صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ قَوْلِهِ: {وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ} الآيَةَ: باب: آیت کی تفسیر ”اور اپنے سے مقدم رکھتے ہیں“ آخرت آیت تک۔
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصَابَنِي الْجَهْدُ ، فَأَرْسَلَ إِلَى نِسَائِهِ ، فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَهُنَّ شَيْئًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا رَجُلٌ يُضَيِّفُهُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ " ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ : ضَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَدَّخِرِيهِ شَيْئًا ، قَالَتْ : وَاللَّهِ مَا عِنْدِي إِلَّا قُوتُ الصِّبْيَةِ ، قَالَ : فَإِذَا أَرَادَ الصِّبْيَةُ الْعَشَاءَ فَنَوِّمِيهِمْ وَتَعَالَيْ ، فَأَطْفِئِي السِّرَاجَ ، وَنَطْوِي بُطُونَنَا اللَّيْلَةَ ، فَفَعَلَتْ ، ثُمَّ غَدَا الرَّجُلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَقَدْ عَجِبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ ضَحِكَ مِنْ فُلَانٍ وَفُلَانَةَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ سورة الحشر آية 9 " .´مجھ سے یعقوب بن ابراہیم بن کثیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اسامہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے فضیل بن غزوان نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم اشجعی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صاحب خود ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں فاقہ سے ہوں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ازواج مطہرات کے پاس بھیجا ( کہ وہ آپ کی دعوت کریں ) لیکن ان کے پاس کوئی چیز کھانے کی نہیں تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا کوئی شخص ایسا نہیں جو آج رات اس مہمان کی میزبانی کرے ؟ اللہ اس پر رحم کرے گا ۔ اس پر ایک انصاری صحابی ( ابوطلحہ ) کھڑے ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ آج میرے مہمان ہیں پھر وہ انہیں اپنے ساتھ گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان ہیں ، کوئی چیز ان سے بچا کے نہ رکھنا ۔ بیوی نے کہا اللہ کی قسم میرے پاس اس وقت بچوں کے کھانے کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے ۔ انصاری صحابی نے کہا اگر بچے کھانا مانگیں تو انہیں سلا دو اور آؤ یہ چراغ بھی بجھا دو ، آج رات ہم بھوکے ہی رہ لیں گے ۔ بیوی نے ایسا ہی کیا ۔ پھر وہ انصاری صحابی صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں ( انصاری صحابی ) اور ان کی بیوی ( کے عمل ) کو پسند فرمایا ۔ یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) اللہ تعالیٰ مسکرایا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة» یعنی اور اپنے سے مقدم رکھتے ہیں اگرچہ خود فاقہ میں ہی ہوں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
صفات الہیہ کو بغیر تاویل کے تسلیم کرنا ضروری ہے۔
سلف صالحین کا یہی طریقہ ہے۔
ایمان کے سلامتی اسی میں ہے کہ صرف مسلک سلف کا اتباع کیا جائے اور بس۔
انصار کی مہاجرین کے بارے میں ایثار اور ہمدردی لازوال، باکمال اور بے مثال تھی۔
اس کے متعلق درج ذیل خوبصورت واقعہ بھی درج کیا جاتا ہے: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ طیبہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان بھائی چارا کرا دیا۔
حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت دولت مند تھے۔
انھوں نے حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: انصار کو معلوم ہے کہ میں ان سے سب سے زیادہ مال دار ہوں، اب میں اپنا آدھا مال اپنے اور آپ کے درمیان بانٹ دینا چاہتا ہوں اور میری دو بیویاں ہیں، ان میں سے جو آپ کو پسند ہو میں اسے طلاق دے دوں گا۔
اس کی عدت گزر جانے کے بعد آپ اس سے نکاح کرلیں۔
(صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3781)
کیا اس قسم کا ایثار دنیا کی تاریخ میں ملتاہے؟!