صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ: {إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ} : باب: آیت کی تفسیر ”(اے رسول!) جب ایمان والی عورتیں آپ کے پاس آئیں تاکہ وہ آپ سے بیعت کریں“۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّبَيْرَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ سورة الممتحنة آية 12 ، قَالَ : " إِنَّمَا هُوَ شَرْطٌ شَرَطَهُ اللَّهُ لِلنِّسَاءِ " .´ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے میرے والد نے بیان کیا ، انہوں نے بیان کیا کہ` میں نے زبیر سے سنا ، انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «ولا يعصينك في معروف» یعنی ” اور بھلی باتوں ( اور اچھے کاموں میں ) آپ کی نافرمانی نہ کریں گی ۔ “ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ بھی ایک شرط تھی جسے اللہ تعالیٰ نے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کے وقت ) عورتوں کے لیے ضروری قرار دیا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
مذکورہ شرط عورتوں سے خاص نہیں بلکہ مرد حضرات بھی اس شرط میں داخل ہیں جیسا کہ اکثر احکام شریعت مردوں کے اعتبار سے مشروع ہیں لیکن اس میں عورتیں بھی شامل ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط بیعت عقبہ میں انصار پربھی لگائی تھی جیسا کہ آئندہ حدیث میں اس کی صراحت ہے۔
اس شرط کی وضاحت ہم آئندہ کریں گے۔
باذن اللہ تعالیٰ۔
2۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے: معروف معاملات میں آپ کی نافرمانی نہ کریں یہ تمام باتیں عورتوں کے ساتھ خاص ہیں اس میں مرد شامل نہیں۔
(فتح الباري: 815/8)
لیکن ہمارے رجحان کے مطابق پہلا مفہوم زیادہ واضح ہے۔
واللہ اعلم۔