صحيح البخاري
كتاب فضائل القرآن— کتاب: قرآن کے فضائل کا بیان
بَابُ فَضْلُ الْكَهْفِ: باب: سورۃ الکہف کی فضیلت کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ يَقْرَأُ سُورَةَ الْكَهْفِ ، وَإِلَى جَانِبِهِ حِصَانٌ مَرْبُوطٌ بِشَطَنَيْنِ ، فَتَغَشَّتْهُ سَحَابَةٌ ، فَجَعَلَتْ تَدْنُو وَتَدْنُو ، وَجَعَلَ فَرَسُهُ يَنْفِرُ فَلَمَّا أَصْبَحَ ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " تِلْكَ السَّكِينَةُ تَنَزَّلَتْ بِالْقُرْآنِ " .´ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہ` ایک صحابی ( اسید بن حضیر ) سورۃ الکہف پڑھ رہے تھے ۔ ان کے ایک طرف ایک گھوڑا دو رسوں سے بندھا ہوا تھا ۔ اس وقت ایک ابر اوپر سے آیا اور نزدیک سے نزدیک تر ہونے لگا ۔ ان کا گھوڑا اس کی وجہ سے بدکنے لگا ۔ پھر صبح کے وقت وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ( ابر کا ٹکڑا ) «سكينة» تھا جو قرآن کی تلاوت کی وجہ سے اترا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
پچھلے زمانے میںچند نوجوان شرک سے بیزار ہوکرتوحید کے شیدائی بن گئے تھے مگر حکومت اور عوام نے ان کا پیچھا کیا لہٰذا وہ پہاڑ کے ایک غار میں پناہ گزیں ہوگئے۔
جن کا تفصیلی واقعہ اس سورت میں موجود ہے، اس لئے اسے لفظ کہف سے موسوم کیا گیا۔
اس سورت کے بھی بہت سے فضائل ہیں ایک حدیث میں آیا ہے کہ جو مسلمان اسے ہر جمعہ کو تلاوت کرے گا اللہ اسے فتنہ دجال سے محفوظ رکھے گا۔
حدیث مذکور سے بھی اس کی بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
1۔
سکینت کا لفظ قرآن و حدیث میں کئی مرتبہ آیا ہے اس کی تاویل میں مختلف اقوال ہیں۔
لیکن ہمارے رجحان کے مطابق اس سے مراد کوئی اللہ کی مخلوق ہے جس میں اللہ کی طرف سے طمانیت و سکون ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ملائکہ رحمت بھی ہوتے ہیں۔
2۔
اس سورت کے بہت سے فضائل ہیں۔
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرے اور پڑھے گا۔
وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔
‘‘ (صحیح مسلم، صلاة المسافرین، حدیث: 1883۔
(809)
ایک دوسری روایت میں آپ نے فرمایا: ’’جو شخص جمعے کے دن اس سورت کی تلاوت کرے گا۔
تو آئندہ جمعے تک اس کے لیے ایک خاص نور کی روشنی رہے گی۔
(فتح الباري: 72/9)
سکینہ کی تشریح کتاب التفسیر میں آئے گی إن شاءاللہ۔
1۔
اس میں (سلّم)
کا لفظ کے مختلف معنی حسب ذیل ہیں۔
(ا)
اس آدمی نے سلامتی کی دعا کی اور اللہ کے حکم پر راضی ہو گیا۔
(ب)
وہ نماز پڑھ رہا تھا تو نماز سے سلام پھیر کر فارغ ہوا۔
2۔
اسی طرح کا ایک واقعہ حضرت اسید بن حضیر ؓ کو پیش آیا جبکہ وہ رات کے وقت سورہ بقرہ پڑھ رہے تھے اور ان کے پاس ان کا بیٹا یحییٰ سویا ہوا تھا ان کی سواری بدکی تو انھوں نے تلاوت چھوڑدی اور اپنے بیٹے کی دیکھا بھال میں مصروف ہو گئے۔
(صحیح البخاري، فضائل القرآن، حدیث: 1850)
ممکن ہے مذکورہ واقعہ بھی انھی سے متعلق ہو اور وہ سورہ بقرہ اور سورہ کہف اکٹھی پڑھ رہے ہوں یا کچھ حصہ سورہ بقرہ کا اور کچھ حصہ سورہ کہف کا پڑھا ہو۔
یہ بھی ممکن ہے کہ متعدد واقعات ہوں۔
3۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرآن پڑھتے وقت سکینت اور طمانیت نازل ہوتی ہے اور اللہ کی رحمت پڑھنے والے کو ڈھانپ لیتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اسے ایک غیب کی خبر سے مطلع کیا جو علامات نبوت میں سے ہے۔
واللہ أعلم۔
اس لئے یہاں بھی سکینت سے مراد فرشتے ہی ہیں۔
(راز)
1۔
ایک روایت میں ہے کہ قرآن پڑھنے کی دوران میں اس آدمی کو ایک بادل نے ڈھانپ لی جو اس کے قریب ہوتا گیا۔
اس وقت اس کا گھوڑا بدکنے لگا۔
(صحیح البخاري، فضائل القرآن، حدیث: 5011)
2۔
حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس بادل میں جو تجھے چراغ نظر آئے تھے وہ فرشتوں کی ایک جماعت تھی جو قرآن سننے کے لیے آئے تھے اور اگر تو اپنی تلاوت کو جاری رکھتا تو وہ صبح کے وقت لوگوں سے چھپ نہ سکتے بلکہ لوگ انھیں اپنی آنکھوں سے دیکھتے۔
‘‘ (صحیح البخاري، فضائل القرآن، حدیث: 5018)
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث پر ان الفاظ سے عنوان قائم کیا ہے۔
(باب نُزُولِ السَّكِينَةِ وَالْمَلائِكَةِ عِنْدَ ... قراءة القرآن)
’’تلاوت قرآن کے وقت سکینت اور فرشتوں کا نازل ہونا۔
‘‘ (صحیح البخاري، فضائل القرآن، باب: 15)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اس طرح کے کئی واقعات رونما ہوئے تھے۔
واللہ اعلم۔
شَطَنٌ: طویل اور لمبی رسی کو کہتے ہیں، جس سے گھوڑا باندھا جاتا ہے۔
فوائد ومسائل: سکینت اطمینانِ قلب اور دلی سکون کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کا نتیجہ ہے اور قرآن کی قرآءت اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سبب ہے اور اس حدیث میں اس کو ایک شکل دی گئی ہے اس لیے امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے سکینہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے جو طمانیت اور رحمت کا باعث بنتی ہےاور اس کے ساتھ فرشتے ہوتے ہیں۔