو جاتا ہے، اس لیے بعض روایات میں(لَيْسَ لَهَا رِيْحٌ کی بجائے رِيْحُهاَ مُرٌّ)
ہے کہ اس کی کڑواہٹ سونگھی جا سکتی، ہے اس کے تلخ ذائقہ کا اثر اس کی بو پر بھی پڑتا ہے۔
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے سنگترے کی سی ہے جس کی خوشبو بھی اچھی ہے اور ذائقہ و مزہ بھی اچھا ہے، اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اس کھجور کی سی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہے اور مزہ میٹھا ہے۔ اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے خوشبودار پودے کی ہے جس کی بو، مہک تو اچھی ہے مزہ کڑوا ہے۔ اور اس منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا ہے اندرائن (حنظل) (ایک کڑوا پھل) کی طرح ہے جس کی بو بھی اچھی نہیں اور مزہ بھی اچھا نہیں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأمثال/حدیث: 2865]
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے کلام کی اثر انگیزی انسان کے ظاہر و باطن دونوں میں پائی جاتی ہے اور انسان چونکہ مختلف اوصاف کے حامل ہوتے ہیں اس لیے قرآن کریم کا پورا پورا تاثیری فائدہ صرف اس بندے کو حاصل ہوتا ہے جو مومن ہونے کے ساتھ حافظ قرآن اور اس پر عمل کرنے والا ہو، ایسا مومن اللہ کے نزدیک خوش رنگ اور خوش ذائقہ پھل کی طرح مقبول ہے۔
اور کچھ بندے ایسے ہیں جن کا باطن قرآن سے مستفید ہوتا ہے لیکن ظاہر محروم رہتا ہے، یہ وہ مومن بندہ ہے جو قاری قرآن نہیں ہے، ایسا مومن اللہ کے نزدیک اس مزے دار پھل کی طرح ہے جس میں خوشبو نہیں ہوتی، اور کچھ بندے ایسے ہیں جن کا ظاہر قرآن پڑھنے کے سبب اچھا ہے لیکن باطن تاریک ہے، یہ قرآن پڑھنے والا منافق ہے، یہ اللہ کے نزدیک اس خوشبودار پودے کی طرح ہے جس کی خوشبو تو اچھی ہے لیکن مزہ کڑوا ہے، اور کچھ بندے ایسے ہیں جنہیں اس قرآن سے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچتا، یہ قرآن نہ پڑھنے والا منافق ہے، یہ اللہ کے نزدیک حنظلہ اندرائن(حنظل) کی طرح ہے جس میں نہ تو خوشبو ہے اور نہ ہی اس کا مزہ اچھا ہے، بلکہ کڑوا ہے۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایسے مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے اس نارنگی کی سی ہے جس کی بو بھی اچھی ہے اور جس کا ذائقہ بھی اچھا ہے اور ایسے مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اس کھجور کی طرح ہے جس کا ذائقہ اچھا ہوتا ہے لیکن اس میں بو نہیں ہوتی، اور فاجر کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے، گلدستے کی طرح ہے جس کی بو عمدہ ہوتی ہے اور اس کا مزا کڑوا ہوتا ہے، اور فاجر کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا، ایلوے کے مانند ہے، جس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے، اور اس میں کوئی بو بھی نہیں ہوتی، اور صالح دوست کی مثال مشک والے کی طرح ہے، کہ ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4829]
1) صالح متقی اور صاحبِ عمل مومن کی صحبت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اس میں دین اور دُنیا دونوں کا فائدہ ہے۔
2) فاسق و فاجر لوگوں سے دور رہنا چاہیئے کہ ان کی صحبت میں خسارہ ہی خسارہ ہے۔
3) استاذ اور خطیب کو عمدہ مثالوں سے اپنی بات واضح کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے سنترے کی سی ہے کہ اس کا مزہ بھی اچھا ہے اور بو بھی اچھی ہے، اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور کے مانند ہے کہ اس کا مزہ اچھا ہے لیکن کوئی بو نہیں ہے، اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحانہ (خوشبودار گھاس وغیرہ) کی سی ہے کہ اس کی بو اچھی ہے لیکن مزہ کڑوا ہے، اور اس منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا تھوہڑ (اندرائن) ج [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5041]
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال سنترے کی سی ہے کہ اس کا مزہ بھی اچھا ہے اور بو بھی اچھی ہے، اور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی سی ہے کہ اس کا مزہ اچھا ہے لیکن کوئی بو نہیں ہے، اور قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال ریحانہ (خوشبودار گھاس وغیرہ) کی سی ہے کہ اس کی بو اچھی ہے لیکن مزہ کڑوا ہے، اور قرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال تھوہڑ (اندرائن) جیسی ہے کہ اس کا مزہ کڑوا ہے، اور اس میں کوئی خوشبو بھی نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 214]
قرآن کی تلاوت اور اس پر عمل دونوں خوبیاں ہیں اور دونوں مطلوب ہیں۔
تلاوت ظاہری خوبی ہے جسے خوشبو سے تشبیہ دی گئی ہے اور عمل باطنی خوبی ہے کیونکہ اس میں ایمان، اخلاص، اللہ سے محبت، خشیت الہی اور تقویٰ جیسے باطنی اعمال بھی شامل ہیں، اس لیے اسے ذائقے سے تشبیہ دی گئی ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ تلاوت کو خوشبو سے اس لیے تشبیہ دی گئی ہو کہ اسے ہر خاص و عام سن لیتا ہے جب کہ عمل کا اندازہ اسی کو ہوتا ہے جس کو واسطہ پڑے جس طرح ذائقے کا علم اسی کو ہوتا ہے جو پھل کو چکھے۔
(2)
الْأُتْرُجَّة : (ترنجبین)
لیموں کے خاندان سے تعلق رکھنے والا ایک پھل ہے۔
اس کا رنگ بھی خوش کن ہوتا ہے اور ذائقہ بھی عمدہ ہوتا ہے۔
(3)
الرَّيْحَانَة: اصل میں ہر اس پودے کو کہتے ہیں جس سے خوشبو آئے، عام طور پر یہ لفظ نازبو کے لیے مستعمل ہے لیکن دوسرے خوشبودار پودوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔
(4)
منافق کا عقیدہ اور سیرت تلخ اور خراب ہوتی ہے مگر قراءت قرآن کی وجہ سے دوسروں کو فائدہ پہنچتا ہے اس لیے اس کی مثال ایسے پھول سے دی ہے جس کی خوشبو دور سے بھی محسوس ہے لیکن کھانے کے لائق ہرگز نہیں ہوتا۔