حدیث نمبر: 4558
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : قَالَ عَمْرٌو : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : " فِينَا نَزَلَتْ إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلا وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا سورة آل عمران آية 122 ، قَالَ : نَحْنُ الطَّائِفَتَانِ : بَنُو حَارِثَةَ ، وَبَنُو سَلِمَةَ ، وَمَا نُحِبُّ ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : " وَمَا يَسُرُّنِي أَنَّهَا لَمْ تُنْزَلْ لِقَوْلِ اللَّهِ وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا سورة آل عمران آية 122 .
مولانا داود راز

´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا عمرو بن دینار نے کہا ، انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` ہمارے ہی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی ، جب ہم سے دو جماعتیں اس کا خیال کر بیٹھی تھیں کہ ہمت ہار دیں ، درآں حالیکہ اللہ دونوں کا مددگار تھا ۔ سفیان نے بیان کیا کہ ہم دو جماعتیں بنو حارثہ اور بنو سلمہ تھے ۔ حالانکہ اس آیت میں ہمارے بودے پن کا ذکر ہے ، مگر ہم کو یہ پسند نہیں کہ یہ آیت نہ اترتی کیونکہ اس میں یہ مذکور ہے کہ اللہ ان دونوں گروہوں کا مددگار ( سر پرست ) ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4558
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
4558. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: درج ذیل آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی تھی: ﴿إِذْ هَمَّت طَّائِفَتَانِ مِنكُمْ أَن تَفْشَلَا وَاللَّـهُ وَلِيُّهُمَا﴾ دو گروہوں سے مراد ہم، یعنی بنو حارثہ اور بنو سلمہ ہیں، تاہم ہمیں یہ بات پسند نہیں کہ یہ آیت نازل نہ ہوتی کیونکہ اس میں اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے: "اللہ تعالٰی ان دونوں گروہوں کا سرپرست ہے۔"[صحيح بخاري، حديث نمبر:4558]
حدیث حاشیہ: اس سے بڑھ کر اور فضیلت کیا ہو گی کہ ولایت الٰہی ہم کو حاصل ہو گئی۔
ہمارے بودے پن کا جو ذکر ہے وہ صحیح ہے۔
اس فضیلت کے سامنے ہم کو اس عیب کے فاش ہونے کا بالکل ملال نہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4558 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4558. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: درج ذیل آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی تھی: ﴿إِذْ هَمَّت طَّائِفَتَانِ مِنكُمْ أَن تَفْشَلَا وَاللَّـهُ وَلِيُّهُمَا﴾ دو گروہوں سے مراد ہم، یعنی بنو حارثہ اور بنو سلمہ ہیں، تاہم ہمیں یہ بات پسند نہیں کہ یہ آیت نازل نہ ہوتی کیونکہ اس میں اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے: "اللہ تعالٰی ان دونوں گروہوں کا سرپرست ہے۔"[صحيح بخاري، حديث نمبر:4558]
حدیث حاشیہ:

غزوہ اُحد میں مسلمانوں کا لشکر ایک ہزار افراد پر مشتمل تھا جبکہ مشرکین کی تعداد تین ہزار تھی، دوران کوچ رئیس المنافقین اپنے تین سو افراد لے کر واپس ہوگیا تو خزرج میں سے بنو سلمہ اور اوث میں سے بنوحارثہ نے بھی منافقین کے ساتھ کھسک جانے کا بزدلانہ ارادہ کیا۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے انھیں بچا لیا، چنانچہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ کوچ جاری رکھا۔

حضرت جابرؓ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ اس آیت میں ہماری کمزوری کا ذکر ہے لیکن اس فضیلت کے سامنے ہمیں اپنے اس عیب کے فاش ہونے کا بالکل ملال نہیں کیونکہ اس میں ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی سرپرستی کا بھی ذکر ہے، ہمیں تو اللہ تعالیٰ کی ولایت حاصل ہوگئی۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4558 سے ماخوذ ہے۔