صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ قَوْلِهِ: {وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ} : باب: آیت کی تفسیر میں ”اور نہ میں تکلف کرنے والوں سے ہوں“۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ عَلِمَ شَيْئًا فَلْيَقُلْ بِهِ ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ ، فَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ أَنْ ، يَقُولَ : لِمَا لَا يَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ سورة ص آية 86 ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ الدُّخَانِ ، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا قُرَيْشًا إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَأَبْطَئُوا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ " ، فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ ، فَحَصَّتْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْمَيْتَةَ وَالْجُلُودَ حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ يَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ دُخَانًا مِنَ الْجُوعِ ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ { 10 } يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ { 11 } سورة الدخان آية 10-11 ، قَالَ فَدَعَوْا : رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ { 12 } أَنَّى لَهُمُ الذِّكْرَى وَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مُبِينٌ { 13 } ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَقَالُوا مُعَلَّمٌ مَجْنُونٌ { 14 } إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ { 15 } سورة الدخان آية 12-15 ، أَفَيُكْشَفُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : فَكُشِفَ ، ثُمَّ عَادُوا فِي كُفْرِهِمْ ، فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ يَوْمَ بَدْرٍ ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ سورة الدخان آية 16 .´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابوالضحیٰ نے ، ان سے مسروق نے کہ` ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے کہا : اے لوگو ! جس شخص کو کسی چیز کا علم ہو تو وہ اسے بیان کرے اگر علم نہ ہو تو کہے کہ اللہ ہی کو زیادہ علم ہے کیونکہ یہ بھی علم ہی ہے کہ جو چیز نہ جانتا ہو اس کے متعلق کہہ دے کہ اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کہہ دیا تھا «قل ما أسألكم عليه من أجر وما أنا من المتكلفين» کہ ” آپ کہہ دیجئیے کہ میں تم سے اس قرآن یا تبلیغ وحی پر کوئی اجرت نہیں چاہتا ہوں اور نہ میں بناوٹ کرنے والا ہوں ۔ “ اور میں «دخان» ( دھوئیں ) کے بارے میں بتاؤں گا ( جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے تاخیر کی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں بددعا کی «اللهم أعني عليهم بسبع كسبع يوسف» ” اے اللہ ! ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانہ کی سی قحط سالی کے ذریعہ میری مدد کر ۔ “ چنانچہ قحط پڑا اور اتنا زبردست کہ ہر چیز ختم ہو گئی اور لوگ مردار اور چمڑے کھانے پر مجبور ہو گئے ۔ بھوک کی شدت کی وجہ سے یہ حال تھا کہ آسمان کی طرف دھواں ہی دھواں نظر آتا ۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين * يغشى الناس هذا عذاب أليم» کہ ” پس انتظار کرو اس دن کا جب آسمان کھلا ہوا دھواں لائے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا یہ درد ناک عذاب ہے ۔ “ بیان کیا کہ پھر قریش دعا کرنے لگے «ربنا اكشف عنا العذاب إنا مؤمنون * أنى لهم الذكرى وقد جاءهم رسول مبين * ثم تولوا عنه وقالوا معلم مجنون * إنا كاشفو العذاب قليلا إنكم عائدون» کہ ” اے ہمارے رب ! اس عذاب کو ہم سے ہٹا لے تو ہم ایمان لائیں گے لیکن وہ نصیحت سننے والے کہاں ہیں ان کے پاس تو رسول صاف معجزات و دلائل کے ساتھ آ چکا اور وہ اس سے منہ موڑ چکے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ اسے تو سکھایا جا رہا ہے ، یہ مجنون ہے ، بیشک ہم تھوڑے دنوں کے لیے ان سے عذاب ہٹا لیں گے یقیناً تم پھر کفر ہی کی طرف لوٹ جاؤ گے کیا قیامت میں بھی عذاب ہٹایا جائے گا ۔ “ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر یہ عذاب تو ان سے دور کر دیا گیا لیکن جب وہ دوبارہ کفر میں مبتلا ہو گئے تو جنگ بدر میں اللہ نے انہیں پکڑا ۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں اسی طرف اشارہ ہے «يوم نبطش البطشة الكبرى إنا منتقمون» کہ ” جس دن ہم سخت پکڑ کریں گے ، بلاشبہ ہم بدلہ لینے والے ہیں ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وضاحت کا پس منظر کچھ اس طرح ہے کہ ایک شخص نے قبیلہ کنندہ میں حدیث بیان کرتے ہوئے کہا: قیامت کے دن ایک دھواں اٹھے گا جو منافقین کی قوت بصارت وسماعت کو ختم کردے گا لیکن مومن پر اس کا اثر صرف زکام جیسا ہوگا۔
مسروق کہتے ہیں کہ ہم اس کی یہ بات سن کر بہت گھبرائے اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے یہ وضاحت فرمائی۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4774)
2۔
کیا قیامت کا عذاب بھی ان سے دور کیا جائے گا؟ یہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے۔
مقصد یہ ہے کہ اس سے مراد قیامت کا عذاب نہیں بلکہ دنیا میں سزا کا بیان ہے۔
قیامت کے عذاب میں تخفیف ممکن نہیں بلکہ وہاں تو ان کی سخت پکڑ ہوگی اور کوئی چیز بھی انھیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتے گی۔
3۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا اس حدیث سے مقصد یہ ہے کہ عام معاملات زندگی میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکلف سے منع فرمایا ہے، چنانچہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھے کہ آپ نے فرمایا: ہمیں تکلفات سے منع کیا گیا ہے۔
(صحیح البخاري، الاعتصام بالکتاب و السنة، حدیث: 7293)
اس سے معلوم ہوا کہ لباس، خوراک، رہائش اور دیگر معاملات زندگی میں تکلف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
اسلام میں سادگی اور بے تکلفی اختیار کرنے کی تلقین وترغیب ہے۔
لیکن آج کل میعار زندگی بلند کرنے کے لیے تکلف اصحاب حیثیت لوگوں کا شعار اور وتیرہ بن چکا ہے۔
واللہ المستعان۔
حضور اکرم ﷺ مکہ میں تشریف رکھتے تھے۔
قحط کی شدت کا یہ عالم تھا کہ قحط زدہ علاقے ویرانے بن گئے تھے۔
ابو سفیان نے اسلام کی اخلاقی تعلیمات اور صلہ رحمی کا واسطہ دے کر رحم کی درخواست کی۔
حضور اکرم ﷺ نے پھر دعا فرمائی اور قحط ختم ہوا یہ حدیث امام بخاری ؒ استسقاء میں اس لیے لائے کہ جیسے مسلمانوں کے لیے بارش کی دعا کرنا مسنون ہے، اسی طرح کافروں پر قحط کی بد دعا کرنا جائز ہے۔
روایت میں جن مسلمان مظلوموں کا ذکر ہے یہ سب کافروں کی قید میں تھے۔
آپ کی دعا کی برکت سے اللہ نے ان کو چھوڑا دیا اور وہ مدینہ میں آپ کے پاس آگئے۔
سات سال تک حضرت یوسف ؑ کے زمانے میں قحط پڑا تھا جس کا ذکر قرآن شریف میں ہے۔
غفار اور اسلم یہ دو قومیں مدینہ کے ارد گرد رہتی تھیں۔
غفار قدیم سے مسلمان تھے اور اسلم نے آپ سے صلح کر لی تھی۔
پوری آیت کا ترجمہ یہ ہے’’اس دن کا منتظر رہ جس دن آسمان کھلا ہوا دھواں لے کر آئے گا جو لوگوں کو گھیر ے گا۔
یہی تکلیف کا عذاب ہے اس وقت لوگ کہیں گے مالک ہمارے!یہ عذاب ہم پرسے اٹھا دے ہم ایمان لاتے ہیں‘‘ آخرتک۔
یہاں سورۃ دخان میں بطش اور دخان کا ذکر ہے۔
اور سورۃ فرقان میں: ﴿فسوف یکون لزاما﴾ (الفرقان: 77)
لزام یعنی کافروں کے لیے قید ہونے کا ذکر ہے۔
یہ تینوں باتیں آپ کے عہد میں ہی پوری ہوگئی تھیں۔
دخان سے مراد قحط تھا جو اہل مکہ پر نازل ہوا جس میں بھوک کی وجہ سے آسمان دھواں نظر آتا تھا اور (بطشة الکبری) (بڑی پکڑ)
سے کافروں کا جنگ بدر میں مارا جانا مراد ہے اور لزام ان کا قید ہونا۔
سورۃ روم کی آیت میں یہ بیان تھا کہ رومی کافر ایرانیوں سے مغلوب ہوگئے لیکن چند سال میں رومی پھر غالب ہو جائیں گے۔
یہ بھی ہو چکا۔
آئندہ حدیث میں شعر (ستسقي الغمام الخ)
ابو طالب کے ایک طویل قصیدے کا ہے جو قصیدہ ایک سودس (110)
اشعار پر مشتمل ہے جسے ابو طالب نے آنحضرت ﷺ کی شان میں کہا تھا۔
(1)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے جن چار چیزوں کے وقوع پذیر ہونے کا ذکر فرمایا ہے ان کی تفصیل حسب ذیل ہے: ٭ ﴿الم ﴿١﴾ غُلِبَتِ الرُّومُ ﴿٢﴾ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُم مِّن بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ ﴿٣﴾)
’’الم۔
رومی مغلوب ہو گئے، قریبی زمین میں، تاہم وہ مغلوب ہونے کے بعد پھر غالب آ جائیں گے۔
‘‘ (الروم1: 30۔
3)
اس کے متعلق مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ واقعہ گزر چکا ہے۔
٭ ﴿فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ ﴿١٠﴾)
’’آپ اس دن کا انتظار کریں جب آسمان سے صاف دھواں ظاہر ہو گا۔
‘‘ (الدخان: 10: 44)
جمہور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ دھواں علامات قیامت سے ہے جبکہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد حقیقی دھواں نہیں بلکہ وہ ہے جو قریش کو قحط کے زمانے میں بھوک کی وجہ سے محسوس ہوتا تھا۔
٭ ﴿يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَىٰ﴾ ’’جس دن ہم بڑی سخت گرفت کریں گے۔
‘‘ (الدخان: 16: 44)
جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے مراد قیامت کا دن ہے جبکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے نزدیک اس سے مراد بدر کے دن کفار کا شکست کھانا اور قتل ہونا ہے۔
٭ ﴿فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا ﴿٧٧﴾)
’’تم نے اس کی تکذیب کر دی ہے، اب جلد ہی اس کی سزا پاؤ گے۔
‘‘ (الفرقان77: 25)
جمہور مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد کفار کو پکڑ کر جہنم میں ڈالنا ہے جبکہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا موقف ہے کہ اس سے مراد بدر کے موقع پر کافروں کو قید کرنا ہے جو گزر چکا ہے۔
ان کی تفصیل آئندہ آیات کی تفسیر میں آئے گی۔
بإذن اللہ۔
(2)
اس حدیث میں ہجرت سے پہلے کا واقعہ بیان ہوا ہے۔
اس میں قحط کی شدت کا یہ عالم تھا کہ قحط شدہ علاقے ویرانے کا نقشہ پیش کر رہے تھے۔
بالآخر رسول اللہ ﷺ نے ابو سفیان ؓ کی درخواست پر دعا فرمائی، تب قحط ختم ہوا۔
(3)
یہ حدیث امام بخاری ؒ نے کتاب الاستسقاء میں اس لیے بیان کی ہے کہ جیسے مسلمانوں کے لیے بارش کی دعا کرنا مسنون ہے، ویسے ہی کافروں پر قحط اور خشک سالی کی دعا کرنا بھی مشروع ہے، لیکن جن کفار سے معاہدۂ صلح ہو ان کے لیے بددعا کرنا جائز نہیں الا یہ کہ وہ کسی عہد شکنی کے مرتکب ہوں۔
آپ نے دعا کی اور قریش کا قصور معاف کر دیا جیسے حضرت یوسف ؑ نے بھائیوں کا قصور معاف کردیا تھا۔
(وحیدی)
دوسری روایات میں ہے کہ جب قریش پر قحط کی سختی ہوئی تو ابو سفیان نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: آپ کنبہ پروری اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں اور آپ کی قوم کے لوگ بھوکے مر رہے ہیں ان کے لیے دعا فرمائیں کہ قحط سالی کا عذاب ٹل جائے۔
(صحیح البخاری، الاستسقاء، حدیث: 1007)
آپ نے دعا فرمائی اور قریش کا قصور معاف کردیا جیسے یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں اور عزیز مصر کی بیوی کو معاف کردیا تھا۔
عنوان اور اس حدیث میں یہی مناسبت ہے۔
(فتح الباری: 463/8)
واللہ اعلم۔
یعنی آپ نے مضر قبیلہ کے لئے تعجب سے فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نافرمان اور مشرک ہیں۔
تم بڑے جرأت مند ہو جو ایسے مشرکین کے لئے اللہ سے دعا کراتے ہو پھر آپ نے ان کے لئے بارش کی دعا فرمائی۔
(صلی اللہ علیه وسلم)
1۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا موقف ہے کہ "دخان" کا واقعہ گزر چکا ہے لیکن ہمارے رجحان کے مطابق "دخان" دو ہیں۔
ان میں سے ایک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ظاہر ہو چکا ہے اور دوسرا قرب قیامت کے وقت ظاہر ہو گا جیسا کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم کیا گفتگو کر رہے ہو؟‘‘ ہم نے کہا قیامت کا ذکر کر رہیں ہیں۔
آپ نے فرمایا: ’’بلا شبہ وہ قیامت ہر گز قائم نہیں ہو گی حتی کہ تم اس سے پہلے دس نشانیاں دیکھ لو۔
آپ نے دھویں اور دجال کا ذکر کیا۔
‘‘ (صحیح مسلم، الفتن، حدیث: 7285۔
(2901)
2۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ دخان دو ہیں ایک تو گزر چکا ہے اور دوسرا وہ ہو گا جس سے زمین و آسمان کا خلا بھرجائے گا مومن پر تو اس کاا ثر زکام جیسا ہو گا۔
مگر کافروں کے کان اس سے پھٹ جائیں گے۔
(التذکرة للقرطبي، ص: 655)
اس حدیث کے متعلق ہماری گزارشات پہلے گزر چکی ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کہنے کے مطابق "الدخان" کا واقعہ گزر چکا ہے لیکن قریش کو جو آسمان کے نیچے دھواں نظر آتا تھا وہ ان کا وہم تھا وہ حقیقی دھواں نہیں تھا۔
لیکن آیت میں جس دھویں کا ذکر ہے اس سے مراد حقیقی دھواں ہے جو لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ارشاد الٰہی: ’’یہ درد ناک عذاب ہے۔
‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ جب دھواں انھیں پریشان کرے گا تو لوگوں سے کہا جائے گا۔
کہ یہ درد ناک عذاب ہے اس کے متعلق ہم اپنا موقف پہلے بیان کر چکے ہیں۔
اس پر اللہ پاک نے پیش گوئی فرمائی کہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ رومی اہل فارس پر فتح پائیں گے۔
چنانچہ یہ پیش گوئی حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی۔
1۔
عہدرسالت میں دو بڑی طاقتیں تھیں: ایک فارس (ایران)
کی اور دوسری روم کی۔
اول الذکر حکومت آتش پرست اور دوسری عیسائی اہل کتاب کی تھی۔
مشرکین مکہ کی ہمدردیاں فارس کے ساتھ تھیں کیونکہ وہ غیر اللہ کے پجاری تھے جبکہ مسلمانوں کی ہمدردیاں روم کی عیسائی حکومت کے ساتھ تھیں کیونکہ عیسائی بھی مسلمانوں کی طرح اہل کتاب تھے اور وحی و رسالت پر ایمان رکھتے تھے۔
ان دونوں حکومتوں کی آپس میں ٹھنی رہتی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے چند سال بعد ایسا ہوا کہ فارس کی حکومت عیسائی حکومت پر غالب آگئی جس پر مشرکین کو خوشی اور مسلمانوں کو غم ہوا۔
اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں: الم (1)
﴿غُلِبَتِ الرُّومُ﴾ (2)
﴿فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُم مِّن بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ﴾2۔
ان آیات میں پیش گوئی کی گئی کہ چند سال کے اندر رومی پھرغالب آجائیں گے۔
بظاہر یہ پشین گوئی ناممکن العمل معلوم ہوتی تھی لیکن مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے یقین تھا کہ ایسا ضرور ہو کر رہے گا، چنانچہ رومی نو سال کی مدت کےاندر اندر، یعنی ساتویں سال غالب آگئے، جس سے مسلمانوں کو بہت خوشی ہوئی۔
(جامع الترمذي، تفسیرالقرآن، حدیث: 3193)
3۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ رومیوں کے غلبے کا واقعہ بھی وقوع پذیر ہوچکا ہے۔
واللہ اعلم۔
1۔
اس حدیث میں ایک قصہ خواں پر تعریض ہے وہ شخص قبیلہ کندہ میں وعظ و نصیحت کر رہا تھا دوران تقریر میں اس نے کہا: قیامت کے دن دھواں آئے گا جو منافقین کی سماعت و بصارت کو سلب کر لے گا اور مومن کو صرف زکام کا عارضہ لا حق ہو گا۔
ہم گھبرا کر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور ان سے یہ واقعہ بیان کیا تو وہ غصے سے بھر گئے اور تکیہ چھوڑ کر بیٹھ گئے اور یہ حدیث بیان کی۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4774)
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کافروں کے غلبے کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مانی اور کفر وشرک پر جمے رہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث پر متعدد عنوان قائم کیے ہیں مقصد یہ ہے کہ مذکورہ آیات کا پس منظر یہی واقعہ ہے۔
واللہ اعلم۔
اٹالیا کی طرف تو ایسے (آتش فشاں)
پہاڑ موجود ہیں جن میں سے رات دن آگ نکلتی ہے وہاں دھواں رہتا ہے اور کبھی کبھی زمین میں سے یہ گرم مادہ نکل کر دور دور تک بہتا چلا گیا ہے اور جو چیز سامنے آئی درخت آدمی جانور وغیرہ اس کو جلا کر خاک سیاہ کر دیا ہے۔
(وحیدی)
1۔
اس حدیث میں ہے کہ دھواں زمین سے نکلتا تھا جبکہ دوسری روایات میں ہے کہ یہ دھواں دیکھنے والے اور آسمان کے درمیان تھا؟ ان روایات میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ یہ بھی کفار کا گمان تھا کہ دھواں زمین سے نکلتا ہے جیسے وہ گمان تھا کہ ان کے اور آسمان کے درمیان دھواں ہے لہذا دونوں احادیث میں کوئی منافات نہیں ہے۔
2۔
اس کی ایک توجیہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ مسلسل بارش کے بند رہنے کی وجہ سے فضا بالکل گرم ہو گئی تھی تو زمین سے بخارات اوپر کو اٹھنے لگے پھر فضا میں چھا گئے اس لیے ان روایات میں کوئی تضاد نہیں کہ شروع میں دھواں زمین سے نکلتا نظر آتا۔
پھر آخر میں آسمان تک نظر آنے لگا۔
واللہ المستعان۔
مسروق کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے پاس آ کر کہا: ایک قصہ گو (واعظ) قصہ بیان کرتے ہوئے کہہ رہا تھا (قیامت کے قریب) زمین سے دھواں نکلے گا، جس سے کافروں کے کان بند ہو جائیں گے، اور مسلمانوں کو زکام ہو جائے گا۔ مسروق کہتے ہیں: یہ سن کر عبداللہ غصہ ہو گئے (پہلے) ٹیک لگائے ہوئے تھے، (سنبھل کر) بیٹھ گئے۔ پھر کہا: تم میں سے جب کسی سے کوئی چیز پوچھی جائے اور وہ اس کے بارے میں جانتا ہو تو اسے بتانی چاہیئے اور جب کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جسے وہ نہ جانتا ہو تو اسے «اللہ اعلم» ” اللہ بہتر جانتا ہے “ کہنا چاہیئے،۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3254]
وضاحت:
1؎:
کہہ دو میں تم سے اس کام پر کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، اور میں خود سے باتیں بنانے والا بھی نہیں ہوں (ص: 86)
2؎:
جس دن آسمان کھلا ہوا دھواں لائے گا یہ (دھواں) لوگوں کو ڈھانپ لے گا، یہ بڑا تکلیف دہ عذاب ہے (الدخان: 10)
3؎:
اے ہمارے رب! ہم سے عذاب کو ٹال دے ہم ایمان لانے والے ہیں (الدخان: 12)
«. . . وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عَلِمَ شَيْئًا فَلْيَقُلْ بِهِ وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلِ اللَّهُ أعلم فَإِن من الْعلم أَن يَقُول لِمَا لَا تَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ (قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنا من المتكلفين) . . .»
”. . . سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگو! جو شخص کسی بات کو جانتا ہو تو اسے بیان کر دینا چاہئے۔ اور جو نہیں جانتا (اس سے وہ دریافت کیا گیا) تو اسے یہ کہنا چاہئے «الله اعلم» ”اللہ خوب جانتا ہے۔“ یہ بھی ایک قسم کا علم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا: «قل ما أسألكم عليه من أجر وما أنا من المتكلفين» [بخاري و مسلم]۔ یعنی آپ فرما دیجئے کہ میں اس تبلیغ پر تم سے کوئی اجرت نہیں طلب کرتا اور نہ میں بات بنانے والوں میں سے ہوں۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 272]
[صحيح بخاري 4809]، [صحيح مسلم 7066]
فقہ الحدیث:
➊ جس مسئلے کا علم نہ ہو تو صاف بتا دینا چاہئے کہ مجھے پتا نہیں ہے یا میں نہیں جانتا اور خواہ مخواہ تکلف کر کے اپنا دماغی و اختراعی فتویٰ جاری نہیں کرنا چاہئے۔
➋ کتاب و سنت، اجماع اور آثار سلف صالحین کی پیروی میں ہی نجات ہے۔
◄ مولانا محمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ اور جماعت اہل حدیث کے اعیان و ارکان (1322ھ) میں لاہور شہر میں جمع ہوئے، اس اجلاس میں اس امر پر بحث ہوئی کہ اہل حدیث کے نام سے کون شخص موسوم ہو سکتا ہے؟ طویل بحث و مباحثہ کے بعد یہ قرار دیا گیا کہ ”اہل حدیث وہ ہے جو اپنا دستور العمل و الاستدلال احادیث صحیحہ اور آثار سلفیہ کو بناوے اور جب اس کے نزدیک ثابت و متحقق ہو جائے کہ ان کے مقابلہ میں کوئی معارض مساوی یا اس سے قوی نہیں پایا جاتا تو وہ ان احادیث و آثار پر عمل کرنے کو مستعد ہو جاوے اور اس عمل سے اس کو کسی امام یا مجتہد کا قول بلا دلیل مانع نہ ہو۔“ [تاريخ اهلِ حديث ج1 ص151، ازقلم ڈاكٹر محمد بهاؤالدين]
◄ مولانا محمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس معیار کے دوسرے درجہ پر جہاں صحیح حدیث نبوی نہ پائی جاتی ہو، دوسرا معیار سلفیہ آثار صحابہ کبار و تابعین ابرار و محدثین اخیار ہیں، جس مسئلہ اعتقادیہ و عملیہ میں صریح سنت نبوی کا علم نہ ہو، اس مسئلے میں اہل حدیث کا متمسک آثار سلفیہ ہوتے ہیں اور وہی مذہب اہل حدیث کہلاتا ہے۔“ [تاريخ اهلحديث ج 1 ص 157]
◄ حافظ عبداللہ روپڑی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”خلاصہ یہ کہ ہم تو ایک ہی بات جانتے ہیں وہ کہ سلف کا خلاف جائز نہیں۔“ [فتاويٰ اهلحديث ج 1 ص 111]
اس حدیث میں قیامت کی بعض علامتیں بیان ہوئی ہیں۔ حدیث کے شروع میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو ڈانٹ پلائی ہے جو بغیر علم کے کچھ کہتا ہے اور یہ بات سمجھائی کہ وہی کہو جس کا تم کو علم ہے۔ جس چیز کا علم نہیں ہے تو واضح کہہ دینا چاہیے۔ ” واللہ اعلم“ نہ کہ تکلف سے کام لیتے ہوئے غلط مسائل بتائے۔ یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تشریف فرما تھے، قحط کی شدت کا یہ عالم تھا کہ قحط زدہ علاقے ویران ہو گئے تھے۔ بعد میں بعض کفار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر رحم کی اپیل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، پھر جا کر قحط ختم ہوا۔ تینوں نشانیاں پوری ہو چکی ہیں۔ کافروں کے لیے دنیا اور آخرت دونوں جہانوں میں عذاب ہے، دنیا میں تھوڑا اور آخرت میں حقیقی عذاب سے دو چار ہوں گے۔