حدیث نمبر: 490
وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْزِلُ فِي الْمَسِيلِ الَّذِي فِي أَدْنَى مَرِّ الظَّهْرَانِ قِبَلَ الْمَدِينَةِ حِينَ يَهْبِطُ مِنَ الصَّفْرَاوَاتِ يَنْزِلُ فِي بَطْنِ ذَلِكَ الْمَسِيلِ عَنْ يَسَارِ الطَّرِيقِ وَأَنْتَ ذَاهِبٌ إِلَى مَكَّةَ لَيْسَ بَيْنَ مَنْزِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الطَّرِيقِ إِلَّا رَمْيَةٌ بِحَجَرٍ .
مولانا داود راز

´اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نافع سے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس نالے میں اترا کرتے تھے جو وادی مرالظہران کے نشیب میں ہے ۔ مدینہ کے مقابل جب کہ مقام صفراوات سے اترا جائے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس ڈھلوان کے بالکل نشیب میں قیام کرتے تھے ۔ یہ راستے کے بائیں جانب پڑتا ہے جب کوئی شخص مکہ جا رہا ہو ( جس کو اب بطن مرو کہتے ہیں ) راستے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منزل کے درمیان صرف ایک پتھر ہی کے مار کا فاصلہ ہوتا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الصلاة / حدیث: 490
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
490. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ نبی ﷺ اس وادی میں پڑاؤ کرتے جو مر الظهران کے نشیب میں مقام صفراوات سے اترتے وقت مدینے کی جانب ہے۔ آپ ﷺ اس وادی کے نشیب میں پڑاؤ کرتے جو مکہ جاتے ہوئے راستے کی بائیں جانب واقع ہے۔ آپ جہاں اترتے اس میں اور عام راستے کے درمیان ایک پتھر پھینکے کا فاصلہ ہوتا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:490]
حدیث حاشیہ:
چھٹی منزل: یہ منزل مرالظهران کے نام سے ذکر کی گئی ہے۔
وہاں کے لوگ اس مقام کو بطن مرو کہتے ہیں۔
یہ ایک وادی ہے جہاں سے مکہ مکرمہ کافاصلہ صرف 16 میل رہ جاتا ہے۔
اس جگہ جو پانی کی گزرگاہ ہے، وہاں رسول اللہ ﷺ نے قیام فرمایا تھا، نیز اس پانی کا بہاؤ مکے کی طرف نہیں، بلکہ مدینہ طیبہ کی طرف ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 490 سے ماخوذ ہے۔