صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ: {أَلاَ إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ أَلاَ حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ} : باب: آیت کی تفسیر ”خبردار ہو، وہ لوگ جو اپنے سینوں کو دہرا کئے دیتے ہیں، تاکہ اپنی باتیں اللہ سے چھپا سکیں وہ غلطی پر ہیں، اللہ سینے کے بھیدوں سے واقف ہے۔ خبردار رہو! وہ لوگ جس وقت چھپنے کے لیے اپنے کپڑے لپیٹتے ہیں (اس وقت بھی) وہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں، بیشک وہ (ان کے) دلوں کے اندر (کی باتوں) سے خوب خبردار ہے“۔
حدیث نمبر: 4681
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَبَّاحٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ : 0 أَلَا إِنَّهُمْ تَثْنَوْنِي صُدُورُهُمْ 0 ، قَالَ : " سَأَلْتُهُ عَنْهَا " ، فَقَالَ : " أُنَاسٌ كَانُوا يَسْتَحْيُونَ أَنْ يَتَخَلَّوْا ، فَيُفْضُوا إِلَى السَّمَاءِ وَأَنْ يُجَامِعُوا نِسَاءَهُمْ ، فَيُفْضُوا إِلَى السَّمَاءِ فَنَزَلَ ذَلِكَ فِيهِمْ " .مولانا داود راز
´ہم سے حسن بن محمد بن صباح نے بیان کیا ، کہا ہم سے حجاج بن محمد اعور نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ کو محمد بن عباد بن جعفر نے خبر دی اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ` آپ آیت کی قرآت اس طرح کرتے تھے «ألا إنهم تثنوني صدورهم» میں نے ان سے آیت کے متعلق پوچھا ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اس میں حیاء کرتے تھے کہ کھلی ہوئی جگہ میں حاجت کے لیے بیٹھنے میں ، آسمان کی طرف ستر کھولنے میں ، اس طرح صحبت کرتے وقت آسمان کی طرف کھولنے میں پروردگار سے شرماتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
4681. محمد بن عباد بن جعفر سے روایت ہے، انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ کو سنا: وہ آیت کی قراءت اس طرح کرتے تھے: ﴿أَلَا إِنَّهُمْ تَثْنَوْنِي صُدُورُهُمْ﴾ میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: کچھ لوگ اس میں شرم کرنے لگے کہ آسمان کی طرف اپنا ستر کھول کر قضائے حاجت کریں اور شرماتے تھے کہ ستر کھول کر اپنی بیویوں سے جماع کریں تو ایسے لوگوں کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4681]
حدیث حاشیہ: شرم کے مارے جھکے جاتے تھے، دہرے ہوئے جاتے تھے اسی باب میں یہ آیت نازل ہوئی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4681 سے ماخوذ ہے۔