حدیث نمبر: 4763
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : اخْتَلَفَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي قَتْلِ الْمُؤْمِنِ ، فَرَحَلْتُ فِيهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : " نَزَلَتْ فِي آخِرِ مَا نَزَلَ وَلَمْ يَنْسَخْهَا شَيْءٌ " .
مولانا داود راز

´مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے ، ان سے مغیرہ بن نعمان نے ، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ` اہل کوفہ کا مومن کے قتل کے مسئلے میں اختلاف ہوا ( کہ اس کے قاتل کی توبہ قبول ہو سکتی ہے یا نہیں ) تو میں سفر کر کے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں پہنچا تو انہوں نے کہا کہ ( سورۃ نساء کی آیت جس میں یہ ذکر ہے کہ جس نے کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کیا اس کی جہنم ہے ۔ ) اس سلسلہ میں سب سے آخر میں نازل ہوئی ہے اور کسی دوسری سے منسوخ نہیں ہوئی ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4763
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4763. حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اہل کوفہ کا مومن کو جان بوجھ کر قتل کرنے کے متعلق اختلاف ہوا تو میں سفر کر کے حضرت ابن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے فرمایا: یہ آیت (سورہ نساء والی) اس سلسلے میں سب سے آخر میں نازل ہوئی ہے اور اس کو کسی آیت نے منسوخ نہیں کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4763]
حدیث حاشیہ:
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سورہ نساء کی جس آیت کا حوالہ دیا ہے وہ حسب ذیل ہے: ’’جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرڈالے تو اس کی سزا دوزخ ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔
اس پر اللہ کا غضب ہے۔
اس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
‘‘ (النساء: 93/4)
اس موقف پر ہم پہلے وضاحت کر آئے ہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4763 سے ماخوذ ہے۔