صحيح البخاري
كتاب فضائل القرآن— کتاب: قرآن کے فضائل کا بیان
بَابُ كَيْفَ نُزُولُ الْوَحْيِ وَأَوَّلُ مَا نَزَلَ: باب: وحی کیونکر اتری اور سب سے پہلے کون سی آیت نازل ہوئی تھی؟
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : " أُنْبِئْتُ أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَجَعَلَ يَتَحَدَّثُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّ سَلَمَةَ : مَنْ هَذَا ؟ أَوْ كَمَا قَالَ : قَالَتْ : هَذَا دِحْيَةُ ، فَلَمَّا قَامَ ، قَالَتْ : وَاللَّهِ مَا حَسِبْتُهُ إِلَّا إِيَّاهُ حَتَّى سَمِعْتُ خُطْبَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُ خَبَرَ جِبْرِيلَ " ، أَوْ كَمَا قَالَ : قَالَ أَبِي : قُلْتُ لِأَبِي عُثْمَانَ : مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا ؟ قَالَ : مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ .´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے ‘ کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا ‘ ان سے ابوعثمان مہدی نے بیان کیا کہ` مجھے معلوم ہوا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے لگے ۔ اس وقت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس موجود تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ جانتی ہو یہ کون ہیں ؟ یا اسی طرح کے الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے ۔ ام المؤمنین نے کہا کہ دحیہ الکلبی ہیں ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا : اللہ کی قسم ! اس وقت ( تک ) بھی میں انہیں دحیہ الکلبی سمجھتی رہی ۔ آخر جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کے آنے کی خبر سنائی تب مجھے حال معلوم ہوا یا اسی طرح کے الفاظ بیان کئے ۔ معتمر نے بیان کیا کہ میرے والد ( سلیمان ) نے کہا ‘ میں نے ابوعثمان مہدی سے کہا کہ آپ نے یہ حدیث کس سے سنی تھی ؟ انہوں نے بتایا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہا سے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
حضرت وحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت خوبصورت صحابی تھے۔
حضرت جبرئیل علیہ السلام جب آدمی کی صورت میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تو حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صورت میں تشریف لاتے تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے ایک سوار شخص کو دیکھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محو گفتگو تھا۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو انھوں نے عرض کی: آپ کس سے گفتگو فرما رہے تھے؟ آپ نے فرمایا: ’’تم اسے کس سے تشبیہ دیتی ہو؟‘‘ انھوں نے کہا: دحیہ بن خلیفہ کلبی سے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ حضرت جبرئیل علیہ السلام تھے اور مجھے بنو قریظہ کی طرف جانے کا کہہ رہے تھے۔
‘‘2۔
ان روایات سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فرشتہ وحی انسانی شکل میں ظاہر ہوا۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نےفرشتہ وحی کے آنے کی کیفیت کو بیان کیا ہے کہ وہ بعض اوقات انسانی شکل میں آتے تھے۔
واللہ اعلم۔
(فتح الباري: 8/9)
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو یہ طاقت بخشی ہے کہ وہ جس صورت میں چاہیں آسکتے ہیں۔
اس حدیث سے آنحضرت ﷺ کا رسول برحق ہونا ثابت ہوا۔
1۔
حضرت وحیہ کلبی ؓ مشہور صحابی ہیں اور بہت ہی خوبصورت اور وجیہ تھے۔
حضرت جبریل ؑ جب انسانی شکل میں آتے تو اکثراوقات حضرت وحیہ کلبی کی صورت اختیار کرتے۔
2۔
اس حدیث میں حضرت جبریل ؑ کا ذکر ہے اور وہ رسول اللہ ﷺ کو غیب کی خبریں بتایا کرتے تھے۔
اس اعتبار سے یہ حدیث نبوت کی دلیل ہے۔
(عمدة القاري: 367/11)
3۔
ابوعثمان نے اس حدیث کو صیغہ تمریض سے بیان کیا تھا،امام بخاری ؒ نے حدیث کے آخر میں وضاحت کردی کہ انھوں نے یہ حدیث حضرت اسامہ بن زید ؓ سے سنی تھی،لہذا اس میں ضعیف وغیرہ کا کوئی امکان نہیں۔
واللہ أعلم۔