صحيح البخاري
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
بَابُ رَفْعِ الصَّوْتِ فِي الْمَسَاجِدِ: باب: مساجد میں آواز بلند کرنا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا لَهُ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ ، " فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ وَنَادَى يَا كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : يَا كَعْبُ ، قَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكَ ، قَالَ كَعْبٌ : قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُمْ فَاقْضِهِ " .´ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھے یونس بن یزید نے خبر دی ، انہوں نے ابن شہاب زہری کے واسطہ سے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن کعب بن مالک نے بیان کیا ، ان کو ان کے باپ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ` انھوں نے عبداللہ ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنے ایک قرض کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسجد نبوی کے اندر تقاضا کیا ۔ دونوں کی آواز کچھ اونچی ہو گئی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے حجرہ سے سن لیا ۔ آپ اٹھے اور حجرہ پر پڑے ہوئے پردہ کو ہٹایا ۔ آپ نے کعب بن مالک کو آواز دی ، اے کعب ! کعب بولے ۔ یا رسول اللہ ! حاضر ہوں ۔ آپ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ وہ اپنا آدھا قرض معاف کر دے ۔ کعب نے عرض کی یا رسول اللہ ! میں نے معاف کر دیا ۔ آپ نے ابن ابی حدرد سے فرمایا اچھا اب چل اٹھ اس کا قرض ادا کر ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
مذکورہ احادیث کی تشریح کرتے ہوئے علامہ سندھی لکھتے ہیں کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے دونوں روایات کو ذکر کر کے تفصیل کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اگر آواز کا بلند کرنا بلا ضرورت ہو تو جائز نہیں اور اگر کسی ضرورت کے پیش نظر ہو تو جائز ہے۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا رجحان مطلق طور پر ممانعت کی طرف ہو کیونکہ جس روایت میں آواز بلند کرنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے انکار نہ کرنے کی بات معلوم ہو رہی ہے اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھگڑا ختم کرنے کے لیے فوراًمسئلہ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور وہ جھگڑا ختم کردیا جس کی وجہ سے مسجد میں آواز یں بلند ہو رہی تھیں۔
اس طرز عمل سےیہ سمجھا جا سکتا ہے کہ آپ نے اپنے عمل کے ذریعے سے یعنی مسئلہ ختم کرنے کے لیے فوری خلت فرما کر مسجد میں آواز بلند کرنے کی ممانعت واضح فرما دی(حاشیہ سندھی(1/93)
لیکن ہمارے نزدیک علامہ سندھی کا پہلا احتمال زیادہ قرین قیاس ہےکیونکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے طرز عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس مسئلے میں تفصیل کرنا چاہتے ہیں اور اس میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے ذوق کی رعایت بھی ہے کہ وہ دونوں روایات جمع کرکے یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مسجد میں آواز بلند کرنے کی ضرورت ہو اور اعتدال قائم رہے تو اس کی اجازت ہے اور اگر ضرورت نہ ہو یا آواز حد اعتدال سے اونچی ہو جائے اور شورو غوغاکی صورت پیدا ہو جائے تو اس کی اجازت نہیں۔
آپ نے اس عنوان کے تحت دو روایات ذکر کی ہیں اور دونوں سے متضاد باتیں سمجھ میں آتی ہیں پہلی روایت سے ممانعت معلوم ہوتی ہے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آواز بلند کرنے پر سخت تنبیہ فرمائی بلکہ جلد از جلد معاملے کا فیصلہ فرما کر بات ختم کردی۔
اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اس مسئلے میں تفصیل کی طرف مائل ہیں جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے عنوان کی وضاحت کرتےہوئے لکھتے ہیں کہ آپ مسجد میں آواز بلند کرنے کی کراہت بیان کرنا چاہتے ہیں کہ یہ عمل اہل تقوی کے شایان شان نہیں۔
2۔
پہلی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے سزا دینے میں درگزر فرمایا کیونکہ انھیں اس مسئلے کاعلم نہیں تھا بعض روایات میں ہے کہ آپ نے فرمایا: میں تمھیں کوڑے مارنے کی سزا دیتا کہ تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں بڑی بے باکی سے بلا ضرورت شور و غل کر رہے ہو۔
ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت مرفوع حدیث کا درجہ حاصل ہے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوڑوں کی سزا دینے پر آمادہ تھے۔
اس قسم کی سزا کی دھمکی صرف ایسے امر کی مخالفت پر دی جا سکتی ہے جو توفیقی ہو۔
(فتح الباری: 1/726۔
)
3۔
دوسری حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قرض خواہ مقروض کو جس قدر رعایت دے سکتا ہو اس سے بخل نہیں کرنا چاہیے ارشاد باری تعالیٰ ہے:)
وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ ۚ وَأَن تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ)
\\\"اور اگر مقروض تنگ دست ہو تو اسے آسودہ حالی تک مہلت دو، اگر (راس المال)
صدقہ کردو تو یہ تمھارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم سمجھ سکو۔
\\\"(البقرۃ: 2/280۔
)
مگر مقروض کا بھی فرض ہے کہ جہاں تک ہو سکے پورا قرض ادا کرکے خود کو اس بوجھ سے آزاد کرے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دانستہ ٹال مٹول کو ظلم قراردیا ہے اس کی وجہ سے اس کی بے عزتی بلکہ اسے سزا دی جا سکتی ہے۔ w
جو قرض خواہ کے اعمال خیر میں لکھا جاے گا ﴿وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ﴾ (البقرة: 280)
آیت قرآنی کا یہی مطلب ہے۔
(1)
امام بخاری ؒ نے اس عنوان سے ایک اخلاقی مسئلے کی طرف اشارہ کیا ہے۔
جمہور کا موقف ہے کہ حاکم کو صلح کے متعلق حکم دینے کا اختیار ہے اگرچہ فریقین میں سے کسی کی حق تلفی ہی کیوں نہ ہو جبکہ مالکیہ کا کہنا ہے کہ حاکم کو کسی کی حق تلفی کا اختیار نہیں ہے۔
امام بخاری ؒ کا رجحان پہلے موقف کی طرف ہے جیسا کہ مذکورہ حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔
(2)
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے کہ حضرت کعب ؓ کا قرض دو اوقیے چاندی تھا۔
انہوں نے ایک اوقیہ وصول کر کے دوسرا معاف کر دیا۔
(المصنف لابن أبي شیبة: 780/7)
قرض کے متعلق صلح کا مطلب یہ ہے کہ اس میں کچھ کمی کر دی جائے۔
اس کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ ہے کہ آئندہ ادائیگی کے وعدے پر اس میں کمی کر دی جائے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد پاتے ہی حضرت کعب بن مالک ؓ نے اپنے مقروض کا نصف قرض معاف کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اٹھو اور باقی ماندہ نصف جلد ادا کر دو۔
‘‘ دوسری یہ ہے کہ نقد ادا کرنے پر اس میں سے کچھ کم کر دیا جائے، یعنی تین سو روپے قرض کی فوری ادائیگی پر ایک سو روپیہ چھوڑ دیا جائے، دو سو روپیہ وصول کر کے مقروض کو رہا کر دیا جائے۔
حدیث میں نقد ادائیگی کا ذکر نہیں ہے۔
امام بخاری ؒ نے نقد کو قرض پر قیاس کیا ہے۔
جب قرض میں صلح ہو سکتی ہے تو نقد ادائیگی میں بطریق اولیٰ صلح ہونی چاہیے۔
اور بے حد خوش قسمت ہیں وہ دونوں فریق جنہوں نے دل و جان سے آپ کا یہ فیصلہ منظور کر لیا۔
مقروض اگر تنگ دست ہے تو ایسی رعایت دینا ضروری ہو جاتا ہے۔
اور صاحب مال کو بہر صورت صبر اور شکر کے ساتھ جو ملے وہ لے لینا ضروری ہوجاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فریقین کے درمیان جھگڑا ختم کرنے کے لیے ایک بہترین راستہ اختیار فرمایا۔
مقروض اگر تنگ دست ہو تو اسے رعایت دینا ضروری ہے اور ایسے حالات میں صاحب مال کو جو کچھ ملے اسے صبروشکر سے قبول کر لینا چاہیے۔
امام بخاری ؒ نے اپنا مدعا اس طرح ثابت کیا ہے کہ ان دونوں حضرات کی آوازیں جھگڑے کی بنا پر بلند ہونے لگیں۔
بعض روایات میں صراحت ہے کہ وہ دونوں آپس میں تکرار کرنے اور جھگڑنے لگے۔
اس سے معلوم ہوا کہ کسی جھگڑے میں مدعی اور مدعا علیہ ایک دوسرے کو سخت سست کہیں تو ایسا ممکن ہے لیکن وہ اخلاقی اور شرعی حدود سے آگے نہ بڑھیں۔
(فتح الباري: 94/5)
1۔
امام بخاری ؒ کے قائم کردہ عنوان کے دو جز ہیں:۔
قرض کاتقاضاکرنا۔
اس کے پیچھے پڑنا۔
اس روایت میں تقاضا کرنے کا ذکر ہے، پیچھا کرنے اور گھیراؤ کرنے کا ذکر نہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ تقاضا اس وقت ہوتاہے جب قرض دار کا گھیراؤ کرلیا جائے۔
پھر روایت کے عنوان سے گھیراؤ کرنے کا ثبوت خودبخود ہورہا ہے کہ حضرت کعب بن مالک ؓ نےحضرت ابن ابی حدرد سے جو گفتگو کی یہ اس انداز سے ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ کو اپنے حجرے سے باہر آکر معاملہ اپنے ہاتھ میں لے کر فیصلہ کرنا پڑا۔
اس سے صرف تقاضا ہی نہیں بلکہ اس کے پیچھے پڑنا اور اس کاگھیراؤ کرنا بھی ثابت ہورہا ہے۔
پھر امام بخاری ؒ نے اس روایت کے ایک طریق میں اس کی وضاحت فرمائی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ حضرت کعب بن مالک کا حضرت عبداللہ بن ابی حدرد کے ذمے کچھ قرض تھا، وہ ان سے ایک دن ملے اور ان کا گھیراؤ کرلیا۔
(صحیح البخاري، الخصومات، حدیث: 2424)
اس روایت سے پیچھا کرنا بھی ثابت ہوگیا۔
امام بخاری ؒ کی خوبیوں سے ہے کہ حدیث کے تمام طرق میں ان کا ذہن گھومتا رہتا ہے۔
فن حدیث میں کامل ہونے کی یہی علامت ہے، کیونہ جب تک حدیث کے تمام متون اور طرق پر نظر نہ ہو، کوئی مسئلہ پوری طرح واضح نہیں ہوسکتا۔
2۔
حافظ ابن حجر ؒ نے طبرانی کے حوالے سےلکھا ہے کہ عبداللہ بن ابی حدرد ؓ کے ذمے دواوقیے چاندی تھی۔
ایک اوقیہ چاندی معاف ہونے کے بعد باقی اوقیہ کی فوری ادائیگی کو ضروری قراردیا گیا، نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہواکہ کسی ضرورت کے پیش نظر مسجد میں باآواز بلند گفتگو کرناجائز ہے۔
البتہ بلاوجہ مسجد میں آواز بلند کرنا درست نہیں، جیساکہ امام بخاری ؒ خود اس کی وضاحت فرمائیں گے۔
(فتح الباري: 714/1)
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ابن ابی حدرد سے اپنے اس قرض کا جو ان کے ذمہ تھا مسجد کے اندر تقاضا کیا تو ان دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنا آپ اپنے گھر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کی طرف نکلے یہاں تک کہ اپنے کمرے کا پردہ اٹھا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو پکارا اور کہا: ” اے کعب! “ تو انہوں نے کہا: حاضر ہوں، اللہ کے رسول! پھر آپ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ آدھا قرضہ معاف کر دو، کعب نے کہا: میں نے معاف کر دیا اللہ کے رسول۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3595]
فائدہ: قاضی اور حاکم کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ عوام کے تنازعات میں ان کی صلح کرا دے۔
اور مالی حقوق میں صاحب حق خوشی سے اگر اپنا حق چھوڑدے تو جائز ہے، صلح میں جبر نہیں ہے۔
کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنے قرض کا جو ان کے ذمہ تھا تقاضا کیا، ان دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی دیں، آپ اپنے گھر میں تھے، چنانچہ آپ ان کی طرف نکلے، پھر اپنے کمرے کا پردہ اٹھایا اور پکارا: ” کعب! “ وہ بولے: حاضر ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ” اتنا قرض معاف کر دو “ اور آپ نے آدھے اشارہ کیا۔ کہا: میں نے معاف کیا، پھر آپ نے (ابن ابی حدرد [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5410]
(2) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر بوقت ضرورت کبھی مسجد میں آواز اونچی ہو جائے تو کوئی حرج نہیں، البتہ اس کو معمول بنانا اور خواہ مخواہ اپنی آواز مسجد میں بلند اور اونچی کرنا درست نہیں۔
(3) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ایسا اشارہ جس سے مفہوم سمجھ میں آجائے وہ بمنزلہ کلام کے ہوتا ہے کیونکہ اس اشارے کی دلالت کلام پر ہوتی ہے۔ بنا بریں گونگے کی گواہی، اس کی قسم، اس کی خرید و فروخت اور دیگر معاملات درست قرار پائیں گے۔
(4) یہ حدیث اس مسئلے کی بھی وضاحت کرتی ہے ہے کہ اگر صاحب حق سے سفارش کرکے اس کے حق میں سے سارا یا کچھ معاف کرا لیا جائے تو ایسا کرنا شرعاً درست ہے، نیز صاحب حق یا کسی دوسرے شخص کو اگر جائز سفارش کی جائے، تو سے سفارش قبول کر لینی چاہیے۔
(5) مسجد میں ادائیگی قرض کا مطالبہ اور تقاضا کرنا درست ہے، نیز قرض کے علاوہ اپنےدیگر حقوق کا مطالبہ بھی مسجد میں کیا جاسکتا ہے۔
(6) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی ضرورت کی بنا پر کھڑکیوں اور دروازوں پرپردے لٹکانا شرعاً جائز اور درست ہے۔
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مسجد نبوی میں ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا مطالبہ کیا یہاں تک کہ ان دونوں کی آوازیں اونچی ہو گئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے گھر میں سے سنا تو آپ گھر سے نکل کر ان کے پاس آئے، اور کعب رضی اللہ عنہ کو آواز دی، تو وہ بولے: حاضر ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اپنے قرض میں سے اتنا چھوڑ دو “، اور اپنے ہاتھ سے آدھے کا اشارہ کیا، تو وہ بولے: میں نے چھوڑ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ” اٹھو، جاؤ ان۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2429]
فوائد و مسائل:
(1)
قرض خواہ مقروض سےقرض کی واپسی کا تقاضا کرسکتا ہے۔
(2)
دوآدمیوں میں کسی بات پرجھگڑا ہو جائے تو صلح کرا دیں چاہیے خاص طورپروہ شخص جس کوجھگڑنے والوں پر کسی قسم کی فضیلت حاصل ہو اوراس کی بات مانی جاتی ہو تو اس کےلیے ضروری ہے کہ جھگڑا ختم کرائے۔
(3)
صلح کے لیے صاحب حق اپنا کچھ حق چھوڑ دے تو بہت ثواب کی بات ہے۔