صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ قَوْلُهُ تَعَالَى: {مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ} : باب: آیت کی تفسیر ”عیسیٰ نے فرمایا کہ میرے بعد ایک رسول آئے گا جس کا نام احمد ہو گا“۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ لِي أَسْمَاءً أَنَا مُحَمَّدٌ ، وَأَنَا أَحْمَدُ ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي ، وَأَنَا الْعَاقِبُ " .´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی اور ان سے زہری نے بیان کیا کہا ہم کو محمد بن جبیر بن مطعم نے خبر دی اور ان سے ان کے والد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ میرے کئی نام ہیں ۔ میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں ، میں ماحی ہوں کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کفر کو مٹا دے گا اور میں حاشر ہوں کہ اللہ تعالیٰ سب کو حشر میں میرے بعد جمع کرے گا اور میں عاقب ہوں ۔ یعنی سب پیغمبروں کے بعد دنیا میں آنے والا ہوں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
لفظ احمد کے دو معنی ہیں۔
۔
اپنے پروردگار کی بہت زیادہ حمد کرنے والا۔
۔
جس کی بندوں میں سب سے زیادہ تعریف کی گئی ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں معنوں کا مصداق ہیں اور یہ دونوں صفات آپ کی ذات اقدس میں پائی جاتی ہیں لیکن موجودہ تورات وانجیل میں یہ نام نہیں ہیں کیو نکہ ان میں تحریف کردی گئی ہے تحریف کے باوجود اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی واضح صفات اب بھی مذکور ہیں جن کے پیش نظر آپ کو پہنچانا جا سکتا ہے۔
2۔
اہل کتاب میں بعض منصف مزاج لوگ انھی صفات کی بنا پر ایمان بھی لے آئے تھے جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ مشہور ہے۔
شاہ حبشہ حضرت نجاشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اس صفات کی تصدیق کی تھی۔
واللہ اعلم۔
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی نام ہیں۔
اس حدیث میں صرف پانچ ناموں پر اکتفا کیا گیا ہے کیونکہ یہ نام پہلی کتابوں میں موجود ہیں اور پہلی امتیں ان ناموں کو جانتی ہیں۔
پھر عدد کے مفہوم کا اعتبار نہیں ہوتا کیونکہ ایک عدد اپنے سے زیادہ عدد کی نفی نہیں کرتا۔
2۔
آخری نام عاقب ہے۔
اس کی تفسیر اس طرح کی گئی ہے کہ آپ کے بعد کوئی نیا پیغمبر نہیں آئے گا،گویا آپ تمام انبیائے کرام ؑ کے بعد تشریف لائے ہیں،چنانچہ آپ کے بعد جو شخص بھی نبوت کادعویٰ کرے وہ جھوٹا دجال ہے۔
3۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے شمار اسمائے گرامی قرآن میں مذکور ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے نناوے ناموں کے مقابلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نناوے ناموں کی کھوج لگانا محل نظر ہے۔
بدعتی حضرات نے آپ کی طرف چند ایسے نام منسوب کررکھے ہیں جن میں انتہائی غلو پایا جاتا ہے،جیسے: اسے عرش الٰہی کی قندیل!اس طرح کے اسلوب وانداز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
احمد: سب سے زیادہ تعریف کرنے والا، ان دونوں چیزوں میں آپ کا کوئی ثانی نہیں ہے۔
جس کی تعریف خود اللہ تعالیٰ فرمائے، اس کے محمد ہونے میں کیا شبہ اور جس کو حمد خود اللہ تعالیٰ سکھائے، اس کے احمد ہونے میں کیا شک۔
الماحی: مٹانے والا، جس کے ذریعہ کفر کے دلائل و براہین کا قلع قمع کر دیا گیا، دلیل و براہین کی رو سے وہ مٹ گیا۔
الحاشر: اکٹھا کرنے والا، جس کے پیچھے پیچھے لوگ میدان محشر میں جمع کیے جائیں گے، گویا آپ کی نبوت شریعت آخری ہے، قیامت اور آپ کے درمیان کوئی اور نبوت و شریعت نہیں ہو گی۔
عاقب: پیچھے آنے والا، کیونکہ آپ تمام انبیاء کے بعد آئے ہیں۔
پہلی کتابوں میں آپ کا نام احمد تھا اور قرآن میں محمد ہے۔
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میرے کئی نام ہیں: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں وہ ماحی ہوں جس کے ذریعہ اللہ کفر کو مٹاتا ہے، میں وہ حاشر ہوں جس کے قدموں پر لوگ جمع کیے جائیں گے ۱؎ میں وہ عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہ پیدا ہو گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2840]
وضاحت:
1؎:
یعنی میدان حشرمیں لوگ میرے پیچھے ہوں گے۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند ناموں کا ذکر ہے بعض لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی ننانوے نام بنا رکھے ہیں، حالانکہ ان میں سے کئی نام ایسے ہیں جن کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، اور نہ ہی ان ناموں کو یاد کرنے کی کوئی فضیلت ثابت ہے، نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔