صحيح البخاري
كتاب فضائل القرآن— کتاب: قرآن کے فضائل کا بیان
بَابُ فَضْلِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ: باب: سورۃ قل ھو اللہ احد کی فضیلت کا بیان۔
وَزَادَ أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَخِي قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ ، أَنَّ رَجُلًا قَامَ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ مِنَ السَّحَرِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ لَا يَزِيدُ عَلَيْهَا ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا أَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .´اور ابومعمر ( عبداللہ بن عمرو منقری ) نے اتنا زیادہ کیا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے امام مالک بن انس نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ` مجھے میرے بھائی قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سحری کے وقت سے کھڑے «قل هو الله أحد» پڑھتے رہے ۔ ان کے سوا اور کچھ نہیں پڑھتے تھے ۔ پھر جب صبح ہوئی تو دوسرے صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ( باقی حصہ ) پچھلی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
تشریح: یہ حدیث آگے موصولا ً مذکور ہوگی اس میں یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو فوج کا سردار بنا کر بھیجا وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتا اور ہر رکعت میں قراءت ﴿ قُل ھُوَ اللہُ أَحَد﴾ پر ختم کرتا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ اس سے کہہ دو کہ اللہ پاک بھی اس سے محبت رکھتا ہے۔
دوسری روایت میں ہے کہ ﴿ قُل ھُوَ اللہُ أَحَد﴾ کی محبت نے تجھ کو جنت میں داخل کر دیا ہے۔
تیسری حدیث میں ہے جو شخص سوتے وقت سو بار ﴿ قُل ھُوَ اللہُ أَحَد﴾ کو پڑھ لیا کرے قیامت کے دن پرورد گار فرمائے گا میرے بندے! جنت میں داخل ہو جا جو تیرے داہنے طرف ہے۔
اس سورت کے تین بار پڑھ لینے سے پور ے قرآن مجید کے ختم کا ثواب مل جاتا ہے۔