حدیث نمبر: 5002
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَا أُنْزِلَتْ سُورَةٌ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ إِلَّا أَنَا أَعْلَمُ أَيْنَ أُنْزِلَتْ ، وَلَا أُنْزِلَتْ آيَةٌ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ إِلَّا أَنَا أَعْلَمُ فِيمَ أُنْزِلَتْ ، وَلَوْ أَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنِّي بِكِتَابِ اللَّهِ تُبَلِّغُهُ الْإِبِلُ ، لَرَكِبْتُ إِلَيْهِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا ، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہا ہم سے مسلم نے بیان کیا ، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ` ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا ، اس اللہ کی قسم جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں کتاب اللہ کی جو سورت بھی نازل ہوئی ہے اس کے متعلق میں جانتا ہوں کہ کہاں نازل ہوئی اور کتاب اللہ کی جو آیت بھی نازل ہوئی اس کے متعلق میں جانتا ہوں کہ کس کے بارے میں نازل ہوئی ، اور اگر مجھے خبر ہو جائے کہ کوئی شخص مجھ سے زیادہ کتاب اللہ کا جاننے والا ہے اور اونٹ ہی اس کے پاس مجھے پہنچا سکتے ہیں ( یعنی ان کا گھر بہت دور ہے ) تب بھی میں سفر کر کے اس کے پاس جا کر اس سے اس علم کو حاصل کروں گا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 5002
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
5002. سیدنا مسروق سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں! اللہ کی کتاب کی کوئی سورت نازل نہیں ہوئی مگر میں جانتا ہوں کہ کہاں نازل ہوئی اور اللہ کی کتاب میں کوئی آیت مگر میں جانتا ہوں کہ وہ کس کے متعلق نازل ہوئی۔ اگر مجھے خبر ہو جائے کہ کوئی شخص مجھ سے زیادہ کتاب اللہ کا جاننے والا ہے اور اونٹ مجھے اس کے پاس پہنچا سکے تو اس کی طرف ضرور سفر کروں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5002]
حدیث حاشیہ: علماء اسلام نے تحصیل علم کے لئے ایسے ایسے پر مشقت سفر کئے ہیں جن کی تفصیلات سے حیرت طاری ہو جاتی ہے اس بارے میں محدثین کا مقام نہایت ارفع و اعلیٰ ہے۔
رحمهم اللہ أجمعین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5002 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5002. سیدنا مسروق سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں! اللہ کی کتاب کی کوئی سورت نازل نہیں ہوئی مگر میں جانتا ہوں کہ کہاں نازل ہوئی اور اللہ کی کتاب میں کوئی آیت مگر میں جانتا ہوں کہ وہ کس کے متعلق نازل ہوئی۔ اگر مجھے خبر ہو جائے کہ کوئی شخص مجھ سے زیادہ کتاب اللہ کا جاننے والا ہے اور اونٹ مجھے اس کے پاس پہنچا سکے تو اس کی طرف ضرور سفر کروں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5002]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت بقدر حاجت انسان اپنی تعریف خود کر سکتا ہے۔
البتہ فخر و غرور کے طور پر ایسا کرنا قابل مذمت ہے۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بات اس وقت کہی تھی جب حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سر کاری مصاحف کے علاوہ دیگر پرائیوٹ اور ذاتی مصاحف کو جلا دینے کا حکم دیا اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا مصحف ان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
ان کا یہ بھی دعوی تھا کہ عرضہ اخیرہ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ آخری دور کرنے کی قراءت جاننے والا میرے علاوہ اور کوئی نہیں ہے، اگر مجھے ایسے شخص کا علم ہوتو میں ضرور اس کے پاس جاؤں۔

بہر حال امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی قرآنی مہارت ثابت کرنے کے لیے یہ حدیث بیان کی ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5002 سے ماخوذ ہے۔