صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ: {لاَ تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ} الآيَةَ: باب: آیت کی تفسیر ”اے ایمان والو! نبی کی آواز سے اپنی آوازوں کو اونچا نہ کیا کرو“۔
حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ جَمِيلٍ اللَّخْمِيُّ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : كَادَ الْخَيِّرَانِ أَنْ يَهْلِكَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَفَعَا أَصْوَاتَهُمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حِينَ قَدِمَ عَلَيْهِ رَكْبُ بَنِي تَمِيمٍ ، فَأَشَارَ أَحَدُهُمَا بِالْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ أَخِي بَنِي مُجَاشِعٍ ، وَأَشَارَ الْآخَرُ بِرَجُلٍ آخَرَ ، قَالَ نَافِعٌ : لَا أَحْفَظُ اسْمَهُ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ : مَا أَرَدْتَ إِلَّا خِلَافِي ، قَالَ : مَا أَرَدْتُ خِلَافَكَ ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فِي ذَلِكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ :يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ سورة الحجرات آية 2 الْآيَةَ ، قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ : فَمَا كَانَ عُمَرُ يُسْمِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ حَتَّى يَسْتَفْهِمَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ ذَلِكَ عَنْ أَبِيهِ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ .´ہم سے یسرہ بن صفوان بن جمیل لخمی نے بیان کیا ، کہا ہم سے نافع بن عمر نے ، ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ` قریب تھا کہ وہ سب سے بہتر افراد تباہ ہو جائیں یعنی ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما ان دونوں حضرات نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند کر دی تھی ۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب بنی تمیم کے سوار آئے تھے ( اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے درخواست کی کہ ہمارا کوئی امیر بنا دیں ) ان میں سے ایک ( عمر رضی اللہ عنہ ) نے مجاشع کے اقرع بن حابس کے انتخاب کے لیے کہا تھا اور دوسرے ( ابوبکر رضی اللہ عنہ ) نے ایک دوسرے کا نام پیش کیا تھا ۔ نافع نے کہا کہ ان کا نام مجھے یاد نہیں ۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کا ارادہ مجھ سے اختلاف کرنا ہی ہے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرا ارادہ آپ سے اختلاف کرنا نہیں ہے ۔ اس پر ان دونوں کی آواز بلند ہو گئی ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتكم» ” اے ایمان والو ! اپنی آواز کو نبی کی آواز سے بلند نہ کیا کرو “ الخ ۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اتنی آہستہ آہستہ بات کرتے کہ آپ صاف سن بھی نہ سکتے تھے اور دوبارہ پوچھنا پڑتا تھا ۔ انہوں نے اپنے نانا یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق اس سلسلے میں کوئی چیز بیان نہیں کی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس 9ہجری میں بنو تمیم کا ایک وفد آیا اور آپ سے درخواست کی کہ آپ ان کا کوئی سردار مقررفرما دیں۔
ابھی آپ خاموش تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اقرع بن حابس کا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قعقاع بن معبد کے امیر بنانے کا مشورہ دیا۔
اس دوران میں دونوں حضرات کی آوازیں بلند ہوگئیں تو مذکورہ آیت نازل ہوئی۔
2۔
ایک روایت میں ہے کہ آیت کے نازل ہونے کےبعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرتے تو گویا ایک راز داں کی طرح بات کرتے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سےپوچھنے کی ضرورت پڑتی۔
(صحیح البخاري، الاعتصام بالکتاب والسنه، حدیث: 7302)
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق لکھا ہے کہ آپ نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے قسم اٹھائی ہے کہ آئندہ ایک رازداں کی طرح آپ سے گفتگو کروں گا۔
(فتح الباري: 752/8)
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا قائم کیا ہوا عنوان کئی اجزا پر مشتمل ہے۔
ان میں سے ایک ’’بلاوجہ جھگڑا کرنا‘‘ ہے چنانچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حدیث میں مذکور جھگڑا اور اختلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اقرع بن حابس کو امیر بنانے کا مشورہ دیا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ قعقاع بن معبد کو امیر بنایا جائے۔
اس دوران میں ان دونوں بزرگوں کی آوازیں بلند ہوئیں تو فرشتہ وحی خدمت میں آیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیات نازل ہوئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کسی کو از خود مشورہ دینے کی اجازت نہیں اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اونچی آواز سے گفتگو کرنا ہی درست ہے۔
بہر حال یہ حدیث اپنے عنوان سے اس طرح مطابقت رکھتی ہے کہ اس میں تنازع کا ذکر ہے کیونکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بات پر جھگڑ رہے تھے کہ اقرع بن حابس اور قعقاع بن معبد بن زراہ میں سے کس کو امیر بنایا جائے۔