حدیث نمبر: 4729
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّهُ لَيَأْتِي الرَّجُلُ الْعَظِيمُ السَّمِينُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَزِنُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ ، وَقَالَ : اقْرَءُوا فَلا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا سورة الكهف آية 105 " ، وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، مِثْلَهُ .
مولانا داود راز

´ہم سے محمد بن عبداللہ ذہلی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، کہا ہم کو مغیرہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی ، کہا کہ مجھ سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلاشبہ قیامت کے دن ایک بہت بھاری بھر کم موٹا تازہ شخص آئے گا لیکن وہ اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی کوئی قدر نہیں رکھے گا اور فرمایا کہ پڑھو «فلا نقيم لهم يوم القيامة وزنا‏» ” قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن نہ کریں گے ۔ “ اس حدیث کو محمد بن عبداللہ نے یحییٰ بن بکیر سے ، انہوں نے مغیرہ بن عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے ابوالزناد سے ایسا ہی روایت کیا ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4729
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2785

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4729. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’قیامت کے دن ایک آدمی قد آور اور موٹا تازہ آئے گا جس کا اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے برابر بھی وزن نہ ہو گا۔ اگر اس کی تصدیق کرنا چاہو تو اس آیت کی تلاوت کرو: ’’قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن قائم نہ کریں گے۔‘‘ اس حدیث کو محمد بن عبداللہ نے یحییٰ بن بکیر سے، انہوں نے مغیرہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے ابولزناد سے ویسا ہی بیان کیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4729]
حدیث حاشیہ:
قیامت کے دن ترازو میں کس چیز کو تولا جائے گا؟ اس کے متعلق اہل علم کا اختلاف ہے۔
کچھ اہل علم کہتے ہیں کہ قیامت کے دن وزن اعمال کا ہو گا اور کچھ کہتے ہیں کہ اعمال کے صحیفوں کا وزن کیا جائے گا جبکہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وزن اشخاص کا ہوگا۔
ہر قول کی دلیل احادیث میں ملتی ہے جس کی تفصیل ہم کتاب التوحید میں بیان کریں گے البتہ دو قسم کے لوگ ایسے ہوں گے جن کے وزن کرنے کا اہتمام نہیں کیا جائے گا۔

۔
اہل ایمان میں سے وہ خوش قسمت ستر ہزار جو بلا حساب جنت میں جائیں گے۔

۔
وہ کافر جن کے نامہ اعمال میں کوئی نیکی ہوگی۔
ان کا وزن بھی نہیں ہو گا۔
ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کے اعمال صحائف اور خود عمل کرنے والوں کا وزن کیا جائے گا۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4729 سے ماخوذ ہے۔