صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ: {إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلاَئِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الأَرْضِ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا} الآيَةَ: باب: آیت کی تفسیر ”بیشک ان لوگوں کی جان جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کر رکھا ہے۔ (جب) فرشتے قبض کرتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں کہ تم کس کام میں تھے، وہ بولیں گے ہم اس ملک میں بیبس کمزور تھے، فرشتے کہیں گے کہ کیا اللہ کی سر زمین فراخ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے“۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ وَغَيْرُهُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو الْأَسْوَدِ ، قَالَ : قُطِعَ عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ بَعْثٌ ، فَاكْتُتِبْتُ فِيهِ ، فَلَقِيتُ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَنَهَانِي عَنْ ذَلِكَ أَشَدَّ النَّهْيِ ، ثُمَّ قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا مَعَ الْمُشْرِكِينَ ، يُكَثِّرُونَ سَوَادَ الْمُشْرِكِينَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَأْتِي السَّهْمُ فَيُرْمَى بِهِ ، فَيُصِيبُ أَحَدَهُمْ ، فَيَقْتُلُهُ أَوْ يُضْرَبُ فَيُقْتَلُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ سورة النساء آية 97 الْآيَةَ . رَوَاهُ اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ .´ہم سے عبداللہ بن یزید المقری نے بیان کیا ، کہا ہم سے حیوہ بن شریح وغیرہ ( ابن لہیعہ ) نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن ابوالاسود نے بیان کیا ، کہا کہ` اہل مدینہ کو ( جب مکہ میں ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی خلافت کا دور تھا ) شام والوں کے خلاف ایک فوج نکالنے کا حکم دیا گیا ۔ اس فوج میں میرا نام بھی لکھا گیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عکرمہ سے میں ملا اور انہیں اس صورت حال کی اطلاع کی ۔ انہوں نے بڑی سختی کے ساتھ اس سے منع کیا اور فرمایا کہ مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی تھی کہ کچھ مسلمان مشرکین کے ساتھ رہتے تھے اور اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ان کی زیادتی کا سبب بنتے ، پھر تیر آتا اور وہ سامنے پڑ جاتے تو انہیں لگ جاتا اور اس طرح ان کی جان جاتی یا تلوار سے ( غلطی میں ) انہیں قتل کر دیا جاتا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين توفاهم الملائكة ظالمي أنفسهم» ” بیشک ان لوگوں کی جان جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کر رکھا ہے ( جب ) فرشتے قبض کرتے ہیں ۔ “ آخر آیت تک ۔ اس روایت کو لیث بن سعد نے بھی ابوالاسود سے نقل کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
یہ اس دور کی بات ہے جب حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ نے مکہ مکرمہ میں خلافت کا دعویٰ کیا۔
انھوں نے اہل شام سے جنگ کرنے کےلیے اہل مدینہ کو ایک لشکر تیار کرنے کا حکم دیا۔
اس لشکر میں ابوالاسود کا نام بھی لکھا گیا۔
حضرت عکرمہ ؒ نے انھیں سختی سے منع کیا۔
ان کا مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مذمت کی ہے جو مشرکین کی تعداد بڑھانے کے لیے ان کے ساتھ جاتے تھے، حالانکہ وہ دل سے مسلمانوں کے ساتھ لڑنا نہیں چاہتے تھے۔
ابوالاسود کا بھی یہ حال تھا۔
وہ دل سے اہل شام کے خلاف لڑنا نہیں چاہتے تھے کیونکہ یہ جنگ فی سبیل اللہ نہیں بلکہ صرف ملک گیری کے لیے تھی۔
ان کا مقصد صرف ان کی تعداد کو بڑھانا تھا، اس لیے حضرت عکرمہ ؒ نے انھیں بڑی سختی کے ساتھ لشکر میں شمولیت سے منع کیا۔
2۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اسلام اور اہل اسلام کے خلاف دشمن کی فوج میں بھرتی ہو۔
واللہ المستعان۔
من کثر سواد قوم الخ کا یہی مطلب ہے۔
1۔
جس لشکر میں ابوالاسود کا نام لکھا گیا تھا وہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت میں اہل شام کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے تیار ہوا تھا۔
ابوالاسود نے حضرت عکرمہ سے اس کا ذکر کیا تو انھوں نے منع کر دیا۔
ابوالاسود نے کہا: میرا مقصود اہل شام سے لڑنا نہیں بلکہ میں تو صرف لشکر کی تعداد بڑھانا چاہتا ہوں۔
اس پر حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مذمت کی ہے جو مسلمانوں سے لڑنے کے لیے نہیں بلکہ مشرکین کی تعداد بڑھانے کے لیے ان کے ساتھ جاتے تھے۔
تمہارا مقصد بھی یہی ہے تم بھی اپنے لشکر کی تعداد بڑھانا چاہتے ہو۔
تمہارا اہل شام سے لڑنے کا پروگرام نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ کو یہ بھی پسند نہیں ہے کہ کیونکہ اس نے ان مسلمانوں کو ظالم اور گناہ گار ٹھہرایا ہے۔
2۔
اس سے معلوم ہوا کہ فتنے کے زمانے میں جو فتنہ پروروں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اگرچہ اس کی نیت کتنی ہی صاف ہو، اللہ تعالیٰ کو یہ ادا پسند نہیں ہے، لہذا ایسے نازک حالات میں ایک مسلمان کو خوب سوچ سمجھ کر کوئی اقدام کرنا چاہیے اس کے کسی قول وفعل سے دوسروں کو غلط فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
واللہ أعلم۔