صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ: {إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ} : باب: آیت کی تفسیر ”وہ وقت یاد کرو جب کہ وہ درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے“۔
حدیث نمبر: 4842
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيَّ فِي الْبَوْلِ فِي الْمُغْتَسَلِ يَأْخُذُ مِنْهُ الْوَسْوَاسُ .مولانا داود راز
´اور عقبہ بن صہبان نے بیان کیا کہ` میں نے عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ سے غسل خانہ میں پیشاب کرنے کے متعلق سنا ۔ یعنی یہ کہ آپ نے اس سے منع فرمایا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4842. حضرت عقبہ بن صہبان سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی ؓ سے غسل خانے میں پیشاب کرنے (سے ممانعت) والی روایت سنی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4842]
حدیث حاشیہ:
پہلی حدیث میں صراحت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان لوگوں سے ہیں جنھوں نے بیعت رضوان کی تھی۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا اس حدیث کو بیان کرنے سے یہی مقصود ہے۔
دوسری حدیث پیش کرنے سے مقصود یہ ہے کہ حضرت عقبہ بن صہبان کا حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سماع ثابت کیا جائے، چنانچہ اس میں اس کی صراحت ہے۔
پہلی حدیث میں صراحت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان لوگوں سے ہیں جنھوں نے بیعت رضوان کی تھی۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا اس حدیث کو بیان کرنے سے یہی مقصود ہے۔
دوسری حدیث پیش کرنے سے مقصود یہ ہے کہ حضرت عقبہ بن صہبان کا حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سماع ثابت کیا جائے، چنانچہ اس میں اس کی صراحت ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4842 سے ماخوذ ہے۔