صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ قَوْلِهِ: {وَمِنْ دُونِهِمَا جَنَّتَانِ} : باب: آیت کی تفسیر ”اور ان باغوں سے کم درجہ میں دو اور باغ بھی ہیں“۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ،عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا ، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا ، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ " .´ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن عبدالصمد العمی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعمران الجونی نے بیان کیا ، ان سے ابوبکر بن عبداللہ بن قیس نے اور ان سے ان کے والد ( عبداللہ بن قیس ابوموسیٰ اشعری ) نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( جنت میں ) دو باغ ہوں گے جن کے برتن اور تمام دوسری چیزیں چاندی کی ہوں گی اور دو دوسرے باغ ہوں گے جن کے برتن اور تمام دوسری چیزیں سونے کے ہوں گے اور جنت عدن سے جنتیوں کے اپنے رب کے دیدار میں کوئی چیز سوائے کبریائی کی چادر کے جو اس کے منہ پر ہو گی ، حائل نہ ہو گی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . قَالَ:" جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (جنت میں) دو باغ ہوں گے جن کے برتن اور تمام دوسری چیزیں چاندی کی ہوں گی اور دو دوسرے باغ ہوں گے جن کے برتن اور تمام دوسری چیزیں سونے کے ہوں گے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/بَابُ قَوْلِهِ: {وَمِنْ دُونِهِمَا جَنَّتَانِ: 4878]
[113۔ البخاري فى: 65 كتاب التفسير: 1 باب قوله ”ومن دونهما جنتان“ 4878 مسلم 180]
لغوی توضیح:
«جَنَّتَان» کی واحد «جَنَّة» ہے، معنی ہے باغ۔
«آنِيَتُهُمَا» ان کے برتن۔
«رِدَاء» چادر۔
آمین۔
1۔
اس حدیث میں باغات کی اقسام بیان کی گئی ہیں کہ دو باغ تو اعلیٰ قسم کے ہوں گے اور دو باغ ان سے کچھ کم درجے کے ہوں گے۔
یہ اقسام اہل جنت کے درجات کےفرق کی بنیاد پر ہیں۔
مقربین اور سابقین کے لیے سونے کے دو باغ اور عام اہل ایمان کے لیے چاندی دو باغ ہوں گے۔
2۔
روئیت باری، یعنی اللہ تعالیٰ کے دیدار کے متعلق بحث کتاب التوحید میں آئے گی، إن شاء اللہ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قیامت کے دن جنت میں اپنا دیدار نصیب فرمائے۔
آمین یارب العالمین۔
یہ بھی معلوم ہو کہ جنت عدن تمام حجابوں کے پرے ہے۔
جنت العدن میں جب آدمی پہنچ گیا تواس نےسارے حجابوں کوطے کرلیا۔
اللہ پاک ہم سب کو ہمارے ماں باپ آل واولاد اور تمام قارئیں بخاری شریف کو جنت العدن کا داخلہ نصیب کرے آمین یارب العالمین۔
1۔
ایک حدیث میں ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہمیں جنت کے متعلق بتائیں وہ کس چیز سے بنائی گئی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس کی کچھ اینٹیں سونے کی اور کچھ چاندی کی ہیں۔
اس کا گارا بہترین کستوری کا، اس کی کنکریاں قیمتی جواہرات اور اس کی مٹی زعفران کی ہے‘‘ (جامع الترمذي، صفة الجنة، حدیث: 2526)
یہ حدیث پیش کردہ حدیث کے بظاہر معارض ہے۔
اس کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ پہلی حدیث میں جنت کے برتنوں وغیرہ کا ذکر ہے جبکہ دوسری حدیث میں اس کی تعمیر اور دیواروں کا بیان ہے۔
(فتح الباري: 533/13)
2۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے چہرے کے آگے کبریائی کی چادر ہے۔
وہ جب چاہے گا کہ اپنے بندوں کو دیدار سے مشرف کرے اس چادر کو منہ سے ہٹا دے گا، پھر اہل جنت اپنے رب سے محودیدار ہوں گے، جبکہ بعض عقل پرست حضرات ان نورانی پردوں کا انکار کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کبریائی کی چادر متشابہات میں سے ہے کیونکہ درحقیقت وہاں نہ کوئی چادر ہے اور نہ کوئی چہرہ ہی اس لیے اس کی حقیقت کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا جائے یا وجه کی تاویل ذات سے کی جائے رداء يعنی چادر اس ذات کی صفت ہے جو مخلوقات کی مشابہت سے پاک صاف ہے۔
(فتح الباري: 534/13)
لیکن یہ تفویض یا تاویل ظاہر نصوص کے خلاف ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام اہل عرب سے زیادہ فصیح تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو ظاہر مفہوم سے پھیر کر کوئی دوسرا معنی لینا فصاحت وبلاغت کے خلاف ہے۔
پھر ظاہر مفہوم سے ہٹ کر کوئی دوسرامفہوم مراد لینے کی دلیل چاہیے، جبکہ ہمارے اسلاف نے اسے ظاہر معنی پر محمول کیا جائے اور اسے مبنی برحقیقت تسلیم کیا ہے۔
(شرح کتاب التوحید للغنیمان: 161/2)
واضح رہے کہ جنت عدن میں اللہ تعالیٰ کا دیدار بہت قریب سے ہوگا۔
صرف نورانی پردے ہٹانے سے اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوسکے گا۔
واللہ أعلم۔
صحابہ کرامؓ اور سلف امت کے نزدیک، آخرت میں مومنوں کو اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا۔
اللہ تعالیٰ اپنے چہرے سے عظمت وکبریائی کا پردہ اٹھائے گا، متکلمین کی طرح اسمیں کسی قسم کی تاویل کی ضرورت نہیں ہے۔
کہ وہ کسی جہت یا مکان میں نہیں ہوگا، اس طرح سے وجہ سے مراد ذات ہے درست نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا اور وہ اوپر ہوگا، قرآن وحدیث دونوں سے دیدار الہٰی ثابت ہے، معتزلہ، خوارج اور بعض مرجئہ نے رویت کا انکار کیا ہے، اور انکار میں وہی چیزیں پیش کی ہیں (جن)
کی متکلمین نے بلاوجہ تاویل کی ہے۔
وہ کہتے ہیں: نہ اس کا جسم ہے، نہ اس کا کوئی رنگ ہے، نہ کوئی مکان اورجہت ہے، پھر اس کو کیسے دیکھا جا سکتا ہے۔
اورمتکلمین بھی اس انکار میں ان کے ہمنوا ہیں اور کہتے ہیں: جس طرح وہ مخلوق کو ان چیزوں سے پاک ہونے کے باوجود دیکھتا ہے اس طرح مخلوق بھی اس کو دیکھے گی۔
صحابہ کرامؓ، سلف امت اور محدثینؒ کے نزدیک اللہ تعالیٰ عرش پر ہے، اس کے لیے جہت علو اور فوقیت ثابت ہے، اور اس کی آنکھیں، چہرہ، ہاتھ وغیرہ جس کا احادیث میں تذکرہ آیا ہے موجود ہیں، لیکن مخلوق کے لیے یہ چیزیں ان کی حیثیت اورشان کے مطابق ہیں، اورخالق کے لیے اس کے شایان شان ہیں، جس طرح وہ اپنی ذات صفات میں بے مثال ہے، اس طرح ان چیزوں میں بھی بے مثال ہے۔
جس طرح اس کی حقیقت وماہیت کو نہیں جانا جا سکتا، اس طرح ان چیزوں کی حقیقت وماہیت اور کیفیت کو نہیں جاتا سکتا۔
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جنت میں ایسے کمرے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا۔“ ایک دیہاتی نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کن لوگوں کے لیے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ” یہ اس کے لیے ہوں گے جو اچھی گفتگو کرے، کھانا کھلائے، پابندی سے روزے رکھے اور جب لوگ سو رہے ہوں تو اللہ کی رضا کے لیے رات میں نماز پڑھے۔“ [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة/حدیث: 2527]
نوٹ:
(دیکھیے: مذکورہ حدیث کے تحت اس پر بحث)
ابوموسیٰ اشعری (عبداللہ بن قیس) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور ساری چیزیں چاندی کی ہیں، اور دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور ان کی ساری چیزیں سونے کی ہیں، جنت عدن میں لوگوں کے اور ان کے رب کے دیدار کے درمیان صرف اس کے چہرے پہ پڑی کبریائی کی چادر ہو گی جو دیدار سے مانع ہو گی “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 186]
اس حدیث میں دیدار الہی کا اثبات ہے۔
(2)
اہل جنت جب جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ کی زیارت ہو سکے گی۔
صرف اللہ تعالیٰ کی کبریائی کی چادر دیدار سے مانع ہو گی۔
جب اللہ تعالیٰ اپنی رحمت و فضل کا اظہار کرے گا تو وہ مانع دور اور دیدار کا شرف حاصل ہو جائے گا۔
(3)
اللہ تعالیٰ کے چہرہ اقدس پر کبریائی کی چادر ہو گی۔
اس امر کو یوں ہی تسلیم کرنا ہو گا، تاویل کی ضرورت نہیں، ورنہ انکار لازم آئے گا۔
(4)
جنت کی نعمتیں بے شمار اور بے مثال ہیں۔
قرآن و حدیث میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ صرف اس حد تک ہے جس قدر انسان سمجھ سکیں۔
جنت کی چاندی اور سونا بھی دنیا کی چاندی اور سونے کی طرح نہیں، بلکہ اس قدر عمدہ اور اعلیٰ ہے کہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
(5)
ان جنتوں کی چیزیں سونے چاندی کی ہوں گی، مثلا: برتن، پلنگ، تخت، اور درخت وغیرہ۔
واللہ أعلم.