صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ: {كَلاَّ لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعَنْ بِالنَّاصِيَةِ نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ} : باب: آیت کی تفسیر ”ہاں ہاں اگر یہ (کم بخت) باز نہ آیا تو ہم اسے پیشانی کے بل پکڑ کر گھسیٹیں گے جو پیشانی جھوٹ اور گناہوں میں آلودہ ہو چکی ہے“۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ : لَئِنْ رَأَيْتُ مُحَمَّدًا يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ لَأَطَأَنَّ عَلَى عُنُقِهِ ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَوْ فَعَلَهُ لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ " . تَابَعَهُ عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ .´ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ، ان سے معمر نے ، ان سے عبدالکریم جزری نے ، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا` ابوجہل نے کہا تھا کہ اگر میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ کے پاس نماز پڑھتے دیکھ لیا تو اس کی گردن میں کچل دوں گا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس نے ایسا کیا ہوتا تو اسے فرشتے پکڑ لیتے ۔ عبدالرزاق کے ساتھ اس حدیث کو عمرو بن خالد نے روایت کیا ہے ، ان سے عبیداللہ نے ، ان سے عبدالکریم نے بیان کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
وہ آپ کو ایذا دینے کے لئے چلا جب آپ کے قریب پہنچا تو یکا یک ایڑیوں کے بل جھک کر پیچھے ہٹا۔
لوگوں نے پوچھا یہ کیا معاملہ ہے تو تو کہتا تھا میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)
کی گردن کچل ڈالوں گا اب بھاگتا کیوں ہے؟ وہ کہنے لگا جب میں ان کے قریب پہنچا مجھ کو آگ کی ایک خندق اور ہولناک چیزیں پنکھ نظر آئے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا اگر وہ اور نزدیک آتا تو فرشتے اس کو اچک لیتے، اس کا ایک ایک عضو جدا کر ڈالتے (وحیدی)
کتنے لوگ ایسے بد بخت ہوتے ہیں کہ قدرت کی بہت سی نشانیاں دیکھنے کے باوجود بھی ایمان نہیں لاتے۔
ابو جہل بد بخت بھی ان ہی لوگوں میں سے تھا جو دل سے اسلام کی حقیقت جانتا اور صداقت محمدی کو مانتا تھا مگر محض قوم کی عار اور تعصب وعناد کی بنا پر مسلمان ہونے کے لئے تیار نہ ہوا۔
آگے ارشاد باری ہے ﴿وَ اسجُد وَ اقتَرِب﴾ سجده کر اور اللہ کی نزدیکی ڈھونڈھ۔
اس میں اشارہ ہے کہ سجدہ میں بندہ اللہ سے بہت نزدیک ہوتا ہے۔
اسی لئے حکم ہے کہ سجدہ میں جاؤ تب دل کھول کر اللہ سے دعائیں کرو کیونکہ سجدے کی دعائیں عموماً قبول ہوتی ہیں۔
کذا جربنا بعون اللہ تعالیٰ و حسن توفیقه۔
ابو جہل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبے میں نماز پڑھتے دیکھا تو برے ارادے سے آپ کی طرف بڑھا پھر اچانک پیچھے ہٹنے لگا۔
سردارن قریش نے جب اسے دیکھا تو انھوں نے پوچھا ابو الحکم! کیا ہوا؟ وہ گھبرا کر کہنے لگا: میرے اور محمد (صلی اللہ علیه وسلم)
کے درمیان ایک خوفناک آگ حائل ہو گئی تھی۔
جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا: ’’اگر وہ میرے پاس آتا تو فرشتے اس کا جوڑ جوڑ الگ کر دیتے۔
‘‘ (مسند أحمد: 370/2)