مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 4893
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّبَيْرَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ سورة الممتحنة آية 12 ، قَالَ : " إِنَّمَا هُوَ شَرْطٌ شَرَطَهُ اللَّهُ لِلنِّسَاءِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے میرے والد نے بیان کیا ، انہوں نے بیان کیا کہ` میں نے زبیر سے سنا ، انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «ولا يعصينك في معروف‏» یعنی ” اور بھلی باتوں ( اور اچھے کاموں میں ) آپ کی نافرمانی نہ کریں گی ۔ “ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ بھی ایک شرط تھی جسے اللہ تعالیٰ نے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کے وقت ) عورتوں کے لیے ضروری قرار دیا تھا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4893
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
4893. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے آیت کریمہ ’’مشروع باتوں میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔‘‘ کی تفسیر میں فرمایا کہ یہ ایک شرط ہے جو اللہ تعالٰی نے عورتوں پر عائد کی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4893]
حدیث حاشیہ: اس حدیث میں معلوم ہوا کہ عورتیں بھی اچھائی کے کاموں اور نیک عملوں کے کرنے پر بیعت کر سکتی ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4893 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4893. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے آیت کریمہ ’’مشروع باتوں میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔‘‘ کی تفسیر میں فرمایا کہ یہ ایک شرط ہے جو اللہ تعالٰی نے عورتوں پر عائد کی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4893]
حدیث حاشیہ:

مذکورہ شرط عورتوں سے خاص نہیں بلکہ مرد حضرات بھی اس شرط میں داخل ہیں جیسا کہ اکثر احکام شریعت مردوں کے اعتبار سے مشروع ہیں لیکن اس میں عورتیں بھی شامل ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط بیعت عقبہ میں انصار پربھی لگائی تھی جیسا کہ آئندہ حدیث میں اس کی صراحت ہے۔
اس شرط کی وضاحت ہم آئندہ کریں گے۔
باذن اللہ تعالیٰ۔

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے: معروف معاملات میں آپ کی نافرمانی نہ کریں یہ تمام باتیں عورتوں کے ساتھ خاص ہیں اس میں مرد شامل نہیں۔
(فتح الباري: 815/8)
لیکن ہمارے رجحان کے مطابق پہلا مفہوم زیادہ واضح ہے۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4893 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔